بلدیاتی الیکشن نہیں کرانے تو آئین کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیں: سپریم کورٹ

بلدیاتی الیکشن نہیں کرانے تو آئین کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیں: سپریم کورٹ

اسلام آباد (بی بی سی + نمائندہ نوائے وقت) سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ کنٹونمنٹ بورڈز میں بلدیاتی انتخابات نہ کروانے پر ملک کے چیف ایگزیکٹو سمیت جو بھی ذمہ دار ہوگا، کیخلاف کارروائی کی جائیگی۔ جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے فوجی چھاو¿نی کے علاقے میں سپریم کورٹ کے واضح حکم کے باوجود بلدیاتی انتخابات نہ کروانے پر وزیراعظم کیخلاف توہین عدالت کی درخواست کی سماعت کی۔ عدالت کا کہنا تھا کہ 18 ویں آئینی ترمیم میں ملک میں بلدیاتی انتخابات کراونے کی بات کی گئی۔ اس ترمیم کو پاس ہوئے 5 برس سے زائد کا عرصہ گزر چکا لیکن ابھی تک اس پر عملدرآمد نہیں ہوا۔ درخواست گزار رب نواز کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کی طرف سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ملک میں بلدیاتی انتخابات کروانے کیلئے جاری کئے جانے والے احکامات کو بھی تین سال ہونے کو ہیں لیکن ابھی تک عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہیں ہوا۔ بنچ کے سربراہ نے جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیئے کہ ملک میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد آئینی ذمہ داری ہے اور اگر حکومت نے ایسا نہیں کرنا تو پھر اس آئین کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیں۔‘ انہوں نے کہا کہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائیگا اور اگر وزیر اعظم بھی اس عدالتی احکامات پر عمل درآمد پر حائل ہوئے تو انہیں بھی توہین عدالت میں اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا جائیگا۔ جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے بھی سپریم کورٹ عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہ کرنے پر ملک کے وزیراعظم کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کر چکی ہے۔ عدالت نے اٹارنی جنرل کو طلب کیا اور کہا کہ وہ فی الحال وزیراعظم کو توہین عدالت میں نوٹس جاری نہیں کر رہے لیکن وہ عدالت کو بتائیں کہ کیا بلدیاتی انتخابات نہ کروا کر آئین کی خلاف ورزی نہیں کی جا رہی؟ جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا تھا کہ اگر عدالت اٹارنی جنرل کے جواب سے مطمئن نہ ہوئی تو سپریم کورٹ اپنی ذمہ داریاں اداکرنے سے نہیں چوکے گی۔ الیکشن کمشن کے وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کی ذمہ داری صوبوں پر عائد ہوتی ہے جس پر جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا تھا کہ بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانا الیکشن کمشن کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمشن ایسے قوانین کی پروا نہ کرے جو ان انتخابات کے انعقاد میں حائل ہو رہے ہیں۔ جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا تھا کہ کوئی قانون الیکشن کمشن کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے سے نہیں روکتا۔ سپریم کورٹ کو بتایا گیا کہ خیبر پی کے میں اس سال کے وسط میں، پنجاب میں رواں برس نومبر میں جبکہ سندھ صوبے میں اگلے سال کے شروع میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ہوگا۔ عدالت نے سندھ، پنجاب، اسلام آباد، کنٹونمنٹ بورڈز سے بلدیاتی انتخابات کرانے کیلئے حتمی تاریخ سے متعلق تین مارچ کو جواب طلب کرلیا۔ عدالت کا کہنا ہے کہ معاملہ حساس نوعیت کا ہے اور احتیاط کا متقاضی ہے اسلئے ابھی نوٹس جاری نہیں کررہے تاہم اگر ضرورت پڑی تو وزیراعظم کو نوٹس جاری کرنے سے گریز نہیں کیا جائیگا۔ جسٹس جواد نے کہا کہ عوام کا صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا پارلیمنٹ، چیف ایگزیکٹو سمیت کوئی بھی ادارہ یا فرد الیکشن کمشن کو اس قانون کے مطابق فرض کی ادائیگی سے نہیں روک سکتا۔ الیکشن کمشن اختیارات کے باوجود اپنا فرض ادا کرنے سے ہچکچا رہا ہے قانون میں نقائص تو اگلے دس سال بھی دور نہیں ہوں گے تو کیا ہم انتخابات روک دیں، وفاق سمیت حکومتوں نے حلف دیا تھا کہ قانون سازی دس روز میں کرلی جائے گی حلف کی پاسداری نہ کرنے والوں کیخلاف کارروائی کرینگے۔ جسٹس سرمد جلال عثمانی نے کہا کہ الیکشن کمشن بتائے آئین کے مطابق ذمہ داری ادا کرنے سے کون روک رہا ہے؟ جسٹس سرمد جلال عثمانی نے کہا کہ 220 کے تحت الیکشن کمشن کے پاس اختیارات ہیں۔ جسٹس جواد نے کہا کہ اگر آئین کے تحت ہم بااختیار ہیں تو ٹھیک وگرنہ ہم گھر چلے جاتے ہیں۔ ایک سال تک چیف الیکشن کمشنر ہی نہیں تھے کوئی تو ہمیں سمجھائے کہ اس قوم ملک کے ساتھ ہوکیا رہا ہے؟ اکرم شیخ صاحب آپ ہی بتا دیں کہ آئین کیا کہتا ہے؟ الیکشن کرانا نہیں ہے تو آئین کو کوڑے دان میں پھینک دیں۔ جسٹس سرمد نے کہا کہ یہ حکومتی ذمہ داری ہے کہ وہ الیکشن کرائے لیکن الیکشن کمشن نے بھی کچھ کرنا ہے اگر وہ اپنی ذمہ داری ادا نہیں کررہا تو اسکا مطلب ہے کہ کوئی اسے فرض کی ادائیگی سے روک رہا ہے۔ جسٹس سرمد جلال عثمانی نے کہا کہ انتخابات کے انعقاد کو پارلیمنٹ بھی نہیں روک سکتی۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم آئین و قانون کے محافظ ہونے کے ناطے اسکو نافذ کرائیں۔ کوئی بھی ادارہ آپکو الیکشن کرانے سے نہیں روک سکتا۔ کمرے کے باہر آپ جا کر اعلان کرسکتے ہیں کہ یہ شیڈول ہے اسکے تحت الیکشن کرائے جائینگے اگر کوئی آپکے حکم کو آئین کی خلاف ورزی قرار دیتا ہے تو آپ ہمارے پاس آئیں اگلا فرض ہم ادا کرینگے۔ اکرم شیخ نے کہا کہ میرے راستے میں رکاوٹیں آرہی ہیں آپ ہٹانے میں ہماری مدد کریں۔ جسٹس جواد نے کہا کہ آئین کہتا ہے کہ الیکشن کمشن کے کوئی آڑے نہیں آسکتا آپ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ کوئی آڑے آرہا ہے۔ جسٹس جواد نے کہا کہ تمام تر مشکلات عارضی ہیں آپ چیف ایگزیکٹو صوبہ اور گورنر تک ذمہ داری کی ادائیگی سے نہیں روک سکتے۔ اکرم شیخ نے کہا کہ قانون کے مطابق ہی یہ اختیار استعمال ہوگا۔ جسٹس جواد نے کہا کہ ہمت آپ نہیں کر رہے اور کہتے ہیں کہ صوبے رکاوٹیں ڈال رہے ہیں الیکشن کمشن کو آئین میں دیئے گئے اختیارات کے بارے میں سبق ہم نے پڑھانے ہیں؟ کسی شخص کو اگر الیکشن کمشن کے حکم سے تکلیف ہے تو وہ ہمیں بتائے۔ جسٹس جواد نے کہا کہ بلوچستان نے انتخابات کرا دیئے ہیں کے پی کے بھی تاریخ دے رہاہے باقی سندھ اور پنجاب رہ جاتے ہیں وہ بتائیں کہ کیا کررہے ہیں پنجاب، سندھ اور وفاق تیاری کرکے آئیں اور بتائیں کہ کیا انہوں نے قانون سازی نہیں کرنی؟ سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ اٹارنی جنرل وضاحت کریں کہ کنٹونمنٹ انتخابات کے انتخابات کے انعقاد سے متعلق عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہوئی ہے یا نہیں؟ جسٹس جواد نے کہا کہ آئین کے آرٹیکلز 219 اور 220 کے تحت ایگزیکٹو اتھارٹیز، وفاقی اور صوبائی حکومتیں انتخابات کے انعقاد میں الیکشن کمشن کی معاونت کرنے کی پابند ہیں، ہم حیران ہیں کہ الیکشن کمشن انتخابات کے انعقاد بارے کیوں ہچکچاہٹ کا شکار ہے؟ الیکشن کمشن کے فرائض سے کوئی پہلوتہی نہیں کرسکتا، پانچ سال میں حلقہ بندیاں نہیں ہوسکیں، بتایا جائے کہ بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا ذمہ دار کون ہے؟ اگر عدالت کو بے اختیار سمجھا جاتا ہے تو اسے بند کردیتے ہیں، تاخیری حربے استعمال کئے جارہے ہیں اگر بلدیاتی انتخابات ضروری نہیں تو بتا دیا جائے۔