لال قلعہ حملہ کیس: بھارتی سپریم کورٹ نے پاکستانی کی سزائے موت روک دی

لال قلعہ حملہ کیس: بھارتی سپریم کورٹ نے پاکستانی کی سزائے موت روک دی

نئی دہلی (بی بی سی ڈاٹ کام+نیٹ نیوز) بھارتی سپریم کورٹ نے محمد عارف نامی اس پاکستانی شخص کی سزائے موت روک دی ہے جنہیں دسمبر 2000 میں دہلی کے لال قلعے پر حملہ کرنے کے جرم میں سزا سنائی گئی تھی۔ججوں نے ملزم کے وکیل کی اس دلیل کو تسلیم کر لیا کہ اس کیس کا فیصلہ کرنے میں بہت تاخیر ہوئی ہے۔ عارف کو اشفاق عارف کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، انہیں 2005 میں مجرم قرار دیا گیا تھا اور 2011 میں سپریم کورٹ نے ان کی سزا کی توثیق کی تھی۔ دلی کے لال قلعے پر حملے میں تین افراد ہلاک ہوئے تھے۔ عارف کا کیس ان اہم مقدمات میں سے ایک ہے جن میں سپریم کورٹ نے سزائے موت ختم کی ہے، کیونکہ سزائے موت کا سامنا کرنے والوں کی سزا پر طویل عرصے سے عمل درآمد نہیں ہوا تھا۔ فروری میں عدالت نے سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کے قتل کے جرم میں تین افراد کی سزائے موت ختم کر دی تھی۔ سپریم کورٹ نے حکم دیا محمد عارف کے کیس کا فیصلہ کرنے کے لیے ایک بڑا ’آئینی‘ بینچ قائم ہونا چاہیے۔ نجی ٹی وی کے مطابق عدالت نے سزا کی معافی کی اپیل پر بھارتی حکومت سے جواب طلب کر لیا ہے۔ عارف کو ان کی بیوی رحمانہ کے ساتھ لال قلعہ پر حملے کے چار روز بعد گرفتار کیا گیا تھا اور انہیں قتل، مجرمانہ سازش اور بھارت کے خلاف جنگ کے الزامات کا قصور وار پایا گیا تھا۔ اکتوبر 2005 میں عدالت نے انہیں اور دیگر چھ لوگوں کو مجرم قرار دیا تھا۔ عارف کو سزائے موت سنائی گئی باقی لوگوں کو جیل بھیج دیا گیا تھا۔ ستمبر 2007 میں ہائی کورٹ نے ان کی سزا کو برقرار رکھا اور شہادتیں کافی نہ ہونے کی بنیاد پر باقی لوگوں کو رہا کرنے کا حکم دیا۔