پنجاب اسمبلی میں دھرنوں کیخلاف قرارداد اور لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل منظور

پنجاب اسمبلی میں دھرنوں کیخلاف قرارداد اور لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل منظور

لاہور (خصوصی نامہ نگار + کامرس رپورٹر + سپورٹس رپورٹر) پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں سروسز آف پاکستان میں علاقائی کوٹہ بحال کرانے اور دھرنوں کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کر لی۔ علاقائی کوٹہ بحال کرانے کی قرارداد میں پسماندہ علاقوں کے امیدواروں کیلئے قانون سازی کی سفارش کی گئی۔ دھرنوں کے خلاف مذمتی قرارداد کے متن کے مطابق دھرنے جمہوریت کے خلاف سازش ہیں، جمہوریت کے خلاف سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا۔ قرارداد میں وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب پر اعتماد کا اظہار کیا۔ پنجاب اسمبلی نے لوکل باڈیز ترمیمی بل 2014ئ‘ میٹرک تک مفت تعلیم کا بل اور سٹرٹیجک کوآرڈی نیشن بل 2014ء منظور کر لیا گیا۔ لوکل باڈیز ترمیمی بل میں الیکشن کمشن کو حلقہ بندیوں کا اختیار دے دیا گیا۔ انتخابی فہرستوں کو اپ ڈیٹ کرنا بھی الیکشن کمشن کی ذمہ داری ہو گی۔ حلقہ بندیوں کے تنازعات کے معاملات کو وفاقی قانون کے تحت دیکھا جائے گا۔ حلقہ بندیوں کے معاملات وفاقی قانون مجریہ 1974ء کے تحت طے ہوں گے۔ انتخابی فہرستوں کے معاملات بھی وفاقی قانون کے تحت طے ہوں گے۔ بلدیاتی انتخابات کرانے کا اختیار پہلے ہی الیکشن کمشن کے پاس ہے۔ حلقہ بندیوں اور انتخابی فہرستوں کا اختیار پنجاب حکومت سے الیکشن کمشن کو منتقل ہو گیا۔ میٹرک تک مفت تعلیم کے بل کے متن کے مطابق 5 سے 15 سال کی عمر تک تعلیم لازمی اور حکومت کی ذمہ داری ہو گی۔ تعلیم نہ دلوانے والے والدین کو جرمانہ‘ سبسڈی والی سکیموں کیلئے نااہل ہوں گے۔ سرکاری سکولوں میں ’’ب‘‘ فارم کی شرط ختم کر دی گئی۔ سٹرٹیجک کوآرڈی نیشن بل 2014ء کے تحت پنجاب سٹرٹیجک کوآرڈینیشن بورڈ تشکیل دیا جائے گا۔ بورڈ انسداد دہشت گردی کے حوالے سے پالیسیاں بھی وضع کرے گا۔ بورڈ کے چیئرمین وزیراعلیٰ پنجاب اور چیف سیکرٹری کنونیئر ہوں گے۔ خصوصی نامہ نگار/ کامرس رپورٹر کے مطابق پنجاب اسمبلی کا اجلاس ایک گھنٹہ تاخیر سے شروع ہوا  وقفہ  سوالات کے دوران  حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے بیورو کریسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ملک کو تباہی کے دہانے پر لے جانے میں اسی بیوروکریسی کا ہاتھ ہے، کسی فورم پر بیوروکریسی کا احتساب نہیں کیا جاتا، ایوان میں بھی بیوروکریسی پر بات نہیں کی جا سکتی تو ملک ہی ان کے حوالے کر دیتے ہیں کیونکہ ملک بنا ہی ان کے لئے ہے، ارکان اسمبلی نے سرکاری رہائش گاہوں کی قواعد و ضوابط سے ہٹ کر الاٹمنٹ کے خلاف بھی شدید احتجاج کیا جس پر پارلیمانی سیکرٹری کا کہنا تھا کسی بھی سرکاری ملازم کا سرکاری رہائش گاہ حاصل کرنا اس کا قانونی حق نہیں۔ پارلیمانی سیکرٹری اصغر علی منڈا نے محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈ منسٹریشن سے متعلق سوالات کے جوابات دیتے ہوئے ایوان کو آگاہ کیا سرکاری رہائش گاہوںکی الاٹمنٹ کیلئے قواعد و ضوابط میں نرمی کرنے کا صوابدیدی اختیار صرف وزیراعلیٰ کو ہے۔ شیخ علائوالدین نے کہا جو کار خاص ہوتا ہے اسے مناسب افسر کا نام دیدیا جاتا ہے۔ سرکاری رہائش گاہوں کی الاٹمنٹ میں بھی نوازنے کیلئے میڈیکل کو بنیاد بنایا جاتا ہے۔ کیا سرکاری رہائش گاہیں نتھیا گلی یا مری کے پر فضا مقام پر واقع ہیں جو انہیں الاٹمنٹ میں ترجیح دی جاتی ہے۔ حکومتی خاتون رکن عائشہ جاوید کی طرف سے پی سی ایس اور سی ایس پی افسران سے متعلق دو سوالات سے سرنڈر کرنے پر میاں نصیر نے احتجاج کرتے ہوئے کہا جب یہ سوال شائع ہو گئے ہیں او ران کے جوابات بھی آ گئے ہیں پھر ایوان میں ان پر بات کرنے میں کیا حرج ہے۔ حقیقت میں بیوروکریسی ان سوالات کو ایوان میں نہیں آنے دینا چاہتی اور حکومت بھی وہی کر رہی ہے۔ اس ایوان میں بیوروکریسی سے متعلق بات نہیں ہو سکتی تو یہ ملک ہی بیوروکریسی کے حوالے کر دیتے ہیں۔ جس پر سپیکر نے کسی بھی رکن اسمبلی کے سوالات سے سرنڈر کرنے پر رولنگ بھی دی۔ طاہر سندھو نے کہا اس ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچانے میں بیوروکریسی کا ہی ہاتھ ہے۔ انہوں نے سپیکر کو کہا آپ مصلحت سے کام نہ لیا کریں۔ یہ ایوان بیوروکریسی کا احتساب نہیں کرتا یہی وجہ ہے ارکان اسمبلی بھی ان کے سامنے رسوا ہوتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا ارکان جو معاملات اٹھا رہے ہیںان پر کمیٹی بنائی جائے جس پر سپیکر نے کہا آپ مجھے ڈکٹیشن نہیں دے سکتے  سپیکر نے ان کے جملے اسمبلی کارروائی سے حذف کرنے کا حکم دیا۔ ارکان اسمبلی نے ریٹائرمنٹ کے باوجود افسران کی سرکاری رہائش گاہوں پر قبضے‘ میرٹ سے ہٹ کر الاٹمنٹ پر بھی شدید احتجاج کیا۔ پارلیمانی سیکرٹری اصغر علی منڈا نے کہا سرکاری ملازمین کو گھر پہلے آئیے پہلے پائیے کی بنیاد پر، وزیراعلیٰ پنجاب کی صوابدید اور ہارڈشپ پالیسی کے تحت دئیے جا رہے ہیں۔ طاہر سندھو ایڈووکیٹ نے آئین کے آرٹیکلز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا پارلیمانی سیکرٹری غلط بات کر رہے ہیں جس پر سپیکر نے اصغر علی منڈا کو کہا اپنی بات کا جائزہ لیں کہیں آپ غلط بات تو نہیں کر گئے۔ جس پر پارلیمانی سیکرٹری نے کہا میں نے جو بھی بات کہی ہے وہ آئین‘ قانون کے مطابق ہے۔ سپورٹس رپورٹر کے مطابق پنجاب اسمبلی کا اجلاس 8 روز جاری رہنے کے بعد غیر معینہ مدت تک کیلئے ملتوی کر دیا گیا۔ذخیرہ اندوزی کے خاتمے کے لئے گوداموں اور کولڈ سٹورز کی رجسٹریشن کا بل، بکر منڈیوں میں فیس معافی کا بل، دہشت گردی کے خلاف بہتر اقدامات کے لئے پنجاب سٹرٹیجک کوآرڈی نیشن بورڈ اور صوبائی سکیورٹی کونسل کے قیام کا بل بھی پاس کردیا گیا۔ قبل ازیں ایوان میں پاس ہونے والے پنجاب اوورسیز پاکستانیز کمیشن بل 2014ء کے ذریعے بیرون ملک پاکستانیوں کی صوبائی محکموں اور اداروں سے متعلق شکایات کے ازالہ کے لئے کمیشن تشکیل دیا ہے جو انٹرنیٹ پر درخواستیں وصول کرکے، شکایات کے ازالے کے لئے متعلقہ محکمے کو کہے گا۔ ذخیرہ اندوزی کے خاتمے کے لئے تمام گوداموں اور کولڈ سٹوروں کی رجسٹریشن کے لئے پنجاب رجسٹریشن آف گڈون بل 2014ء بھی پاس کرلیا گیا ہے۔ ایوان میں پاس ہونے والے پنجاب لوکل گورنمنٹ بل 2014ء (بل نمبر 19 اور 20) کے ذریعے بکر منڈیوں میں کسانوں پر عائد ہر طرح کی فیس معاف کردی گئی ہے۔ بکر منڈیوں کو جدید خطوط پر چلانے کے لئے ہر ڈویژن میں ایک کمیٹی بنائی گئی ہے اور حکومت اپنے وسائل سے چند بکرمنڈیاں بھی قائم کرے گی۔ دھرنوں کے خلاف یہ قرارداد 20 اکتوبر کوایوان میں پیش کی گئی تھی جس پر ایک ہفتہ بحث جاری رہی۔ قرارداد میں یہ بھی لکھا گیا یہ ایوان جمہوریت دشمن عناصر کی طرف سے ملکی مفاد کے منافی سرگرمیوں کو ملکی سلامتی اور بقاء کے منافی تصور کرتا ہے۔ اس ایوان کی یہ بھی متفقہ رائے ہے جمہوریت کا تسلسل ہی ملکی سلامتی اور ترقی کا ضامن ہے۔
پنجاب اسمبلی