تمام سیاسی جماعتوں نےاقتصادی راہداری منصوبے پرعمل درآمد کی متفقہ منظوری دے دی

خبریں ماخذ  |  خصوصی نامہ نگار
تمام سیاسی جماعتوں نےاقتصادی راہداری منصوبے پرعمل درآمد کی متفقہ منظوری دے دی

اسلام آباد میں اقتصادی راہداری کے روٹ سے متعلق کل جماعتی کانفرنس وزیراعظم نواز شریف کی زیرصدارت ہوئی ۔جس پر سیاسی رہنما کہتے ہیں  اٹھائیس مئی کو پہلے ہی ملک کے دفاع میں خاص مقام حاصل ہے ۔ اقتصادی راہداری پر اتفاق رائے کے بعد معیشت کے اعتبار سے بھی یہ دن تاریخی بن گیا ہے ۔
 سیاسی رہنماوں کا کہنا تھا اجلاس میں پارلیمانی کمیٹی کے قیام کا فیصلہ ہوا ہے جس میں اب صوبوں کو بھی نمائندگی دی جائے گی ۔ انہوں نے وزیراعظم کے مثبت کردار اور سراہا اور کہا کہ  جمہوریت کو آگئے بڑھانے کیلئے مستقبل میں بھی اتفاق رائے سے فیصلے کرنا ہونگے -دیگر سیاسی جماعتوں کی طرح اے این پی نے بھی اقتصادی راہداری روٹ پر اتفاق رائے کا خیر مقدم کیا لیکن پارٹی کے سربراہ نے اتفاق رائے پر یوں تبصرہ کیا۔اقتصادی راہداری روٹ حسن ابدال،میانوالی،ڈی آئی خان،ژوب اور کوئٹہ سے ہوتے ہوئے گوادر تک جائے گا-

اقتصادی راہداری منصوبے کی نگرانی کے لیے پارلیمانی کمیٹی قائم کی جائے گی:وزیراعظم نواز شریف

 وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت اے پی سی میں سیاسی قیادت نے منصوبے کی متفقہ منظوری دے دی۔ اے پی سی کے اعلامیے کے مطابق پاک چین اقتصادی راہداری کےمغربی روٹ کی تعمیرترجیحی بنیادوں پرمکمل کی جائے اور راہداری منصوبے کے تحت  سڑکیں، ریل نیٹ ورکس، ہوائی اڈے اور سی پورٹس تعمیرکی جائیں گی۔ اس موقع پر وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ قومی معاملات پر اتفاق رائے اور افہام و تفہیم کے ذریعے آگے بڑھنا چاہتے ہیں، پاک چین دوستی سیاست سے بالاتر اور تمام جماعتوں کے لئے یکساں ہے، چین کو اس سے غرض نہیں کہ پاکستان میں حکومت کس کی ہے، حکومت منصوبے کو شفاف بنانا چاہتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاستدانوں نے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھا ہے تاہم جمہوری طریقے سے انتقال اقتدار خوش آئند ہے اور اس سلسلے میں اٹھارہویں ترمیم کی متفقہ منظوری بہت بڑا سنگ میل ہے۔ بعد میں اجلاس کے اختتام پر وزیراعظم نواز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ چین نے اقتصادی منصوبے کی صورت میں پاکستان کو ایک انمول موقع فراہم کیا ہے ۔ ہم سب اس بات پر متفق ہیں کہ اس منصوبے کے ثمرات میں ملک کے تمام صوبوں اور علاقوں کو بلاامتیاز شریک کیا جائے گا اور اس بات کو یقینی بنایاجائے گا کہ اس پر عمل درآمد کے ذریعے تمام صوبوں کے مساویانہ ترقی کے عمل کو فروغ دیا جائے۔ وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ سیاسی قیادت نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ خنجراب سے گوادر تک کے منصوبے میں مغربی راہداری کو سب سے پہلے مکمل کیا جائے گا اور اس پر رواں برس ہی کام شروع ہو گا، اقتصادی راہداری منصوبے کی نگرانی کے لئے پارلیمانی کمیٹی قائم کی جائے گی، جس میں تمام پارلیمانی جماعتوں کی نمائندگی ہوگی۔

اقتصادی راہداری کے روٹ میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی: احسن اقبال
آل پارٹیز کانفرنس کو بریفنگ دیتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ پاک چین تعلقات میں کسی جماعت کی اجارہ داری  نہیں،منصوبوں سے متعلق غلط فہمیاں پیدا کی گئیں ،یہ منصوبہ صرف ایک سڑک کا نام نہیں بلکہ کئی منصوبوں کا مجموعہ ہے، سڑک کے روٹ میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی-
احسن اقبال نے کہا کہ چین چھالیس ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کررہا ہے  جن میں سے چونتیس  ارب ڈالرز توانائی کے منصوبوں کیلئے مختص کیے گئے ہیں ،منصوبوں کے تحت پورے ملک میں بجلی پیدا کی جائے گی ، کسی صوبے کیساتھ نا انصافی نہیں ہوگی ،انہوں نے کہا کہ  راہداری کے اکنامک کوریڈورز  کہاں کہاں ہونگے،اس کا فیصلہ  اکتوبر میں چین سے  مل کر  کیا جائے گا-وفاقی وزیر  کا کہنا تھا کہ گوادرکو ملک کے دیگرحصوں سے ملانے کیلئےکام جاری ہے،گوادرسوراب شاہراہ دو ہزار سولہ  تک مکمل ہوجائے گی،ملتان سکھر موٹر وے پر دو اعشاریہ چار ارب خرچ ہونگے،مغربی روٹ پر تیزی سے کام ہورہا ہے ، خضدار سے رتو ڈیرو تک روٹ ایک سال میں مکمل ہوگا ،سکھر سے لاہور اسلام آباد روٹ  بھی بنے گا ،  چھے سو پچاس کلو میٹر کا مغربی روٹ ڈیرہ اسماعیل خان اور پشاور سے بھی گزرے گا -