یکم جون کو قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس‘ ایوان صدر کو سمری موصول‘ نئے وزیراعظم 5 کو حلف اٹھائیں گے

یکم جون کو قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس‘ ایوان صدر کو سمری موصول‘ نئے وزیراعظم 5 کو حلف اٹھائیں گے

لاہور + اسلام آباد + پشاور (ایجنسیاں + نوائے وقت رپورٹ) سویلین اقتدار کی منتقلی کا تاریخی موقع آپہنچا، صدر قومی اسمبلی کا اجلاس یکم جون کو بلا رہے ہیں۔ ادھر گورنر پنجاب نے پنجاب اسمبلی کا اجلاس یکم جون کو صبح 10 بجے طلب کر لیا ہے جس میں نئے منتخب ارکان پنجاب اسمبلی حلف اٹھائیں گے۔ نامزد وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف اپنے عہدے کا حلف 6 جون کو اٹھا رہے ہیں۔ دوسری جانب خیبر پی کے اسمبلی کا اجلاس 29 مئی کو صبح 10 بجے طلب کیا گیا ہے۔ وہاں بھی نومنتخب ارکان اسمبلی حلف اٹھائیں گے۔ اس اجلاس کے دوران وزیر اعلیٰ، سپیکر، ڈپٹی سپیکر کا بھی انتخاب کیا جائے گا۔ سندھ اسمبلی کا اجلاس پہلے ہی 29 مئی کو طلب کیا جا چکا ہے۔ نگران وزیر اعظم میر ہزار خان کھوسونے آرٹیکل 54 کے تحت نومنتخب قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس یکم جون کو بلانے کی سمری ایوان صدر کو بھیج دی جو ایوان صدر کو مل گئی ہے۔ اس اجلاس میں ارکان قومی اسمبلی یکم جون کو حلف اٹھائیں گے۔ ذرائع کے مطابق نگران وزیر اعظم میر ہزار خان کھوسو کی جانب سے ایوان صدر کو بھیجی گئی سمری میں تجویز کیا گیا ہے کہ یکم جون کو نومنتخب قومی اسمبلی کے پہلے اجلاس میں سپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا ارکان اسمبلی سے حلف لیں گی، 2 جون کو سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کےلئے کاغذات نامزدگی جمع کرائے جائیں گے۔ 3 جون کو سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کا انتخاب عمل میں آئےگا۔ 4 جون کو وزیراعظم کےلئے کاغذات نامزدگی جمع کرائے جائیں گے جبکہ وزیراعظم کا انتخاب 5 جون کو ہو گا۔ نئے وزیراعظم سے حلف لینے کی تقریب 5 جون کو ایوان صدر میں ہو گی جہاں صدر آصف علی زرداری نئے وزیراعظم سے حلف لیں گے، صدارتی ترجمان فرحت اللہ بابر نے تصدیق کی ہے کہ قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کی سمری مل گئی۔ صدر اسلام آباد میں نہیں اس لئے دستخط نہیں کئے۔ ایوان صدر نے مسلم لیگ (ن) سے تقریب میں شرکت کیلئے آنے والے مہمانوں کے ناموں کی فہرست طلب کر لی ہے‘ تقریب میں چاروں سابق وزرائے اعظم‘ سروسز چیفس‘ چاروں صوبوں اور گلگت بلتستان کے وزرائے اعلی‘ گورنرز اور وزیراعظم آزاد کشمیر بھی شرکت کریں گے۔ ایوان صدر کے دربار ہال میں حلف برداری کی تقریب منعقد ہو گی۔ اس سلسلے میں تمامتر تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔ دربار ہال میں 400 مہمانوں کے بیٹھنے کی گنجائش موجود ہے۔ تقریب میں خاص بات یہ ہو گی کہ اس میں چاروں سابق وزرائے اعظم شرکت کریں گے جن میں چودھری شجاعت حسین‘ میر ظفراللہ خان جمالی‘ یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف شامل ہیں جبکہ نگران وزیراعظم میر ہزار خان کھوسو جو کہ اس وقت سابق وزیراعظم ہو چکے ہوں گے‘ تقریب میں سروسز چیفس‘ غیر ملکی سفرائ‘ مسلم لیگ ن کے عہدیداران‘ چاروں صوبوں کے گورنر‘ نگران وزرائے اعلی‘ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان‘ ممکنہ طور پر چیف جسٹس سپریم کورٹ‘ سپریم کورٹ کے جج صاحبان اور نگران وزرا بھی شرکت کریں گے۔ اس موقع پر نئی کابینہ بھی حلف اٹھائے گی۔ واضح رہے صدر آصف علی زرداری تیسرے وزیراعظم سے حلف لیں گے۔ انہوں نے پہلے راجہ پرویز اشرف اور پھر نگران وزیراعظم میر ہزار خان کھوسو سے حلف لیا اور اب وہ ممکنہ طور پر میاں نوازشریف سے حلف لیں گے۔ فرحت اللہ بابر نے انٹرویو میں کہا کہ نگران وزیراعظم کی جانب سے یکم جون کو قومی اسمبلی کے اجلاس کو طلب کرنے کی سمری موصول ہوئی۔ صدرِ آصف علی زرداری نے حکومت سازی کے لئے یکم جون کو قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ صدرِ اس وقت کراچی میں ہیں، سمری پر ان کی دستخط ایک رسمی کارروائی ہے۔ یکم جون کو ارکان قومی اسمبلی حلف اٹھائیں گے اور اجلاس کی صدارت ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کریں گی۔ بعد میں نئے سپیکر کے انتخاب کا عمل شروع ہو گا اور نومنتخب سپیکر کی زیر صدارت ڈپٹی سپیکر کا انتخاب ہو گا، اس کے بعد قائد ایوان منتخب ہوں گے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم اور کابینہ کی حلف برداری اور بجٹ پیش ہونے کے مراحل جون کے پہلے ہفتے میں ہی مکمل ہو جائیں گے۔