سینٹ الیکشن: ہارس ٹریڈنگ روکنے کیلئے آئینی ترمیم پر اتفاق نہ ہو سکا

سینٹ الیکشن: ہارس ٹریڈنگ روکنے کیلئے آئینی ترمیم پر اتفاق نہ ہو سکا

اسلام آباد (محمد نواز رضا+وقائع نگار خصوصی+ نمائندہ خصوصی) وزیراعظم محمد نواز شریف کی جانب سے سینٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ روکنے کیلئے طلب کئے گئے پارلیمانی جماعتوں کے رہنمائوں کے اجلاس میں آئین میں 22ویں ترمیم کے مسودے پر اتفاق رائے نہ ہوسکا جس کے باعث حکومت نے اختلاف کرنے والی دو جماعتوں پیپلز پارٹی اور جمعیت علماء اسلام(ف) کو مزید غور کیلئے ایک دن کا وقت دے دیا، آئینی ترمیم کے مسودہ آئین کے آرٹیکل 226 میں مزید ترمیم تجویز کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کی طرح سینٹ کا انتخاب اوپن ووٹ سے کرایا جائے دو گھنٹے تک جاری رہنے والے اجلاس میں حکومت پیپلز پارٹی اور جمعیت علما ء اسلام (ف) کی قیادت کو آئینی ترمیم کے حق میں قائل نہیں کر سکی تاہم اس نے وعدہ کیا کہ وہ اس بارے میں اپنی پارٹی میں مزید مشاورت کرے گی۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ وزیر اعظم ساتھ الگ بیٹھ کر اس مسئلے پر بات کریں تو میں انہیں چند ایسی باتیں بتائوں گا جو اب تک ان کے علم میں نہیں ہوں گی۔ ذرائع کے مطابق حکومت آئینی ترمیم پر اتفاق رائے نہ ہونے کے باجود پیر کو سینٹ میں آئینی ترمیم پیش کر دے گی۔ سینٹ میں پیپلز پارٹی اور جمعیت علما ء اسلام (ف) کی مخالفت کی وجہ سے یہ ترمیم سینٹ میں زیر التوا ہو جائے گی تاہم تحریک انصاف نے آئینی ترمیم قومی اسمبلی میں پیش کرنے کی صورت میں ووٹ دینے کا عندیہ دیا ہے ‘مسلم لیگ(ن)‘ایم کیو ایم‘ اے این پی، مسلم لیگ(فنکشنل)، مسلم لیگ(ضیائ)، تحریک انصاف، بلوچستان نیشنل پارٹی، پختونخوا ملی عوامی پارٹی، جماعت اسلامی کی طرف سے آئینی ترمیم کی حمایت کی گئی ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے جذباتی انداز میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ حکومتی اتحاد کا حصہ ہیں لیکن اس ترمیم کی حمایت نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ میں پہلے ہی 21ویں ترمیم پر دکھی ہوں۔ ذرائع کے مطابق پارلیمانی جماعتوں کے قائدین کے اجلاس میں ق لیگ کے صدر شجاعت حسین کو مدعو نہیں کیا گیا تھا۔آفتاب شیرپائو نے آئینی ترمیم کی مشروط طور پر حمایت کی انہوں نے ابتدا میں آئینی ترمیم کی شدید مخالفت کی۔ بعد ازاں کہا کہ اگر ترمیم پر اتفاق رائے ہو گیا تو ان کی جماعت بھی حمایت کرے گی۔ جے یو آئی نے آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دینے سے معذوری کا اظہار کر دیا جس کے بعد آئینی ترمیم کی منظوری کے امکانات معدوم ہو گئے ہیں وفاقی وزراء نے آئینی ترمیم پر اتفاق کی صورت میں چھوٹی جماعتوں کے تحفظات دور کرنے کے لئے بیلٹ پیپر پر امیدوار کے علاوہ ووٹر کا نام پہلی، دوسری اور تیسری ترجیح بھی لکھنے کی تجویز پیش کی۔ اجلاس میں خورشید شاہ، راجہ پرویز اشرف، شیری رحمان، ڈاکٹر عارف علوی، شیریں مزاری، شفقت محمود، مولانا فضل الرحمان، ڈاکٹر فاروق ستار اور ڈاکٹر بابر غوری، صاحبزادہ طارق اللہ،غلام احمد بلور، اعجاز الحق، پیر صدر الدین راشدی، آفتاب شیرپائو سمیت بعض وفاقی وزراء نے بھی شرکت کی، وزیر اعظم نواز شریف کے خطاب کے بعد سینٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ روکنے کیلئے 22ویں آئینی ترمیم کا مسودہ تمام جماعتوں کی قیادت میں تقسیم کیا گیا پیپلز پارٹی اور جمعیت علماء اسلام کے نے کہا کہ سینٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈن کو روکنے کی ضرورت ہے لیکن اس مرحلے پر آئینی ترمیم پیش کرنا مناسب نہیں انہوں نے آئینی ترمیم کی مخالفت کرتے ہو ئے کہا کہ اس ترمیم سے اس تاثر کو تقویت ملے گی کہ تمام ارکان پارلیمنٹ بکائو مال ہیں۔ اے این پی کے حاجی غلام احمد بلور نے آئینی ترمیم کی حمایت کی اور کہا کہ حکومت نے آئینی ترمیم بارے میں اپنی نیک نیتی ظاہر کر دی ہے۔ ڈاکٹر عارف علوی اور شیریں مزاری نے کھل کر آئینی ترمیم کی حمایت کی اور اس بات کا عندیہ دیا ہے اگر حکومت آئینی ترمیم ایوان میں لانے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرے تو تحریک انصاف ایوان میں ترمیم کے حق میں ووٹ دینے کا بھی سوچ سکتی ہے، کچھ جماعتیں آئینی ترمیم کی حمایت نہیں کر رہیں لہٰذا حکومت آئینی ترمیمی بل قومی اسمبلی و سینٹ میں پیش کر دے تا کہ قوم کے سامنے واضح ہو جائے کہ کون ٹریڈنگ کا خاتمہ نہیں چاہتا۔ جماعت اسلامی کے صاحبزادہ طارق اللہ نے کہا کہ تمام جماعتیں ہارس ٹریڈنگ کے خلاف ہیں، لیکن قوم کو پتہ چلنا چاہیے کہ کون ہارس ٹریڈنگ کے حق میں ہے۔ قبل ازیں اجلاس سے خطاب کرتے وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا کہ سینٹ کے تقدس کو برقرار رکھنا اور اس میں اضافہ کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے، بعض افراد کسی پارٹی سے تعلق کے بغیر پیسے کے زور پر الیکشن لڑنا چاہتے ہیں، پیسے دے کر ووٹ خریدنا مکروہ کاروبار ہے، سب کو مل کر ضمیر فروشی اور پیسے کا کھیل روکنا ہوگا اور انتخابی عمل کو صاف و شفاف بنانے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ وزیراعظم نے کہا کہ انتخابی عمل میں شفافیت کا انتخابی اصلاحات سے گہرا تعلق ہے، پیسے دے کر ایوان بالا میں آنا انتہائی افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب نے مل کر یہ مسئلہ حل کرنا ہے۔ ایسے افراد جن کی کوئی پارٹی نہیں ہے، وہ کیسے پیسے کے بل بوتے پر الیکشن لڑ رہے ہیں اور کوئی ان سے دریافت کرے کہ وہ کس سے ووٹ لیں گے۔ ہمیں ضمیر فروشی اور پیسے دے کر ووٹ خریدنے کے رجحان کو روکنا ہوگا۔ اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کہا ہے کہ انتخابات کا شیڈول جاری ہو چکا ہے، ترمیم کو بدنیتی سمجھا جائے گا۔ ہارس ٹریڈنگ روکنے کا سیاسی حل تلاش کیا جائے۔ پیپلزپارٹی نے ہارس ٹریڈنگ روکنے کیلئے امیدواروں کو بلامقابلہ منتخب کرانے کی تجویز پیش کر دی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ پیپلزپارٹی ہارس ٹریڈنگ سمیت تمام انتخابی جرائم کو برداشت نہیں کرتی۔ آئینی ترمیم تب کرنی چاہئے جب تمام جماعتیں راضی ہوں۔ یہ تاثر نہیں دینا چاہتے کہ جماعتی مفاد کی خاطر وقتی حل نکالا گیا۔ تحریک انصاف کے عارف علوی نے کہا کہ ہارس ٹریڈنگ جمہوریت کی ساکھ خراب کرنے کا معاملہ ہے۔ عمران خان نے کہا ہے کہ سینٹ انتخابات میں اوپن ووٹنگ ہونی چاہئے۔ آئینی ترمیم کا بل آگیا تو ووٹ دینے کا فیصلہ پارٹی اجلاس میں کریں گے۔ تحریک انصاف آئینی ترمیم کی مکمل حمایت کرتی ہے۔ راجہ پرویز اشرف کا کہنا ہے کہ ضمیر بیچنے والوں کو ٹکٹ نہ دیئے جائیں ہمیں اپنے ممبران پر اعتماد ہے آئینی ترمیم کی بجائے سیاسی جماعتیں اپنے اندر نظم وضبط پیدا کریں۔ اگر تمام جماعتیں متفق ہوئیں تو 22 ویں آئینی ترمیم کی حمایت کرینگے۔ ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار کا میڈیا سے گفتگو میں کہنا تھا کہ پاکستان کے انتخابی نظام میں خامیاں ہیں۔ سیاست سے کرپشن اور ہارس ٹریڈنگ جیسی لعنت کا خاتمہ ہونا چاہئے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس آج پھر ہوگا۔ بعدازاں زرداری ہائوس میں ملاقات کے بعد خورشید شاہ نے کہا کہ ارکان پارلیمنٹ پر چور اور کرپٹ کا سٹیمپ لگا دینا مناسب نہیں۔ ہم کبھی جان بوجھ کر حکومت کو ٹف ٹائم نہیں دیتے، آئینی اصلاحات کیلئے ترامیم پیش کردی جاتیں تو تمام معاملات بخوبی حل ہوجاتے۔ عمران خان کو مبارکباد دیتا ہوں کہ آئینی ترمیم کے معاملے پر نواز شریف کے ساتھ اتحاد کیا۔ عمران خان کو پارلیمنٹ میں آنے کی دوبارہ دعوت دیتا ہوں۔