صدارتی انتخابات کا بائیکاٹ وجیہہ کے کہنے پر نہیں کیا‘ پہلے کیا نتیجہ نکلا‘ اے پی سی میں شریک نہیں ہوں گا : عمران خان

 صدارتی انتخابات کا بائیکاٹ وجیہہ کے کہنے پر نہیں کیا‘ پہلے کیا نتیجہ نکلا‘ اے پی سی میں شریک نہیں ہوں گا : عمران خان

 لاہور (نیوز رپورٹر+ نوائے وقت رپورٹ) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ مجوزہ حکومتی اے پی سی میں شریک نہیں ہونگا کیونکہ اس کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ تین اے پی سی پہلے بھی ہو چکی ہیں ان کے کیا نتائج نکلے؟ جمہوریت کے لئے سڑکوں پر نکلنا پڑا تو نکلیں گے۔ بلدیاتی انتخابات میں وسیع پیمانے پر پنجاب اور سندھ میں دھاندلی کی تیاری کی جارہی ہے ۔ اپوزیشن کے بائیکاٹ کے بعد صدارتی انتخاب متنازعہ ہوگیا ہے، صدارتی انتخابات کا بائیکاٹ کرنا چاہتا تھا لیکن جسٹس (ر) وجیہہ الدین کی درخواست پر میدان خالی نہیں چھوڑا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور میں کارکنوں سے خطاب اور صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر صدارتی امیدوار جسٹس (ر) وجیہہ الدین‘ پنجاب کے صدر اعجاز چودھری‘ اپوزیشن لیڈر میاںمحمود الرشید اور دیگر موجود تھے۔ عمران خان نے کہا کہ حالیہ الیکشن میں بدترین دھاندلی کی وجہ سے ملک آج مسائل میں مبتلا ہے۔ تحریک انصاف نے عدلیہ کی بحالی کے لئے بڑا کردار ادا کیا مگر افسوس عدلیہ ایک سیاسی جماعت کی حمایت کر ہی ہے۔ کارکنوں سے کہتا ہوںکہ وہ تیار رہیں، جمہوریت کے دفاع کے لئے کسی وقت بھی سڑکوں پر آنے کی کال دی جا سکتی ہے ‘ کچھ معاملات اے پی سی میں زیر بحث نہیں آ سکتے اسکے لئے نوازشریف اور جنرل کیانی سے کہا کہ ان سے الگ ملاقات کرنا چاہتا ہوں ۔ انہوں نے کہاکہ عام انتخابات میں عدلیہ اور الیکشن کمشن کا کردار انتہائی شرمناک تھا، اسکے خلاف ہماری اپیلیں موجود ہیں۔ حکومت کی طرف سے عید الفطر کے بعد بلائی جانےوالی مجوزہ آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت سے انکار کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اس سے پہلے بھی کانفرنسز ہوئیں بتایا جائے انکے کیا نتائج نکلے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ممنون حسین متنازعہ اور نوازشریف کے کٹھ پتلی صدر ہونگے۔ عمران نے کہا کہ تین دن میں کون پورے ملک میں انتخابی مہم چلا سکتا ہے، الیکشن کمشن نے صدارتی الیکشن کو بھی متنازعہ بنا دیا ہے، اس حوالے سے اپوزیشن کے موقف کی حمایت کرتے ہیں۔ میں خود صدارتی انتخاب کے بائیکاٹ کے حق میں تھا، ہم احتجاجاً صدارتی انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں۔ تحریک انصاف کے امیدوار غیر جانبدار شخصیت ہیں۔ انہوںنے پی سی او پر حلف نہیں اٹھایا اگر وہ صدر بن گئے تو غیر جانبدار رہیں گے، عام انتخابات میں تحریک انصاف کو باہر رکھنے کے لئے دھاندلی کی گئی لیکن ہم نے ملک کی خاطر تحفظات کے باوجود انکے مینڈیٹ کو تسلیم کیا، دھاندلی کی تحقیقات کے لئے ہماری اپیلیں موجود ہیں اور ہم امید لگائے ہاتھ باندھے انتظار کررہے ہیں۔ انتخابات میں دھاندلیوں کے حوالے سے چھان بین کر لی ہے اور وائٹ تیار ہے۔ انہوں نے کہاکہ انتخابات میں ریٹرننگ افسروں نے انتہائی شرمناک کردار ادا کیا۔ اپوزیشن کی طرف سے صدارتی الیکشن کے بائیکاٹ سے یہ متنازعہ ہوگیا ہے، ہم پھر بھی انکے ضمیر کو جگانے کے لئے ایک او رموقع دینا چاہتے ہیں کیونکہ ضمیر کوجگانا بڑا مشکل کام ہے۔ میں پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ دہشتگردی اس ملک کے لئے بڑا اہم مسئلہ ہے۔ پرویز مشرف کہتے رہے کہ انہوںنے ڈرون حملوںکی اجازت نہیں دی لیکن اب انہوںنے کچھ روز قبل بیان دیا ہے کہ ڈرون حملوںکی اجازت دی تھی۔ اسی طرح وکی لیکس کے مطابق سابقہ حکومت نے بھی اسی طرح کا طرز عمل اپنایا اور امریکی حکومت سے کہا گیا کہ آپ ڈرو ن حملے کرتے رہیں اور ہم مذمت کرتے رہیں گے۔ جب نوازشریف میری خیریت دریافت کرنے آئے تھے تو انہیں بھی کہا تھا کہ دہشتگردی اہم مسئلہ ہے اور میں آ پ سے اور جنرل کیانی سے الگ سے ملاقات کرنا چاہتا ہوں ۔ جب جنرل کیانی نے خیریت دریافت کرنے کےلئے فون کیا تو انہیںبھی یہی کہا۔ کچھ چیزیں اے پی سی میں سامنے نہیں آ سکتیں، ہمیں نہیں پتہ کہ کیا خفیہ معاہدے کئے گئے ہیں۔ میں وزیراعظم نواز شریف اور جنرل کیانی بند کمرے میں سچ سننا چاہتا ہوں، معاہدوں کے بارے میں آگاہی حاصل کرنا چاہتا ہوں یہ ہمیں مجبوریاں بتائیں ہو سکتا ہے کہ ہم اس میں کوئی اچھا مشورہ دے سکیں۔ کراچی میں بیس ہزار لوگ مارے گئے ہیں لیکن آج تک ایک بھی ٹارگٹ کلر نہیں پکڑا گیا۔ الطاف حسین کی تین تلوار کی تقریر پر برطانوی ہائی کمشنر سے رابطہ کیا تھا اور کہا تھا کہ اگر ہمارے لوگوں کو کچھ ہوا تو اسکی ذمہ داری آپ کی حکومت پر ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے آزاد عدلیہ کےلئے جدوجہد کی، آزاد عدلیہ کے لئے میں جیل میں گیا کئی جلسے کئے اور لانگ مارچ کئے ۔ ایسا لگتاہے کہ عدلیہ ایک پارٹی کی حمایت کر رہی ہے۔ انہوںنے کہاکہ ضمنی انتخابات میں بھی دھاندلی کرنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں اور سندھ او رپنجاب میں یہ سلسلہ شروع ہے ۔ میر ا چیلنج ہوگا کہ اپوزیشن خیبرپی کے میں سرکاری مشینری کے استعمال کا الزام نہیں لگا سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) پنجاب میں جو بلدیاتی نظام لا رہی ہے وہ برطانوی راج سے بھی بدتر ہے،مجوزہ بل کے تحت مقامی منتخب ارکان کی بجائے بیورو کریسی کو سارے اختیارات مل جائیں گے۔دریں اثناءعمران خان کا کہنا ہے کہ انتخابی مہم کے دوران لاہور میں لفٹر سے گرنے کی وجہ سے ان کی زندگی بچ گئی۔ لاہور جلسے کے اگلے دن دہشت گرد انہیں نشانہ بنانہ چاہتے تھے۔ عمران خان نے ایک برطانوی اخبار میں لکھے گئے مضمون میں کہا کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ وہ دہشت گردوں کی ہٹ لسٹ میں سب سے پہلے نمبر پر تھے۔ عمران خان کے مطابق یہ بات اس وقت کے وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے ان کی عیادت کے موقع پر بتائی۔ عمران خان نے لکھا ہے کہ رحمٰن ملک نے بتایا کہ دہشت گرد انہیں لاہور جلسے کے اگلے دن نشانہ بنانا چاہتے تھے۔ عمران خان کے مطابق انتخابات سے قبل ان کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈا پھیلایا گیا جس کے باعث ان کی زندگی کو حقیقی خطرات لاحق تھے۔ عمران خان نے لکھا کہ پاکستان میں شدت پسندوں کے 25 کے قریب گروپ ہیں جو سب خود کو طالبان کہتے ہیں۔ عمران خان کے مطابق ان کے سیاسی مخالفین ان میں کسی بھی گروپ کو استعمال کرسکتے تھے۔