جوڈیشل کمیشن نے پیپلز پارٹی کی جانب سے مینڈیٹ چوری ہونے کے الزمات پر تحریک انصاف سے جواب مانگ لیا

خبریں ماخذ  |  خصوصی نامہ نگار
جوڈیشل کمیشن نے پیپلز پارٹی کی جانب سے مینڈیٹ چوری ہونے کے الزمات پر تحریک انصاف سے جواب مانگ لیا

جوڈیشل کمیشن میں چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں عام انتخابات میں دھاندلی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد نے کمیشن کو بتایا کہ دو ہزار تیرہ کے  انتخابی شیڈول کے اعلان کے بعد فہرستوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی،  الیکشن کمیشن نے  ستمبر دو ہزار بارہ کو عبوری طور پر اٹھارہ کروڑ بیلٹ پیپرز چھاپنے کا فیصلہ کیا، ریٹرنگ آفیسروں کو بیلٹ پیپرز کی تعداد کا تعین کرنے کے قانون کا علم نہیں ہے، ریٹرنگ آفیسر صوبائی الیکشن کمیشنرز کے ذریعے بیلٹ پیپرز چھاپتے تھے،، اشتیاق احمدنے بتایا کہ الیکشن کمیشن نے مقناظیسی سیاہی کے استعمال کا فیصلہ نادرا کے مشورے سے کیا، ایڈیشنل سیکرٹری اور ڈی جی نادرہ نے مقناطیسی سیاہی کے نمونے کی منظوری دی، ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کی ہدایت کے مطابق فارم پندہ ضلعی مال خانے میں جمع کروائے جانے تھے، قوائد و ضوابط کے مطابق فارم پندرہ الیکشن کمیشن کو بھیجا جاتا ہے، جوڈیشل کمیشن نے پیپلز پارٹی کی جانب سے پنجاب اور خیبرپی میں مینڈیٹ چوری ہونے کے الزامات پر تحریک انصاف کے وکیل سے تحریری جواب مانگتے ہوئے سماعت ملتوی کردی، آئندہ سماعت پر  الیکشن کمیشن اور مسلم لیگ ن کے وکلاء سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن سے جرح کریں گے-