ایگزیکٹ کے سی ای او ، انکے بہنوئی سمیت 5 ڈائریکٹر 7 روزہ ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے

 ایگزیکٹ کے سی ای او ، انکے بہنوئی سمیت 5 ڈائریکٹر 7 روزہ ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے

کراچی+ اسلام آباد (نیٹ نیوز+ نوائے وقت نیوز+ ایجنسیاں+ خبرنگار خصوصی) کراچی کی ایک عدالت نے ایف آئی اے کی استدعا پر جعلی ڈگریوں کے معاملے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی کمپنی ایگزیکٹ کے سربراہ شعیب شیخ اور وقاص عتیق سمیت پانچ ڈائریکٹروں کو 4 جون تک7روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کر دیا ہے۔ ایف آئی اے نے استدعا کی تھی کہ ملزموں سے مزید تفتیش کرنی ہے، جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔ ایف آئی آر درج ہونے کے بعد ایف آئی اے نے شعیب شیخ اور وقاص عتیق سمیت پانچ ڈائریکٹروں کو ہتھکڑیاں لگاکر جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں ریمانڈ کے لئے پیش کیا تھا۔ اس سے قبل ایف آئی اے نے جعلی ڈگریوں کے معاملے میں ایگزیکٹ کے سربراہ شعیب شیخ کے خلاف مقدمہ دج کیا تھا۔ شعیب شیخ اس وقت زیرتفتیش ہیں۔ حکام کے مطابق شعیب شیخ کے ساتھ ان کی کمپنی کے ڈائریکٹر وقاص عتیق بھی زیرحراست ہیں۔ شعیب شیخ کے خلاف مقدمے میں جعلسازی دھوکہ دہی، فراڈ سے متعلق دفعات شامل کی گئی ہیں۔ دوسری جانب ڈائریکٹر ایف آئی اے شاہد حیات کی زیرصدارت اہم اجلاس ہوا جس میں ایگزیکٹ آفس پر چھاپے کے دوران ملنے والے شواہد پر بات چیت کی گئی۔ اجلاس میں شعیب شیخ کے خلاف مزید مقدمات درج کرنے پر غور کیا گیا۔دوسری جانب حکومت نے ایگزیکٹ کے کاروبار کی تفصیلات جاننے کے لئے اماراتی حکومت سے رابطے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ میڈیا رپورٹس میں ایف بی آر کے ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ایگزیکٹ کمپنی کے کاروبار کی تفصیلات جاننے کے لئے اگلے 7 دن میں متحدہ امارات کی حکومت کو خط لکھا جائے گا۔ تفصیلات حاصل ہونے کے بعد ایگزیکٹ سے تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔ آن لائن کے مطابق ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سیل نے شعیب شیخ کے خلاف منی لانڈرنگ، جعلی ڈگری، دھوکہ دہی اور سائبرکرائم کے الزام میں مقدمہ درج کرکے ایف آئی اے سینٹر منتقل کردیا گیا ہے۔ شعیب شیخ کی گرفتاری کے بعد ایف آئی اے نے ایگزیکٹ کے وائس پریزیڈنٹ اور شعیب شیخ کے بہنوئی وقاص عتیق سمیت 5 ڈائریکٹرز کو گرفتار کیا ہے۔ وقاص عتیق پر جرائم میں شعیب شیخ کی معاونت کا الزام ہے۔ذرائع کے مطابق ملزم وقاص کو ایف آئی اے سینٹر میں رکھا گیا ہے۔ ایف آئی اے نے ایگزیکٹ کے دفتر کی ایک برانچ کوسیل کردیا ہے، ذرائع کے مطابق سیل کئے جانے والے دفتر سے بڑی تعداد میں مبینہ جعلی ڈگریاں اور طلباء کے آئی ڈی کارڈز برآمد ہوئے تھے، ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ ایگزیکٹ کی اس برانچ میں پرنٹنگ پریس تھا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ کا کہنا تھا کہ ایگزیکٹ کے سابق ملازمین کو بھی بطور گواہ مقدمے میں شامل کیا جائے گا۔ ایف آئی اے نے کمپنی کے اعلی عہدے داروں سے کہا ہے کہ وہ اپنی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ اور ٹیکس ریٹرن کی تفصیلات فراہم کریں۔ ایف آئی اے کے ایک عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ الزامات درست ثابت ہونے کی صورت میں پاکستان الیکٹرانک ٹرانزیکشن آرڈنینس کے تحت اس جرم میں سات برس قید تک کی سزا سنائی جاسکتی ہے۔ ایف آئی اے کی ٹیم نے ایگزیکٹ سکینڈل پر امریکی سفارتخانے میں ایف بی آئی کی ٹیم سے ملاقات کی۔ ایف آئی اے نے امریکہ میں ایگزیکٹ کے بینک اکائونٹ کی تفصیلات اور دستاویزات ایف بی آئی کو فراہم کی ہیں ان دستاویزات میں 20کے قریب یونیورسٹیوں، تعلیمی اداروں کی فہرست شامل ہے۔ اس کے ساتھ 6کے قریب بینک اکائونٹس کی تفصیلات بھی شامل ہیں۔ ایگزیکٹ کمپنی کے اکائونٹس امریکہ کی مختلف ریاستوں میں کھلے ہیں۔ ایف بی آئی سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ ان کی معاونت کریں۔ جس پر ایف بی آئی نے معاونت کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ایف بی آئی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ایگزیکٹ کے سابق 25ملازمین کے بیانات قلمبند کئے گئے ہیں۔ سابق ملازمین کو بطور گواہ عدالت میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وزیر اطلاعات پرویز رشید نے کہا ہے کہ ایگزیکٹ سیکنڈل سے قانون کے مطابق نمٹا جائیگا۔ ایگزیکٹ کے معاملے سے صحافیوں کا براہ راست تعلق نہیں، وہ جس ادارے میں کام کرتے ہیں وہ ابھی آن ائر بھی نہیں ہوا۔ صحافی دوسرے ادارے میں جا سکتے ہیں، جب ان سے سوال کیا گیا کہ ایگزیکٹ کے اکائونٹس بند ہونے سے بول کے صحافیوں کی تنخواہ بھی رک سکتی ہے تو پرویز رشید نے جواب دیا کہ اس وقت قانون کے مطابق فیصلہ کیا جائیگا۔ ایگزیکٹ کے معاملے پر ایف آئی اے ذمہ داری پوری کر رہی ہے۔ ایف آئی اے نے ایگزیکٹ سکینڈل کی تحقیقات کے دوران امریکہ کی 15 اور برطانیہ کی ایک جعلی یونیورسٹی کا سراغ لگایا جبکہ ان یونیورسٹیوں کی جانب سے ساڑھے 4 ہزار افراد کو مبینہ طور پر ڈگریاں فر وخت کی گئیں۔ ایگزیکٹ متاثرین ڈگری ہولڈرز کو ایف آئی اے کی طرف سے رابطے کیلئے ای میل کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اندرون و بیرون ملک سے ڈگری ہولڈرز فوری طو رپر ایف آئی اے سے رابطہ کریں۔ ذرائع کے مطابق ایگزیکٹ کے دفاتر سے ملنے والے ڈیٹا کی چھان بین میں ایف آئی اے نے جن 16 غیر ملکی یونیورسٹیوں کا سراغ لگایا ہے ان میں امریکن انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ سٹڈیز ‘مسٹ‘ میڈیسن ہلز یونیورسٹی‘ پیرا مائونٹ کیلیفورنیا یونیورسٹی‘ نیکولسن یونیورسٹی ‘بروکس ویل یونیورسٹی‘ گرانٹ چیسٹر یونیورسٹی‘ گرانٹ ٹائون یونیورسٹی‘ ایڈمز وائل یونیورسٹی‘ پریسلے یونیورسٹی‘ ڈرومائونٹ یونیورسٹی‘ آسکر مائونٹ یونیورسٹی‘ آلووا یونیورسٹی‘ ایج گروپ یونیورسٹی‘ کنگز لیک یونیورسٹی‘ رائزیونیورسٹی اور نیشنل ہائی سکول شامل ہیں۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے اسلام آباد انعام غنی نے بتایا کہ ہم نے مذکورہ یونیورسٹیوں کے ساڑھے 4 ہزار ڈگری ہولڈرز کا سراغ لگایا ہے اس میں ملکی اور غیر ملکی افراد بھی شامل ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ نے ایگزیکٹ سکینڈل پر کہا ہے کہ حکومت پاکستان سے رابطے میں ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ نے ایگزیکٹ کے ساتھ معاہدہ کی بھی تردید کر چکا ہے۔ وزارت داخلہ نے امریکی ایف بی آئی سے رابطے کیلئے فوکل پرسن مقرر کر دیا ہے۔ ایف آئی اے ڈائریکٹر اسلام آباد انعام غنی کو فوکل پرسن مقرر کیا گیا ہے۔ ایف بی آئی کی طرف سے اسلام آباد میں امریکہ سفارتخانہ معاونت کرے گا۔ ایف آئی اے نے ایگزیکٹ کمپنی کے 34اکائونٹس سے پیسوں کی منتقلی اور نکالنیپر پابندی عائد کر دی ہے۔ اے ایف پی کے مطابق مجسٹریٹ جاوید ملک نے میڈیا کو بتایا کہ دوران تفتیش شعیب احمد شیخ نے خالی ڈگریوں کے مقامات کا انکشاف کیا ہے جو پرنٹنگ کے لئے تیار تھیں۔ اس کے علاوہ جعلی شناختی کارڈز کے بارے میں بھی بتایا ہے۔

نیو یارک (نمائندہ خصوصی) پاکستان نے نیو یارک ٹائمز کے حالیہ اداریہ کی مذمت کی ہے۔ جس میں حکومت پاکستان کو ایگزیکٹ کے معاملے میں ملوث کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ پاکستان کے پریس اتاشی ندیم ہوتیانہ نے ایگزیکٹ سکینڈل پر نیو یارک ٹائمز کو خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نیو یارک ٹائمز کی نشاندہی پر حکومت پاکستان معاملے کو دیکھ رہی ہے۔ برطانیہ نے کہا ہے کہ ایگزیکٹ کی جعلی ڈگریوں کے سکینڈل کی تحقیقات پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے، اس سلسلے میں لندن اسلام آبادکی طرف سے کسی سرکاری درخواست بارے آگاہ نہیں، برطانوی دفتر خارجہ کے ترجمان نے بذریعہ ای میل بتایاکہ ایگزیکٹ کی جعلی ڈگریوں کے سکینڈل کی تحقیقات پاکستانی حکام کررہے ہیں، ایک اور برطانوی اہلکار نے بتایاکہ جعلی ڈگری سکینڈل کی تحقیقات کیلئے بین الاقوامی آپریشن کی سرکاری درخواست بارے میں لندن لاعلم ہے پاکستانی حکام اس معاملے کی تحقیق کررہے ہیں۔ امریکی حکام نے نیویارک اخبارکی رپورٹ پر کمپنی کے جعلی ڈگریوں کے سکینڈل بارے حکومت پاکستان کے ساتھ رابطے کی تصدیق کی ہے جس میں بڑی رقم کے عوض امریکی شہریوں کو جعلی ڈگریاں دی گئی ہیں ۔ ایف بی آئی اے کی ٹیم ایگزیکٹ دفتر راولپنڈی کے رہائشی یونٹس کی تلاشی کے بعد روانہ ہو گئی۔ ایف آئی اے ٹیم نے مزید 6 کمپیوٹرز اور کچھ دستاویزات قبضے میں لے لی ہیں۔