اوگرا نے اضافے کی سفارش کی‘ ہم مارچ میں پٹرولیم قیمتیں نہیں بڑھا رہے: اسحاق ڈار

اوگرا نے اضافے کی سفارش کی‘ ہم مارچ میں پٹرولیم قیمتیں نہیں بڑھا رہے: اسحاق ڈار

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی+ صباح نےوز)وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ وزیراعظم کی ہدایت پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو مارچ میں تبدیل نہیں کیا جائیگا۔ اوگرا نے پٹرول 5 روپے 59 پیسے اور مٹی کے تیل پر 7 روپے 32 پیسے اضافے جبکہ ڈیزل پر 5 روپے 49 پیسے کمی کی سفارش کی تھی۔ ڈیزل پر سیلز ٹیکس 27 سے بڑھا کر تقریباً 36 فیصد جبکہ دیگر پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس 27 سے کم کرکے 18 فیصد کیا جا رہا ہے۔ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 30 سے 50 روپے تک کمی کی۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی سے محصولات میں 68 ارب روپے کی کمی ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ 3 سال قبل پاکستان کو مسائل کے گرداب میں پھنسا کر گرے کر دیا گیا تھا ۔ خوشخبری دے رہا ہوں کہ اب پاکستان اپنی وائٹ پوزیشن پر واپس آچکا ہے۔ فنانشل ٹاسک فورس دہشت گردوں کو مالی امداد فراہم کرنے والی فہرست سے ہٹا کر پاکستان کی معیشت کو وائٹ قرار دیدیا ہے۔ مسلم لیگ (ن)کے پاس سینٹ میں دو تہائی اکثریت نہیں ہے۔ سینٹ میں ترمیم کیلئے 68 ووٹ درکار ہیں، معاشی اعشارئیے مثبت سمت کی طرف جا رہے ہیں، توانائی معیشت سمیت مختلف شعبوں میں حالات بہتری کی طرف گامزن ہیں۔ سٹیٹ بینک کے پاس 11 ارب ڈالر کے زرمبادلہ موجود ہیں، تین سال پہلے فنانشل ٹاسک فورس نے پاکستان کو گرے قرار دیا تھا تین سال کے بعد مثبت معاشی پالیسیوں کی بدولت پاکستان گے لسٹ سے نکال دیا گیا ہے آئی بی آر ڈی سے پاکستان چار سال میں دو ارب ڈالر قرض لے سکے گا۔ 31 اگست 2014ءسے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم کر رہے ہیں۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 30 سے 50 روپے فی لٹر تک کمی ہوئی۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود پٹرولیم قیمتیں برقرار رکھیں،ہمارے پاس بالکل گنجائش نہیں ہے جتنی گنجائش تھی وہ کر دی گئی ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ ایک ماہ پٹرولیم مصنوعات کو برقرار رکھنے کی کوشش کریں گے اور خدانخواستہ اگر عالمی منڈی میں اس کی قیمتیں بڑھائیں تو پھر مجبورا کوئی اقدام لینا پڑیگا۔ وزیر اعظم انتخابات میں شفافیت یقینی بنانا چاہتے ہیں، ہارس ٹریڈنگ کی لعنت کو ختم کرنے کیلئے پُرعزم ہیں۔ وزیراعظم نے اپیل کی ہے کہ جن سیاسی جماعتوں کی جن صوبوں میں حکومتیں ہیں وہ براہ مہربانی وہ واضح طور پر بتا دیں کہ اگر ان کے پاس وقت کا مسئلہ ہے اور وہ سمجھتی ہیں کہ 5 مارچ تک نہیں ہوسکتا تو پھر انصاف پر مبنی صوبوں میں سینٹ کے حوالے سے شیئر لے لیں امید ہے خبر اچھی ہوگی۔