صدارتی انتخابات‘ سینٹ‘ اسمبلیوں کے اجلاس آج طلب

صدارتی انتخابات‘ سینٹ‘ اسمبلیوں کے اجلاس آج طلب

اسلام آباد+لاہور (خبرنگار خصوصی+سپیشل رپورٹ+خصوصی نامہ گار+ایجنسیاں) صدارتی انتخاب کیلئے طلب کردہ قومی اسمبلی، سینٹ اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے اجلاس آج پیر کو ہونگے جبکہ صدارتی انتخاب کل منگل کو ہوگا۔ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 30 جولائی کو طلب کیا گیا ہے۔ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ایوانوں کو صدارتی الیکشن کا پولنگ سٹیشن بنانے کیلئے قرارداد کے ذریعے اجازت لی جائیگی۔ پیپلز پارٹی نے صدارتی انتخابات کے روز پارلیمنٹ ہاﺅس نہ جانے کا فیصلہ کیا ہے اور آج پارلیمانی پارٹی کا اجلاس طلب کر لیا گیا۔ پارلیمانی پارٹی اجلاس میں احتجاجی پروگرام کو حتمی شکل دی جائیگی۔ اپوزیشن جماعتوں اے این پی ‘ (ق) لیگ کو آگاہ کردیا گیا۔ صدارتی انتخاب کیلئے حروف تہجی کے مطابق بیلٹ پیپرز شائع ہوگئے ہیں جس کے مطابق حکمران اتحاد کے صدارتی امیدوار ممنون حسین کا نام پہلے جبکہ تحریک انصاف کے صدارتی امیدوار وجیہہ الدین احمد کا نام بیلٹ پیپر پر دوسرے نمبر پر درج ہوگا۔ خفیہ رائے شماری کی وجہ سے بیلٹ پیپر کسی کو دکھایا بھی نہیں جاسکے گا۔ پسند کے صدارتی امیدوار کے نام کے سامنے نشان لگانے کیلئے مخصوص پنسل دی جائیگی۔ پولنگ 30جولائی کو صبح دس بجے سے سہ پہر تین بجے تک بغیر کسی وقفے کے پارلیمنٹ ہاﺅس اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں ہوگی اور 31 جولائی کو نتائج کا اعلان کیا جائیگا، نومنتخب صدر 9ستمبر کو عہدے کا حلف اٹھائینگے۔ وزیراعظم میاں نوازشریف نے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی کا مشترکہ اجلاس بھی آج 29 جولائی کو پارلیمنٹ ہاﺅس میں طلب کیا ہے ۔ اجلاس میںمسلم لیگ (ن) کے صداتی امیدوار ممنون حسین کی کامیابی کیلئے حکمت عملی طے کی جائیگی۔ پارلیمانی امور کے وزیر مملکت شیخ آفتاب احمد نے تمام ارکان سے ٹیلیفون پر رابطے قائم کئے ہیں جبکہ سعودی عرب اور دیگر ممالک میں نجی دوروں پر گئے ہوئے ارکان کو وطن واپس آنے کی ہدایت بھی دیدی گئی۔ دوسری طرف تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے بھی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس آج طلب کرلیا ہے۔ اجلاس میں پارٹی کے امیدوار جسٹس (ر) وجیہہ الدین کو زیادہ سے زیادہ ووٹ دلوانے کی حکمت عملی طے کی جائیگی۔ عمران خان نے تمام ارکان اسمبلی کو اپنی شرکت یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ صدارتی انتخابات میں پیپلزپارٹی کے بائیکاٹ کے بعد صدارتی مقابلہ میں ممنون حسین اور جسٹس (ر) وجیہہ الدین احمد ہی رہ گئے۔ مسلم لیگ (ن) کے امیدوار ممنون حسین کو ملنے والے ووٹوں کی تعداد 416 تک جبکہ وجیہہ الدین احمد کے ووٹ 89 تک پہنچ سکتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) 277 ووٹ کے ساتھ اور اتحادیوں کے ووٹ ملا کر 368 الیکٹورل ووٹ رکھتی ہے جو سادہ اکثریت سے 15ووٹ زیادہ ہیں جبکہ ایم کیو ایم کی حمایت کے بعد 48 ووٹ ملا کر ممنون حسین کے 416 ووٹ بن جاتے ہیں جو سادہ اکثریت سے 63 ووٹ زیادہ ہوں گے۔ مسلم لیگ (ن) کی حمایت میں جمعیت علماءاسلام، مسلم لیگ فنکشنل، پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی، نیشنل پارٹی، نیشنل پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ضیائ، مجلس وحدت المسلمین، جاموٹ قومی موومنٹ اور آزاد ارکان شامل ہیں۔ تحریک انصاف کے امیدوار جسٹس (ر) وجیہہ الدین احمد 58 ووٹ تحریک انصاف کے اور اتحادیوں کو ووٹ ملا کر 89 الیکٹورل ووٹ جائیں گے۔ تحریک انصاف کی حمایتی جماعتوں میں جماعت اسلامی، قومی وطن پارٹی عوام مسلم لیگ، آل پاکستان مسلم لیگ، عوامی جمہوری اتحاد پاکستان اور آزاد ارکان شامل ہیں جبکہ پیپلزپارٹی کے بائیکاٹ کے بعد عوامی نیشنل پارٹی، مسلم لیگ (ق)، بی این پی عوامی نے بھی بائیکاٹ کردیا جس کے باعث صدارتی انتخابات میں 151 الیکٹورل ووٹ بائیکاٹ کی نذر ہوگئے۔ خبرنگار خصوصی کے مطابق چیف الیکشن کمشنر اور صدارتی انتخاب کے ریٹرننگ آفیسر جسٹس (ر) فخر الدین جی ابراہیم نے پریذائیڈنگ آفیسران کو ہدایت کی ہے وہ ووٹ کا تقدس اور اس کا خفیہ استعمال ہر صورت یقینی بنائیں جبکہ پولنگ بوتھ کے احاطہ میں ارکان کی جانب سے موبائل فون یا ایسی ڈیوائس جس سے تصویر لی جا سکتی ہو، لے جانے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق چیف الیکشن کمشنر نے تمام پریذائیڈنگ آفیسران سے کہا ہے وہ چاروں صوبائی اسمبلیوں اور پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے اراکین کے صدارتی انتخاب کے دوران پولنگ کے روز ووٹ کے خفیہ استعمال کی خلاف ورزی کی روک تھام یقینی بنائیں، پاکستان کے 13 ویں صدر مملکت کے انتخاب کیلئے پولنگ (کل) منگل کو قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں ہو گی۔ 1123 ارکان نئے صدر کے انتخاب کیلئے اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ سپیشل رپورٹ کے مطابق آج قومی اسمبلی اور سینٹ کے اجلاسوں میں شرکت کے لئے اور منگل 30 جولائی کو صدارتی انتخاب میں شرکت کے لئے مسلم لیگ (ن) کے ارکان اسمبلی اور سینٹ ایم کیو ایم مسلم لیگ کے صدارتی امیدوار ممنون حسین کو ووٹ دینے کے لئے اسلام آباد پہنچنا شروع ہوگئے ہیں۔ صدارتی انتخاب کے موقع پر پارلیمنٹ ہاﺅس کے سکیورٹی کے سخت اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ لاہور سے خصوصی نامہ نگار کے مطابق صدارتی انتخاب کے لئے پنجاب اسمبلی کا اجلاس 30 جولائی صبح دس بجے طلب کر لیا گیا ہے۔ قائم مقام سپیکر پنجاب اسمبلی کی ہدایت پر اس سلسلے میں اسمبلی سیکرٹریٹ نے نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا ہے۔این این آئی کے مطابق صدارتی الیکشن کے لئے بیلٹ پیپرز کی چھپائی کا کام مکمل کرلیا گیا ہے سندھ اور بلوچستان میں بیلٹ پیپرز پہنچائے جا چکے ہیں۔نوائے وقت رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ ن اور مسلم لیگ فنکشنل کے ارکان سندھ اسمبلی کا مشترکہ اجلاس آج شام 6 بجے مقامی ہوٹل میں ہوگا۔ نجی ٹی وی کے مطابق صدارتی الیکشن کے دوران سندھ اسمبلی میں عرفان اللہ مروت مسلم لیگ ن کے امیدوار ممنون حسین کے پولنگ ایجنٹ ہوں گے۔ امتیاز شیخ نے کہا ہے پیر پگارا نے ہدایت کی ہے اجلاس میں شرکت کرنا ہے۔آن لائن کے مطابق سندھ کے وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کے تمام ارکان سندھ اسمبلی صدارتی انتخابات کے دوران اسمبلی کے اجلاس کا بائیکاٹ کریں گے۔ کراچی سے ایک بیان میں ان کا کہنا تھا نواز شریف کو ریموٹ سے چلنے والے آدمی چائیے، اور ایوان صدر کا ریمورٹ کنٹرول نواز شریف کے ہاتھ میں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا نواز شریف کو صدر مملکت کے لئے سیاسی سوچ کا نہیں بلکہ جی حضور کہنے والا شخص چاہئے۔ شرجیل میمن نے مزید کہا ممنون حسین بھی رفیق تارڑ جیسے صدر ثابت ہوں گے، ان کا کہنا تھا سپریم میں موجود چند لوگوں کی وجہ سے عدلیہ بدنام ہورہی ہے، پی پی کے بائیکاٹ کی وجہ سپریم کورٹ کا یک طرفہ فیصلہ اور غیر ذمہ دارانہ روایہ بنا۔نوائے وقت رپورٹ کے مطابق پیپلزپارٹی اور اے این پی نے کل خیبر پی کے اسمبلی کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔