ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو توانائی انفراسٹرکچر دیگر شعبوں میں پرکشش مراعات کی پیشکش

ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو توانائی انفراسٹرکچر دیگر شعبوں میں پرکشش مراعات کی پیشکش

اسلام آباد (ایجنسیاں + نیٹ نیوز) بین الاقوامی سرمایہ کاری کانفرنس میں حکومت نے ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کو توانائی، انفراسٹرکچر و دیگر شعبوں میں پرکشش مراعات کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجلی کے منصوبوں میں سر مایہ کاری پر 17 سے 20 فیصد انوسٹمنٹ ریٹرن گارنٹی دیں گے، قدرتی گیس کی تلاش اور پیداوار پر 6.3 ڈالر، شیل گیس پر 12 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو ٹیرف دیا جائے گا، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (فیسکو، آئیسکو، لیسکو، گیسکو) کے ساتھ ساتھ جینکوز کی تیز تر نجکاری اور توانائی کے شعبے میں ڈی ریگولیشن کا اعلان کیا گیا ہے اور کہا کہ سرمایہ کاری کیلئے پاکستان محفوظ ملک ہے۔ یہاں جمہوریت، آزاد میڈیا اور عدلیہ موجود ہے، ملکی و غیر ملکی سر مایہ کار حکومت کی پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ پالیسی سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، موجودہ سرمایہ کار دوست حکومت ہے ہم نے پہلے ہی چین کے تعاون سے پاکستان چین اقتصادی راہداری سمیت 10400 میگا واٹ بجلی پیدا کر نے کے منصوبے شروع کر رکھے ہیں، ملکی و غیر ملکی سر مایہ کاروں کے پاس ان منصوبوں پر سرمایہ کاری کیلئے بہترین موقع ہے، یہ باتیں وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال، وزیر مملکت برائے پٹرولیم و قدرتی وسائل جام کمال، وزیر اعظم کے مشیر توانائی ڈاکٹر مصدق ملک، چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ ڈاکٹر مفتاح اسماعیل و دیگر اعلیٰ حکام نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔ ڈاکٹر مفتاح اسماعیل نے کہا کہ یہ کانفرنس اندرون و بیرون ملک سے آنے والے سرمایہ کاروں کیلئے پاکستان میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کیلئے ہر لحاظ سے معاون و مددگار ثابت ہو گی، پاکستان میں ڈیموں اور رن آف ریور منصوبوں کے ذریعے80 ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کے مواقع موجود ہیں صوبہ سندھ کے علاقہ تھر میں کوئلے کے وسیع تر ذخائر موجود ہیں جن کی مالیت 90 کھرب ڈالر بنتی ہے، اسی طرح بلوچستان میں دنیا کے بہترین تانبے اور سونے کے ذخائر ہیں۔ پانی و بجلی کے لئے وزیرِ اعظم کے معاون خصوصی مصدق ملک نے کہا کہ اس شعبے میں سرمایہ کاری کے لئے اس سے زیادہ اچھا موقع نہیں مل سکتا۔ ’توانائی کی پیداوار کم ترین سطح پر ہے اس کی طلب آسمان کو چھو رہی ہے، بجلی کی چوری اور دیگر نقصانات عروج پر ہیں، بجلی کی ترسیل کا نظام ناکارہ ہو چکا ہے۔ بجلی کی پیداواری لاگت بھی بہت بڑھ چکی ہے۔‘ یہی وہ وقت ہے جب سرمایہ کاروں کو اس شعبے میں سرمایہ کاری کرنی چاہئے۔ ’قلیل اور طویل مدت کے منصوبے لگانے کا اس سے زیادہ اچھا موقع آپ کو دنیا میں کہیں اور نہیں مل سکتا جہاں ہم آپ سے پانچ ہزار میگاواٹ بجلی خریدنے کی تحریری ضمانت دینے کو تیار ہیں۔ دنیا میں کوئی ملک یہ ضمانت نہیں دے سکتا۔‘ سرمایہ کاری بورڈ کے سربراہ نے سرمایہ کاروں کو لبھانے کے لئے اعداد و شمار کے ذریعے پاکستان کو دنیا میں سب سے زیادہ نفع بخش ملک قرار دیا۔انھوں نے کہا کہ ’پاکستان میں سرکاری طور پر طے شدہ شرحِ منافع 17 سے 20 فیصد ہے اور حکومت اس منافعے کو بیرون ملک منتقل کرنے سے نہیں روکتی۔ سٹیٹ بینک کے ذریعے ایسا کرنے کی ضمانت بھی فراہم کرتی ہے۔‘ کانفرنس میں امریکہ، یورپ اور مشرق وسطیٰ سمیت مختلف ملکوں کے سرمایہ کاری شریک ہیں جو پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع اور قوانین کو کافی حد تک سمجھتے تھے تاہم پاکستان کی سکیورٹی اور ملکی سیاست کے حوالے سے یہ سرمایہ کار غیر یقینی کا شکار ہیں۔ ڈاکٹر مفتاح اسماعیل نے کہا کہ کانفرنس کے انعقاد کا مقصد غیر ملکی اور ملکی سرمایہ کاروں کو مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کی ترغیب اور متراعات دینا ہے۔ پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے بے پناہ مواقع موجود ہیں جن سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔ وفاقی سیکرٹری پانی و بجلی یونس ڈھاگا، وزیراعظم کے مشیر ڈاکٹر مصدق ملک اور دیگر مقررین نے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے والوں کیلئے پرکشش مراعات ہیں جو دنیا کے کسی بھی ملک میں نہیں۔ سرمایہ کاری کی زیادہ سے زیادہ حد پر کوئی پابندی نہیں، غیر ملکی سرمایہ کار مقامی سرمایہ کاروں کے بغیر بھی پاکستان میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔ اس وقت پاکستان میں پن بجلی ہوا اور کوئلے سے بجلی کی پیداوار کیلئے سرمایہ کاروں کو دعوت دی جا رہی ہے۔ بین الاقوامی سر مایہ کاری کانفرنس میں 231 کمپنیوں کے 241 نمائندوں نے شرکت کی، 169 سرمایہ کار بیرون ملک جبکہ 72 پاکستان کے مختلف شہروں سے کانفرنس میں شریک ہوئے۔ روس کی مختلف کمپنیوں کے 12نمائندے، ہانگ کانگ سے 29 جبکہ بحرین کے 30 نمائندوں سمیت کل 169 غیر ملکی سرمایہ کاروں نے شرکت کی۔ اندرون ملک مختلف شہروں سے 72سرمایہ کار شریک ہوئے۔ کانفرنس آج بھی جاری رہے گی۔وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان ایشیا میں تجارت اور صنعت کا مستقبل کا مرکز ہے۔ غیرملکی سرمایہ کاروں کیلئے یہ بہترین وقت ہے، پاکستان تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور امن و استحکام حاصل کر رہا ہے۔ پاکستان کی معیشت میں ہر روز بہتری آرہی ہے اور دو سال کی مدت میں غیرملکی سرمایہ کار مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کیلئے قطاریں لگانا شروع کردیں گے۔ حکومت سہولتیں فراہم کرے گی اور 2025ء تک برآمدی حجم بڑھا کر150 ارب ڈالر کردیا جائے گا، دیامر بھاشا ڈیم سمیت مختلف پراجیکٹس سے نہ صرف بڑی مقدار میں بجلی پیدا ہوگی بلکہ پانی کا بھی وسیع ذخیرہ کیا جائے گا۔