پاکستان میں ڈرون حملے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہیں : ہائی کمشنر اقوام متحدہ

پاکستان میں ڈرون حملے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہیں : ہائی کمشنر اقوام متحدہ

جنیوا (نیٹ نیوز + ایجنسیاں) اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسانی حقوق کی ہائی کمشنر نیوانیتھم پلے نے پاکستان میں ڈرون حملوں کو غیر منصفانہ اور قابل مذمت قرار دیا ہے۔ جنیوا میں ہونے والے انسانی حقوق کونسل کے 23ویں سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ڈرون حملے قابل مذمت ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور فوجی آپریشنز میں ڈرون طیاروں کے استعمال اور انسانی حقوق کی پامالی پر وہ بہت رنجیدہ ہیں۔ نیوی پلے نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف فوجی آپریشنز کے دوران ڈرون طیاروں کے استعمال سے انسانی حقوق کی پیدا ہونے والی صورتحال بہت تکلیف دہ ہے اور وہ اس سے بہت ڈسٹرب ہوتی ہیں۔ پاکستان میں دہشت گردی کے نام پر ہونے والے ڈرون حملے غیر منصفانہ ہیں، ان سے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے، انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے خلاف اقدامات کرنے سے دہشت گردی میں کمی کے بجائے اضافہ ہو رہا ہے۔ نیوی پلے کا کہنا تھا کہ گوانتاناموبے جیل میں قیدیوں کو غیر معینہ مدت کے لئے قید میں رکھنا بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے، جیل میں قیدیوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں سے بھی دہشت گردی کو فروغ مل رہا ہے، فیئر پلے کا حق ملنا چاہئے۔ انہوں نے حکومتوں کو بتایا کہ کسی شخص کی آزادیوں کو محدود کرنے اور مشتبہ افراد سے بدسلوکی کے باعث صرف صورتحال ابتر ہی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات خود اپنی شکست کے مترادف ہیں۔ اقوام متحدہ میں پاکستانی مستقل مندوب ضمیر اکرم نے ان کے بیان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کئی برس سے ڈرون حملوں کے خلاف آواز بلند کر رہا ہے، ان حملوں پر نظرثانی کا مطالبہ کیا مگر ہمیشہ مخالفانہ اقدام سے اس کی نفی کی گئی ہے۔ انہوں نے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کا بھی حوالہ دیا جس میں ڈرون حملوں کو عالمی قوانین کے بھی منافی قرار دیا گیا تھا۔