سانحہ ڈسکہ: وکلا کی ہڑتال ، احتجاج جاری، سیالکوٹ میں 200 پر مقدمہ ، لاہور میں دھرنا

 سانحہ ڈسکہ: وکلا کی ہڑتال ، احتجاج جاری، سیالکوٹ میں 200 پر مقدمہ ، لاہور میں دھرنا

لاہور+ ڈسکہ+ گوجرانوالہ (وقائع نگار خصوصی+ خبرنگار+ اپنے نامہ نگار سے+ نمائندہ خصوصی+ نامہ نگاران+ ایجنسیاں) سانحہ ڈسکہ کیخلاف لاہور سمیت مختلف شہروں میں وکلا کی ہڑتال اور احتجاج جاری رہا جبکہ گوجرانوالہ کی عدالت نے ملزم شہزاد وڑائچ کو 12 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا ہے۔ دوسری طرف ڈسکہ میں مقتول وکلا کاختم قل ہوا، اس موقع پر سرکاری ادارے سکول کالجز بند رہے، پولیس اور رینجرز کا گشت جاری رہا۔ لاہور ہائیکورٹ اور ماتحت عدالتوں ی سکیورٹی بھی رینجرز نے سنبھال لی۔ پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر منظور وٹو نے ڈسکہ جا کر مقتولین کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا۔ سابق چیف جسٹس افتخار چودھری نے بھی ڈسکہ بار کے ارکان سے خطاب کیا۔ ڈی ایس پی ڈسکہ کے ریڈر کی درخواست پر دفتر کو آگ لگانے کے الزام میں 100 جبکہ غلام مرتضٰی چوکیدار ٹی ایم اے ڈسکہ کی درخواست پر بھی 120 نامعلوم افراد کیخلاف بلدیہ کے دفتر اور ریکارڈ، فرنیچر اور کمپیوٹر، ٹرالی جلانے کے الزام میں مقدمات درج کر کے ایف آئی آرز سیل کردی گئی ہیں۔ علاوہ ازیں تھانہ سٹی ڈسکہ میں انسپکٹر رانا ذوالفقار علی کو بطور ایس ایچ او تعینات کر دیا گیا ہے۔ سیالکوٹ کے تھانہ سول لائن میں سانحہ ڈسکہ کے خلاف جلوس نکالنے والے دو سو وکلاء کیخلاف توڑ پھوڑ، جلاؤ گھیراؤ اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کا مقدمہ درج کرلیا۔ ادھر پاکستان بار کونسل اور لاہور ہائیکورٹ بار نے ڈسکہ میں قاتل ایس ایچ او کو سزا دینے کیلئے تیس دن جبکہ لاہور بار نے 15 روز میں سزا سنانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ مشترکہ اجلاس کی متفقہ قرار داد میں کہا گیا کہ سانحہ ڈسکہ کے مجرموں کا 30 دن کے اندر اندر فیصلہ ہونا چاہئے۔ اگر اس مدت سے ایک دن بھی اوپر گزرا تو وکلاء سڑکوں پر احتجاج کریں گے۔ ٹی ایم او ڈسکہ کیخلاف انضباطی کاروائی کرکے پرچہ درج کیا جائے اور اسکے اثاثوں کی تفتیش کی جائے۔ ڈی پی اوسیالکوٹ کو فی الفور معطل کیا جائے اور اسکے خلاف اعانت جرم کا مقدمہ درج کیا جائے۔ پاکستان بار، پنجاب بار کونسل، لاہور ہائیکورٹ بار،لاہور بار، سیالکوٹ بار اور ڈسکہ بار ایسوسی ایشن کے ایک ایک نمائندہ پر مشتمل کمیٹی مقدمہ کی پیروی کریگی۔ ہائیکورٹ بار کی نمائندگی کرنے کیلئے سید زاہد حسین بخاری ایڈووکیٹ سپریم کورٹ کو نامزد کیا گیا اور انکی معاونت کیلئے سابق ممبر پنجاب بار کونسل چوہدری غلام مرتضیٰ کو منتخب کیا گیا۔ قرار داد میں کہا گیا ہے کہ پنجاب بھر میں جس پولیس اہلکار کے خلاف کوئی بھی کیس ہے ، اسکو ہرگز انتظامی عہدہ پر تعینات نہ کیا جائے۔ قرارداد میںتمام اداروں سے سیاسی مداخلت ختم کرنے اور تمام تعیناتیاں میرٹ پر کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔ لاہور بار نے شہدائے ڈسکہ کے لواحقین کی مالی اعانت کیلئے ایک فنڈ قائم کر دیا ہے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے ہائیکورٹ بار ہر سوموار کو ساڑھے 10 بجے جنرل ہاؤس کا احتجاجی اجلاس منعقد کرے گی اور جی پی او چوک میں قائم احتجاجی کیمپ ملزم کو سزا دلانے تک جاری رہیگا۔ روزانہ صبح ساڑھے10بجے سے ڈیڑھ بجے تک دھرنا دیا جائیگا۔ صدر لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن پیر مسعود چشتی کی زیرصدارت پاکستان بار کونسل اور لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کا مشترکہ اجلاس گزشتہ روز بھی منعقد ہوا۔ اجلاس میں وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل اعظم نذیر تارڑ، چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی پاکستان بار کونسل محمد احسن بھون، نائب صدرلاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن ، محمد عرفان عارف شیخ ، سیکرٹری لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن بیرسٹر محمد احمد قیوم ، فنانس سیکرٹری لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن سید اختر حسین شیرازی، ممبرز پنجاب بار کونسل محمد رفیق جٹھول اور عبدالصمد خاں بسریا کے علاوہ وکلاء کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل اعظم نذیر تارڑ، سابق ممبر پنجاب بار کونسل علام مرتضیٰ چوہدری، احسان وائیں ایڈووکیٹ، اللہ بخش گوندل ایڈووکیٹ اور سابق صدر لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن احمد اویس نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 26 مئی کو شہداء کے جنازہ کے دوران ڈسکہ میں نہ صرف وہاں کے وکلا، مقامی آبادی بلکہ ملک بھر سے آئے ہوئے وکلا اشک بار تھے اور ایک دوسرے کے گلے لگ کر رو رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ڈسکہ بار ایسوسی ایشن نے جو گائیڈ لائن مقرر کی ہیں اسکے مطابق پاکستان بار کونسل، پنجاب بار کونسل اور لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن عمل پیرا ہیں۔ ہمارا بنیادی مقصد مجرموں کو سزا دلوانا ہے۔ صدر لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن پیر محمد مسعود چشتی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ 30 دن کے اندر فیصلہ سامنے آنا چاہئے۔ بصورت دیگر قانون کی جنگ نہیں بلکہ سڑکوں پر جنگ ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ خود احتسابی کے بغیر معاملات نہیں چلتے۔ 26 مئی کو ملک بھر میں 200 مقامات پر ریلیاں نکلیں جو تمام کی تمام پرامن تھیں۔ چند واقعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا جو کہ سانحہ ڈسکہ کا فطری ردعمل تھا۔ میڈیا نے صرف لاہور کے واقعہ کو ہدف بنایا اور جو 199 پرامن جلوس تھے، انکا ذکر تک نہیں کیا۔ انہوں نے میڈیا سے درخواست کی کہ خدارا تصویر کے دونوں رخ دکھائیں۔ گزشتہ روز بھی ڈسکہ میں دو وکلاکے قتل کیخلاف ملک بھر کی طرح لاہور میں بھی وکلا برادری نے احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا۔ وکلا نے جی پی او چوک میں احتجاجی مظاہرہ کیا اور دھرنا دیا۔ اس موقع پر مظاہرین نے حکومت اور پولیس کیخلاف شدید نعرے بازی کی۔ سانحہ ڈسکہ کیخلاف لاہور میں دو مقامات پر وکلا نے مستقل احتجاجی کیمپ بھی قائم کردئیے جو کیس کے فیصلے تک جاری رہیں گے۔ لاہور بار کے اجلاس سے خطاب میں سیکرٹری لاہور بار نے کہا کہ ڈسکہ میں جو کچھ ہوا ہے وہ ظلم و بربریت کی انتہا ہے۔ واقعہ ڈسکہ پر حکومت کا کوئی نمائندہ بھی اظہار ہمدردی کیلئے وکلاء کے پاس نہیں آیا، اس واقعہ کی تمام ذمہ داری حکومت پنجاب پر ہے۔ پنجاب بار کونسل کے عہدیداروں نے کہا ہے کہ سانحہ ڈسکہ کو تین روز گزر چکے ہیں لیکن حکومت کی طرف سے کوئی سنجیدگی نہیں دکھائی جا رہی۔ موجودہ حکومت نے پے در پے ریاستی مشینری کو استعمال کرتے ہوئے متعدد بار وکلا اور دیگر شعبہ ہائے زندگی پر ظلم ستم ڈھائے ہیں۔ ادھر حافظ آباد، ننکانہ اور شیخوپورہ میں وکلا نے ریلیاں نکالیں۔ حافظ آباد میں ریلی کی قیادت چودھری امان اللہ سندھو، معظم بھٹی، چودھری تجمل عدیل مقبول نے کی۔ شیخوپورہ میں ڈسٹرکٹ بار کے صدر خالد رشید ملک،جنرل سیکرٹری عاصم حمید بھنگو، نصراللہ وٹو، طاہرشہزاد کمبوہ، ملک عقیل ایڈووکیٹ اور دیگر کی قیادت میں احتجاجی ریلی بھی نکالی گئی وکلا نے سیالکوٹ، فیصل آباد، وہاڑی، گجرات، جڑانوالہ، نارووال اور دیگر شہروں میں بھی احتجاج کیا۔