ایکشن پلان کا مئوثر نفاذ یقینی بنانے، آپریشن ضرب عضب کو بندو بستی علاقے تک توسیع دینے کا فیصلہ

ایکشن پلان کا مئوثر نفاذ یقینی بنانے، آپریشن ضرب عضب کو بندو بستی علاقے تک توسیع دینے کا فیصلہ

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی+ ایجنسیاں+ نوائے وقت رپورٹ) وزیراعظم محمد نوازشریف کی زیرصدارت اجلاس میں آپریشن ضرب عضب اور قومی ایکشن پلان کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان، وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف، ڈی جی آئی ایس آئی اور دوسرے اعلیٰ فوجی اور سول افسروں نے شرکت کی۔ اجلاس میں آپریشن ضرب عضب کی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔ نقل مکانی کرنے والے افراد کی گھروں کو واپسی سے متعلقہ امور پر بھی بات چیت کی گئی۔ دہشت گردوں کی سرکوبی کے لئے تیار کردہ قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کے جائزہ کے علاوہ اس پر موثر عملی اقدامات سے متعلق بات چیت کی گئی۔ ذرائع کے مطابق آئی ڈی پیز کی بحالی کیلئے تین سالہ حکمت عملی پر مشاورت کی گئی۔ اس مقصد کیلئے ایک بلین ڈالر کے مالی وسائل کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لئے درکار وسائل مختص کرنے کے معاملے پر بھی بات ہوئی۔ وزیراعظم نے وزارت خزانہ کو ہدایت کی کہ قومی ایکشن پلان کے تحت آنے والے اداروں اور اقدامات کے لئے تمام وسائل فراہم کئے جائیں۔ واضح رہے کہ محدود مالی گنجائش کی وجہ سے آئندہ بجٹ میں آئی ڈی پیز کے لئے امرا پر ایک خاص شرح سے سرچارج عائد کئے جانے کا امکان ہے۔ آن لائن کے مطابق ڈی جی آئی ایس آئی رضوان اختر نے ملک میں امن و امان کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی جبکہ فاٹا میں تعمیر نو کے حوالے سے معاملات زیر غور آئے۔ ملک میں سکیورٹی کی صورت حال بہتر بنانے کے لئے قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد یقینی بنانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ اجلاس کے دوران سانحہ صفورا ملک میں غیرملکی ایجنسیوں کی موجودگی ان کی نقل و حرکت کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ صباح نیوز کے مطابق سیاسی اور عسکری قیادت نے کامیابی سے جاری آپریشن ضرب عضب پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ قیادت کو آپریشن میں مزید پیشرفت کے بارے میں غیرمعمولی بریفنگ دی گئی۔ قومی ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد کے لئے اہم فیصلے کئے گئے ہیں۔ اس ضمن میں موثر عمل درآمد کے لئے فوری اقدامات کئے جائیں گے۔ نیشنل ایکشن پلان کے موثر نفاذ کے لئے فوری طور پر ٹھوس اقدامات کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ حکومت نے بے گھر افراد کی باعزت واپسی بحالی اور متعلقہ علاقوں کی تعمیر نو کے حوالے سے بھی اہم اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے لئے قومی بجٹ میں خاطرخواہ فنڈز رکھے جا رہے ہیں۔ دریں اثناء بلوچستان سے متعلق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ بلوچستان میں امن واستحکام کیلئے ٹھوس اقدامات کئے جارہے ہیں ، بلوچستان کو پاکستان چین اقتصادی راہداری سے بہت فائدہ ہوگا، اقتصادی راہداری بلوچستان میں خوشی کی لہر لائے گی۔ وزیراعظم نواز شریف کی زیرصدارت بلوچستان سے متعلق اجلاس ہوا جس میں صوبے کی مجموعی سیاسی صورتحال اور امن وامان پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ ، وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق، بلوچستان کے سینئر وزیر مسلم لیگ (ن) کے رہنما سردار ثناء اللہ زہری، صوبائی وزیر ایکسائز و ٹیکسیشن جعفر خان مندوخیل، وزیراعظم کے پولیٹیکل سیکرٹری ڈاکٹر آصف کرمانی اور چیف سیکرٹری بلوچستان شریک ہوئے۔ وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ حکومت بلوچستان کی ترقی کیلئے مطلوبہ فنڈز فراہم کررہی ہے۔ وزیراعظم آزاد کشمیر چودھری عبدالمجید سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی یقینی بنائیں گے، آزاد کشمیر کی ترقی کیلئے حکومت فنڈز کی فراہمی جاری رکھے گی۔ آزاد کشمیر کے وزیراعظم نے وزیراعظم نواز شریف کو ترقیاتی اور عوامی فلاحی کاموں سے آگاہ کیا۔ دی نیشن کے مطابق اس اجلاس کی کارروائی سے واقف ذرائع کا کہنا ہے کہ سول اور عسکری قیادت نے آپریشن ضرب عضب کا دائرہ کار ملک کے بندوبستی علاقے تک پھیلانے کا متفقہ فیصلہ کیا ہے کیونکہ ایسی اطلاعات تھیں کہ دہشت گرد جنوبی وزیرستان میں آپریشن کے بعد بندوبستی علاقے میں منتقل ہو گئے ہیں۔ وزیراعظم اس لعنت سے نمٹنے کے لئے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کا مربوط کام چاہتے ہیں۔