مسلم لیگ کو مضبوط بنانے کے پیش نظر ق لیگ سے اتحاد خارج از امکان نہیں : اقبال ظفر جھگڑا

مسلم لیگ کو مضبوط بنانے کے پیش نظر ق لیگ سے اتحاد خارج از امکان نہیں : اقبال ظفر جھگڑا

اسلام آباد (ثناءنیوز) پاکستان مسلم لیگ ن کے سیکرٹری جنرل اقبال ظفر جھگڑا نے کہا ہے کہ نواز شریف کی پارٹی کو مضبوط بنانے کی خواہش کے پیش نظر ق لیگ کے ساتھ اتحاد خارج از امکان نہیں۔ وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف مسلم لیگی دھڑوں کا اتحاد چاہتے ہیں اور اس بنیاد پر اسٹیس مین شپ کا مظاہرہ کرتے ہوئے تمام رہنماں کو پی ایم ایل این میں شمولیت کی دعوت دے رکھی ہے۔ میاں صاحب نے جو بڑے پن کا مظاہرہ کیا ہے اس میں اسے رول آ¶ٹ نہیں کیا جا سکتا۔ اس وقت جو ملک کو چیلنجز کا سامنا ہے اس میں میاں صاحب کے ہاتھ مضبوط کرنا ہوں گے تاکہ قومی مفاد یا پالیسی پر اگر کوئی فیصلہ کرنا ہو تو کوئی دقت نہ پیدا ہو یا کوئی ہمیں بلیک میل کر سکے۔ تاہم پارٹی کے اجلاس میں اب تک یہ معاملہ زیر بحث نہیں آیا۔ اقبال جھگڑا کا کہنا تھا کہ ان کے رہنما کی مسلم لیگ (ق) کی قیادت سے کوئی ذاتی رنجش نہیں۔ 11 مئی کے عام انتخابات میں واضح اکثریت حاصل کرنے کے بعد مسلم لیگ ن ناصرف وفاق اور دو صوبوں میں اپنی حکومتوں کو بلکہ پارٹی کو مضبوط بنانے کی بھی سرتوڑ کوششوں میں مصروف ہیں۔ سابق وزیراعظم میر ظفر اللہ خان جمالی کی نواز لیگ میں شمولیت کے بعد سندھ کے سابق وزیراعلی ارباب غلام رحیم بھی اپنی جماعت پیپلز مسلم لیگ کو ن لیگ میں ضم کرنے کا اعلان کر چکے ہیں۔ گزشتہ روز ہی سندھ کے بااثر سیاست دان اور مسلم لیگ فنکشنل کے سربراہ پیر پگاڑا سید صبغت اللہ راشدی نے پی ایم ایل این کی وفاق میں حکومت میں شرکت کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ مسلم لیگ کے مختلف دھڑوں کو یکجا کرنے کی ہر ممکن کوششیں کی جائیں گی۔ ادھر پاکستان مسلم لیگ قائداعظم نے بھی اپنے ایک اجلاس میں سابق حکومتی اتحاد کا حصہ بننے کے فیصلے کو غلطی قرار دیتے ہوئے آئندہ پیپلز پارٹی سے کسی قسم کا اتحاد نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ق لیگ کے سیکرٹری اطلاعات کامل علی آغا کا کہنا تھا کہ ان کی قیادت اور جماعت مسلم لیگی دھڑوں کے اتحاد کے حق میں ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ تمام مسلم لیگی دھڑے اکٹھے ہوں۔ پیر پگاڑا کی طرف سے اگر ایسی کوئی دعوت آئی تو ہم سنجیدگی سے اسے دیکھیں گے۔ تاہم کامل علی آغا کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی جانب سے غیر لچکدار رویے کی وجہ سے مختلف اوقات میں کوششوں کے باوجود مسلم لیگی دھڑوں میں اتحاد نہ ہو سکا اور بظاہر اس وقت بھی مشکل ہے۔