لوڈشیڈنگ کیخلاف مظاہرے‘ میر پور میں جھڑپیں‘ لاٹھی چارج‘ کئی زخمی

لوڈشیڈنگ کیخلاف مظاہرے‘ میر پور میں جھڑپیں‘ لاٹھی چارج‘ کئی زخمی

لاہور + اسلام آباد (نیوز رپورٹر + سٹاف رپورٹر + نامہ نگاران + نمائندہ نوائے وقت + نوائے وقت رپورٹ) صوبائی دارالحکومت سمیت ملک بھر میں بدترین لوڈشیڈنگ، احتجاج کا سلسلہ جاری رہا اور کئی شہروں میں مظاہرے کئے گئے، آزاد کشمیر کے شہروں میرپور، کوٹلی سمیت کئی علاقوں میں بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کیخلاف مکمل شٹر ڈاﺅن اور پہیہ جام ہڑتال کی گئی۔ میرپور میں مظاہرین نے پاور ہاﺅس کا گھیراﺅ کر لیا۔ منگلا کے قریب پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا، مظاہرین نے پولیس پر جوابی پتھراﺅ کیا پولیس اور مظاہرین میں جھڑپوں کے دوران کئی افراد زخمی ہو گئے، زخمیوں میں ایس ایچ او خواجہ عبدالقیوم اور سابق رکن آزاد کشمیر اسمبلی چودھری اشرف بھی شامل ہیں میرپور شہر میں 4 گھنٹے کی اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا نوٹیفکیشن جاری ہونے کے باوجود مظاہرین نے لوڈشیڈنگ سے مکمل استثنیٰ تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کر دیا۔ لاہور میں بھی کئی علاقوں میں مظاہرے کئے گئے اور سڑکیں بلاک کر دی گئیں جبکہ نگران وزیراعظم کی ہدایت پر وزارت خزانہ نے تیل کی خریداری کیلئے وزارت پانی و بجلی کو 10 ارب روپے جاری کر دئیے ہیں۔ وزیراعظم میر ہزار خان کھوسو نے جھم پیر میں 56.4 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کے حامل پن بجلی منصوبے کے تمام لوازمات مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعظم نے حکم دیا کہ آئندہ 48 گھنٹے میں بجلی نیشنل گرڈ میں آ جانی چاہیے۔ وزیراعظم نے یہ ہدایت اعلیٰ سطح کے اجلاس میں دی جس میں توانائی کی صورت حال کا جائزہ لیا گیا۔ مشیر شاہد امجد چودھری نے اجلاس میں بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر وزارت پانی و بجلی کو فرنس آئل کے لئے 10 ارب روپے جاری کئے جا رہے ہیں۔ بعدازاں وزارت خزانہ نے وزیراعظم کے حکم پر 10 ارب روپے جاری کر دیئے۔ ترجمان وزارت پانی و بجلی کے مطابق سوئی ناردرن نے 3 تھرمل پاور پلانٹس کی گیس بحال کر دی، ادھر بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کے خلاف عوام کا احتجاج جاری ہے۔ گزشتہ روز مختلف شہروں میں مظاہرے کئے گئے۔ آزاد کشمیر میں ہڑتال کے دوران میرپور اور کوٹلی آزادکشمیر میں تمام بازار اور مارکیٹیں بندرہیں، سڑکوں سے ٹریفک غائب اورمختلف علاقوں میں شہری احتجاجی مظاہرے کرتے رہے ۔میرپور میں مظاہرین کا منگلا پاور ہاﺅس کے گھیراﺅ کیلئے مارچ کیا۔ منگلا کے قریب پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا۔ مظاہرین نے جواب میں پولیس پر پتھراو¿ کیا۔ لاہور شہر کے مختلف علاقوں میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ لیسکو حکام کی جانب سے ہر گھنٹے بعد ایک گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے16 سے 18 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کے ساتھ پانی کی قلت نے بھی جینا دوبھر کر دیا۔ لاہور کے علاقے مصطفیٰ ٹاو¿ن کے رہائشیوں نے پانی کی عدم دستیابی پر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ ادھر وزارت پانی و بجلی نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں بجلی کا شارٹ فال کم ہو کر 3 ہزار 888 میگاواٹ رہ گیا ہے اور ملک بھر سے غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ ختم کردی گئی ہے ملک بھر میں شیڈول لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے۔ ہڑپہ سے نامہ نگار کے مطابق شہریوں کی کثیر تعداد نے میپکو سب ڈویژن ہڑپہ سٹیشن کے دفتر کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ علاوہ ازیں وزارت خزانہ کی طرف سے جاری کی گئی 10 ارب کی رقم وزارت پانی و بجلی کو مل گئی۔ حکام وزارت پانی و بجلی کے مطابق رقم تھرمل پاور پلانٹس کے لئے تیل کی ادائیگیوں پر صرف ہو گی۔ قصور سے نامہ نگار کے مطابق شہریوں نے بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاجی جلوس نکالا۔ مظاہرین نے کچہری چوک میں ٹرک، ٹرالے اور دیگر بڑی گاڑیاں کھڑی کرکے بلاک کر دیا جس کی وجہ سے کئی گھنٹے ٹریفک بلاک رہی۔ مظاہرین نے ٹائروں کو آگ لگائی۔ مظاہرین نے کہا کہ ان کے علاقوں میں چھ چھ گھنٹے مسلسل لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے اور بیس بیس گھنٹے بجلی بند رہتی ہے۔ ادھر لاہور کے اسلام پورہ کے علاقہ میں نیشنل کالج آف آرٹس کا طالب علم شدید گرمی کے باعث ہوسٹل میں جاں بحق ہو گیا۔ گلات کا رہائشی 24 سالہ امان اللہ ہاسٹل کے اندر رہائش پذیر تھا۔ لاہور کے کئی علاقوں میں شہریوں نے مظاہرے کئے۔ شہریوں نے حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ بند روڈ، اسلام پورہ، ساندہ کے علاقوں میں شہریوں نے ٹائر جلا کر روڈ بلاک کر دئیے جبکہ را گئے بڑی تعداد میں شہری بابوصابو انٹر چینج پہنچ گئے اور انہوں نے لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے موٹر وے بلاک کر دی بابو صابو پر 3 گھنٹے تک احتجاج جاری رہا۔ این این آئی کے مطابق صدر آصف زرداری نے ملک میں جاری بجلی کے بحران کا نوٹس لیتے ہوئے وزارت پانی و بجلی کو ہدایت کی ہے کہ ملک میں ہنگامی بنیادوں پر بجلی کی لوڈشیڈنگ کے دورانیے کو کم کرنے کے لئے اقدامات کئے جائیں تاکہ ملک کی مشکلات میں کمی آ سکے۔ ذرائع کے مطابق صدر آصف علی زرداری نے پیر کو صدارتی کیمپ آفس بلاول ہاﺅس میں نگران حکومت، وزارت پانی و بجلی، وزارت خزانہ اور وزارت پٹرول و قدرتی وسائل کو ہدایات جاری کی ہیں کہ ملک میں جاری بجلی کے بحران کو کم کرنے کیلئے ہنگامی پلان مرتب کیا جائے۔ ادھر کراچی میں رات 12 بجے سے اضافی لوڈشیڈنگ ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ نجی ٹی وی کے مطابق گورنر ہاﺅس کراچی میں ہونے والے اجلاس میں کے ای ایس سی اور سوئی سدرن گیس کمپنی میں ادائیگی کے معاملات طے پا گئے ہیں گورنر عشرت العباد نے کے ای ایس سی حکام کو ہدایت کی کہ رات 12 بجے کے بعد لوڈشیڈنگ یں کمی کی جائے۔ علاوہ ازیں سپریم کورٹ نے بجلی لوڈشیڈنگ و توانائی بحران سے متعلق کیس میں عدالتی احکامات پر اس کی روح کے مطابق عمل درآمد نہ کرنے پر ایم ڈی پیپکو اور ایم ڈی این ٹی ڈی سی کو 31مئی کو ذاتی طورپر رپورٹس کے ساتھ عدالت میں طلب کرلیا ہے۔عدالت نے ازخود نوٹس مقدمہ کی سماعت میں 21مئی 2013ءڈائریکٹرز پیپکو اور این ٹی ڈی کو حکم دیا تھا کہ فرنس آئل کی فراہمی کو ممکن بنایا جائے تاکہ سسٹم سے بجلی پیدا ہوتی رہے اور ایسے انتظامات اور اقدامات کئے جائیں کہ بجلی کی پیداوار میں اضافہ کیا جاسکے گھریلو اور کمرشل (انڈسٹریل) بنیادوں پر بلا تفریق بجلی کی فراہمی کو ممکن بنایا جائے مگر الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں بڑھتی لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاجی مظاہروں کو دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ کرنے کے باعث لوڈشیڈنگ کے دورانیہ میں پہلے سے زیادہ اضافہ ہوا جس کی وجہ سے عوام سڑکوں پر آئے۔عدالت ذمہ داروں کے خلاف آئین و قانون کے تحت کارروائی عمل میں لائے گی۔