ہمارے ایٹمی قوت بننے سے بھارت سے 3 جنگیں ٹل گئیں : ثمر مبارک مند

ہمارے ایٹمی قوت بننے سے بھارت سے 3 جنگیں ٹل گئیں : ثمر مبارک مند

لاہور (اشرف ممتاز / دی نیشن رپورٹ) پاکستان نے چاغی میں ایٹمی د ھماکوں کا فیصلہ 28 مئی 1998ءسے دو ہفتے قبل دفاعی کمیٹی کے اجلاس میں کیا تھا۔ یہ بات پاکستان کو ایٹمی ملک بنانے میں اہم کردار ادا کرنے والے معروف سائنسدان ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے ان دھماکوں کی 14ویں سالگرہ پر ”دیشن نیشن“ سے انٹرویو میں بتائی۔ انہوں نے کہا کہ 14 مئی 1998ءکو دفاعی کمیٹی کے اجلاس میں تمام متعلقہ فریقین موجود تھے اور انہوں نے اس بارے میں اظہار خیال کیا کہ آیا پاکستان کو بھارت کے 5 ایٹمی دھماکوں کا جواب دینا چاہئے۔ اس اجلاس کی صدارت اس وقت کے وزیراعظم نوازشریف، ڈاکٹر عبدالقدیر خان، وزیر خارجہ، سروسز چیفس اور ڈاکٹر ثمر مبارک مند خود بھی موجود تھے۔ نوازشریف نے بڑے صبر و تحمل سے تمام شرکا کے خیالات سنے، زیادہ تر کا خیال تھا کہ صورتحال اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ پاکستان کو بلاتاخیر اپنی ایٹمی صلاحیت کا اظہار کرنا چاہئے۔ جب اکثریتی رائے ایٹمی دھماکوں کے حق میں آئی تو نوازشریف نے بھی ان کی آواز میں آواز ملائی اور ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے وزیراعظم سے پوچھا کہ آیا میں دھماکوں کے لئے جا¶ں تو وزیراعظم نے کہا کہ نہیں ابھی نہیں۔ وزیراعظم نے اجلاس میں کہا کہ دھماکوں سے قبل تمام دوست ممالک کو اعتماد میں لینا چاہئے۔ اس مقصد کے لئے خصوصی وفود مختلف ممالک میں جائیں گے اور ان ک ی واپسی پر پھر آگے بڑھیں گے۔ 20 مئی کو گرین سگنل دیا گیا، سائنسدانوں کی ٹیم نے اس کام کو منطقی انجام تک 9 روز میں پہنچایا۔ 28 مئی 1998ءکو 5 دھماکے کرنے سے پاکستان بھارت کے برابر آ گیا، پھر 30 مئی 1998ءکو ایک اور دھماکہ کر کے اس میدان میں آگے آ گیا۔ دفاعی کمیٹی کے اجلاس سے ایک روز قبل نوازشریف نے ثمر مبارک مند سے علیحدہ ملاقات یہ پوچھنے کے لئے کی کہ دھماکے ناکام رہے تو پھر کیا ہو گا۔ نوازشریف نے خود ہی اپنے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایسی صورت میں پاکستان کے لئے ایک تکلیف دہ صورتحال ہو گی۔ اس موقع پر ڈاکٹر مبارک مند نے وزیراعظم کو بتایا کہ ہم یہ دھماکے کامیاب بنانے کی 150 فیصد کوشش کریں گے تاہم نتائج اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ ہر شخص کو اس کی کامیابی کے لئے دعا کرنی چاہئے۔ اس سوال پر کہ 28 مئی کو دراصل کیا ہوا، انہوں نے کہا کہ یہ ان کی زندگی کا بہت اہم دن تھا جب انہوں نے متعلقہ انجینئروں سے کہا کہ وہ دھماکے کے لئے کمپیوٹر کا بٹن دبا دیں۔ ہر شخص عملی طور پر دھماکہ ہوتے دیکھنا چاہتا تھا۔ اس وقت سہ پہر کے 3.15 تھے جب 5 سیکنڈ تک کچھ نہ ہوا تو ہر شخص پریشان تھا، یہ 5 سیکنڈ میری زندگی کا سب سے لمبا عرصہ۔ تھا۔ 5 سیکنڈ بعد جب دھماکہ ہوا تو ہر شخص خوش تھا اور اللہ اکبر کے نعرے لگا رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایٹمی قوت بننے کے بعد پاکستان کی بھارت کے ساتھ 3 جنگیں ٹل گئیں کیونکہ بھارت جانتا تھا کہ پاکستان اب برابر کا جواب دے سکتا ہے۔ 1999ءمیں کرگل کے واقعہ کے بعد پاکستان بھارت جنگ کا خطرہ تھا مگر پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کے باعث اسے جرا¿ت نہ ہو سکی۔ 2002ءمیں بھی بھارت نے سرحد پر فوج اکٹھی کی، یہ صورتحال کئی ماہ جاری رہی مگر جنگ ٹل گئی۔ 2008ءمیں ممبئی بم دھماکو کے بعد بھی صورتحال بگڑ گئی مگر جنگ نہ ہوئی۔ ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان نے ڈیلیوری سسٹم بنایا۔ سائنسدانوں اور انجینئروں کی کاوشوں سے پاکستان ایٹمی قوت بنا ہے۔ واضح رہے کہ اس بار یوم تکبیر اس وقت آیا ہے جب نوازشریف تیسری بار وزیراعظم بننے جا رہے ہیں۔