طاہر القادری بیرون ملک چلے گئے : انقلاب کیلئے جمہوری جدوجہد شروع کر دی : سربراہ عوامی تحریک

طاہر القادری بیرون ملک چلے گئے : انقلاب کیلئے جمہوری جدوجہد شروع کر دی : سربراہ عوامی تحریک

لاہور (خصوصی نامہ نگار + نوائے وقت رپورٹ + ایجنسیاں) پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری بیرون ملک دورے پر چلے گئے۔ انہوں نے کہا ہے کہ محرم الحرام کے بعد ملکی سیاست ایک نیا منظرنامہ پیش کرے گی۔ حقیقی اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کیلئے عوامی تحریک میدان میں آ گئی ہے۔ بیرون ملک 3 ہفتے کے دورہ پر روانگی سے پہلے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب زیادہ وقت امریکہ میں گزرے گا۔ لندن میں نہیں رکوں گا امریکہ میں عوامی تحریک کی تنظیم سازی کروں گا۔ امریکہ سے 13 نومبر کو کینیڈا جاؤں گا۔ وطن واپسی 16 نومبر کو ہو گی۔ امریکہ اور کینیڈا میں تنظیم کو متحرک کروں گا۔ شہباز شریف لندن میں موجود ہیں اس لئے شیڈول بدل دیا تاکہ کوئی نیا لندن پلان جنم نہ لے۔ انقلاب کیلئے سیاسی اور جمہوری جدوجہد کا آغاز کر دیا ہے۔ حقیقی اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کیلئے عوامی تحریک میدان میں آ گئی ہے۔ اتوار کے روز برطانوی وزیراعظم کی رہائش گاہ کے باہر ملین مارچ تھا۔ برطانوی حکومت نے شرکاء پر آنسو گیس نہیں چلائے‘ اسے جمہوریت کہتے ہیں۔ حکمران برطانیہ تو جاتے ہیں وہاں سے کوئی سبق سیکھیں۔ عمران خان کو عیدالاضحی سے پہلے اپنا پروگرام بتا دیا تھا۔ عمران خان کے کنٹینر پر خطاب کے بعد ون ٹو ون ملاقات ہوئی تھی۔ اسلام آباد واپس جانے کا کوئی پروگرام نہیں۔ آگے بڑھ رہے ہیں حکومت نے سیاسی جرگے کی تجاویز نہیں مانیں۔ ووٹ کی طاقت سے ظلم کا نظام بدلیں گے۔ سراج الحق کی کاوشوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں دھرنا دھرنا ہوتا ہے کم لوگ ہوں یا زیادہ عمران خان اپنے اور ہم  اپنے فیصلوں میں آزاد ہیں۔ وہ ماڈل ٹاؤن میں ہنگامی پریس کانفرنس کر رہے تھے بعدازاں وہ علی الصبح 3 بجے 3 ہفتے کے دورے پر بیرون ملک چلے گئے۔ قبل ازیں طاہر القادری نے کہا ان کا بیرون ملک دورے میں زیادہ وقت امریکہ میں گزرے گا اور امریکی ریاستوں میں عوامی تحریک کی تنظیم سازی کریں گے۔ پتہ چلا ہے کہ شہباز شریف لندن میں ہیں اور اس لئے وہ امریکہ جاتے ہوئے لندن میں نہیں اتریں گے بلکہ سیدھا امریکہ ہی جائیں گے جہاں سے وہ 13 نومبر کو واپس کینیڈا جائیں گے جہاں پر 3 دن قیام کے بعد وہ 16 نومبر کو وطن واپس آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سے کوئی ڈیل نہیں ہوئی محرم کے بعد 23 نومبر سے شیڈول کے مطابق جلسے ہوں گے اگر کوئی بھی  ایسی ڈیل ثابت کر دے تو 5 کروڑ روپے انعام دوں گا۔ انہوں نے کہا کہ محرم کے بعد عوامی اجتماعات کا نیا منظر دیکھیں گے، ہم سانحہ ماڈل ٹاؤن کا خون معاف نہیں کریں گے، پنجاب حکومت نے ہمارے کارکنوں کے خلاف 150 مقدمات درج کئے ہیں، پنجاب حکومت تمام ناجائز مقدمات ختم کرے، پنجاب حکومت انصاف کو قتل کر رہی ہے ، یہ لوگ بیرون ممالک جاتے ہیں لیکن وہاں سے سیکھ کر نہیں آئے۔طاہرالقادری نے کہا ہے کہ ڈیل کی افواہیں پھیلانے والے خدا کا خوف کریں۔ ثبوت لانے والے کو 5 کروڑ نقد انعام دوں گا۔ میرا پلان لندن جانے کا تھا مجھے اطلاع ملی کہ شہباز شریف بھی لندن میں ہیں تو میں نے اپنے سفر کا پلان بدل لیا تاکہ کوئی نیا لندن پلان جنم نہ لے‘ 16 نومبر کو وطن واپس آؤں گا۔ پریس کانفرنس کے موقع پر ڈاکٹر رحیق احمد عباسی‘ بشارت جسپال‘ فیاض وڑائچ‘ راجہ زاہد‘ سہیل احمد رضا‘ نعیم الدین چودھری ایڈووکیٹ و دیگر بھی موجود تھے۔ ڈاکٹر طاہرالقادری نے اس موقع پر نور اللہ صدیقی کو اپنا میڈیا ایڈوائزر مقرر کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ 70 دن کے انقلابی دھرنوں کا نتیجہ ہے کہ آج نااہل حکمران اپنے ہی وزیروں کی کارکردگی اور ردوبدل کی باتیں کر رہے ہیں۔ عوام وزیراعظم کی کارکردگی جاننا چاہتے ہیں۔ نام نہاد وزیراعظم کی کارکردگی اور ان کی حکومت کی کارکردگی یہ ہے کہ اکتوبر کے مہینے میں بھی بجلی کا شارٹ فال جون جولائی والا ہے۔ اکتوبر کے مہینے میں 5 ہزار میگاواٹ کا شارٹ فال ایک نیا ریکارڈ ہے۔ محرم الحرام کے بعد لاء اینڈ آرڈر‘ بیرونی قرضوں‘ مہنگائی اور بیروزگاری کے ساتھ ساتھ 8 سو ارب کے گردشی قرضوں کے حقائق قوم کے سامنے لاؤں گا۔ طاہرالقادری نے کہا کہ اپنے دورے میں مختلف ممالک میں پاکستان عوامی تحریک کو منظم کروں گا۔ ووٹ اور انقلابی طاقت سے ظلم کے خلاف لڑ کر ظالمانہ نظام کو بدلیں گے۔ کرپٹ سیاست اور سیاست دانوں سے قوم کو نجات دلائیں گے۔ فیصل آباد‘ لاہور‘ ایبٹ آباد اور ہری پور ہزارہ کے تاریخی جلسوں سے حکمران بوکھلاہٹ کا شکار ہو چکے ہیں۔ شہداء ماڈل ٹاؤن کا قصاص لیں گے اور قاتلوں کو کیفرکردار تک پہنچا کر دم لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ لندن میں برطانوی وزیراعظم کی رہائش گاہ کے باہر کشمیر کی آزادی کے حق میں ملین مارچ ہوا۔ برطانیہ کی حکومت نے اس مارچ کو روکنے کیلئے نہ تو 40 ہزار پولیس والے طلب کئے نہ آنسو گیس کے شیل برسائے اور نہ ہی کنٹینرز کا سہارا لیا‘ اسے جمہوریت اور جمہوری اقدار کہتے ہیں۔ حکومتوں کے منافقانہ طرز عمل کے باعث کشمیر کاز کو زبردست نقصان پہنچا۔ پاکستان عوامی تحریک اور تحریک انصاف سیاسی فیصلے کرنے میں آزاد ہیں‘ دونوں جماعتوں میں خوشگوار تعلقات ہیں۔ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق اور سیاسی جرگے کی کاوشوں کو سراہتے ہیں۔ پنجاب حکومت ہمارے کارکنوں کی گرفتاریاں کر کے اگر کوئی نیا محاذ جنگ کھولنا چاہتی ہے تو ہم اس کیلئے بھی تیار ہیں۔ علاوہ ازیں امارات ائرلائنز کے ذریعے وہ براستہ دبئی امریکہ پہنچیں گے جہاں وہ دو ہفتے سے زائد قیام کے بعد 13 نومبر کو کینیڈا جائیں گے۔ عوامی تحریک کی تنظیم سازی کے حوالے سے مختلف پروگرامز میں شرکت کریں گے۔ علاوہ ازیں بیرون ملک روانگی کے موقع پر طاہر القادری نے کہاکہ جماعت کو منظم کرنے کیلئے مختلف ممالک کا دورہ کروں گا، جماعت کو منظم کرنے کیلئے سیاست میں آئے ہیں، پورے ملک میں جماعت کو منظم کریں گے، 15روزہ دورے کے بعد ملکی سیاست میں نئی تبدیلی آئے  گی، حکومت سے کوئی ڈیل نہیں ہوئی، حکمران ہٹ دھرمی پر قائم رہے۔
طاہرالقادری