مصری عدالت نے اخوان المسلمون کے سربراہ محمد بدیع سمیت مزید 683 افراد کو سزائے موت سنا دی

مصری عدالت نے اخوان المسلمون کے سربراہ محمد بدیع سمیت مزید 683 افراد کو سزائے موت سنا دی

نیویارک (نمائندہ خصوصی) مصر کی ایک عدالت نے اخوان المسلمون کے سربراہ محمد بدیع سمیت معزول صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے مزید 683 حامیوں کو موت کی سزا سنا دی۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق مصر کی عدالت نے محمد بدیع اور حامیوں سمیت 683 افراد کو پرتشدد مظاہروں اور سکیورٹی فورسز پر حملوں کے الزام میں موت کی سزا سنائی۔ گزشتہ روز بھی مصر کی ایک عدالت نے محمد مرسی کے 11 حامیوں کو 88 برس قید کی سزا سنائی تھی ۔ واضح رہے کہ گزشتہ برس سیاسی مظاہروں کے بعد مصر کی فوج نے ملک کے پہلے جمہوری صدر محمد مرسی کا تختہ الٹ کر انہیں گرفتار کرلیا تھا جس کے بعد ان کے حق میں ہونے والے مظاہروں کی پاداش میں اب تک ہزاروں افراد ہلاک اور گرفتار کئے جاچکے ہیں۔عدالت کے باہر موجود ملزمان کے متعدد اہلخانہ فیصلہ سن کر بیہوش ہوگئے۔ اسی عدالت نے گزشتہ ماہ 529 ملزمان میں سے 492 افراد کو سزائے موت سنائی تھی ، جبکہ کئی ملزمان کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کردی گئی تھی۔بی بی سی کے مطابق جس تیزی کے ساتھ مقدمات کی سماعت ہورہی ہے اس پر بڑے پیمانے پر تنقید کی جارہی ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ سماعت پر صرف ایک گھنٹہ صرف ہوا اور وکیل صفائی کو اپنا کیس پیش کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ محمد بدیع کے علاوہ معزول صدر محمد مرسی کے حامیوں پر گزشتہ سال ایک پولیس تھانے پر حملے کا الزام ہے۔ سزائے موت کے فیصلے کو نظرثانی کے لئے مصر کے مفتی اعظم کے پاس بھیج دیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس بابت جون کے آخر میں حتمی فیصلہ آجائے گا۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے مصر میں اخوان المسلمون کے کارکنوں کو سزائوں پر ردعمل میں کہا ٹرائل منصفانہ نہیں ہوا۔