پیپلز پارٹی کے دوبارہ برسر اقتدار آ نے کا امکان نہیں‘ وزیراعظم بنا تو زرداری سے حلف لینے پر اعتراض نہیں ہو گا: نوازشریف

پیپلز پارٹی کے دوبارہ برسر اقتدار آ نے کا امکان نہیں‘ وزیراعظم بنا تو زرداری سے حلف لینے پر اعتراض نہیں ہو گا: نوازشریف

اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ+ایجنسیاں) پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر میاں محمد نوازشریف نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے دوبارہ برسراقتدار آنے کا کوئی امکان نہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں وزیراعظم بن گیا تو صدر آصف علی زرداری سے وزارت عظمیٰ کا حلف لینے پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ صدر آصف زرداری منتخب صدر ہیں، ان کی باقی ماندہ صدارت کے دوران ورکنگ ریلیشن شپ میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔ وہ منتخب صدر ہیں اور انہیں مدت پوری کرنی چاہئے۔ وزیراعلیٰ شہبازشریف زرداری کے بارے میں اکثر سخت بیانات دے دیتے ہیں جو میرے خیال میں نہیں دینے چاہئیں۔ نجی ٹی وی سے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ وزیراعظم منتخب ہوا تو صدر زرداری سے اپنے منظور یا نامنظور ہونے کے بارے میں پوچھوں گا۔ انہوں نے ہنستے ہوئے کہا کہ یہ سوال زرداری سے کیا جانا چاہئے کہ میرے وزیراعظم بننے سے انہیں تو کوئی مسئلہ نہیں ہوگا؟ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پہلی بار ہو رہا ہے کہ پارلیمنٹ فوجی چھتری کے بغیر مدت پوری کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات کے التواءکا کوئی جواز نظر نہیں آتا اس حوالے سے شکوک اور بے یقینی کی فضا پیدا کرنا مناسب نہیں۔ جس طرح ایک آزاد اور خودمختار الیکشن کمیشن کا قیام عمل میں آیا ہے اسی طرح عام انتخابات کے لئے وفاق اور صوبوں میں ایسی نگران حکومتیں بھی ضروری ہیں جن پر سب کا اتفاق ہو۔ یہ فیصلہ کرنا آزاد و خودمختار الیکشن کمیشن کا کام ہے کہ انتخابات کے پرامن انعقاد کے لئے کس جگہ فوج کی ضرورت ہے؟ سندھ کے قومیت پرست قومی دھارے میں آ رہے ہیں تو اس پر کسی اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں۔ قومیت پرستوں کے ساتھ اتحاد میں ہم نے اپنے اصول اور نظریات پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ بلوچستان کی قوم پرست جماعتوں کے ساتھ بھی ہمارے بہت اچھے تعلقات ہیں۔ قومی کاز کے لئے ہمیں کسی بھی جماعت یا دھڑے سے اتحاد میں کوئی مسئلہ نہیں ہو گا البتہ ہمیں لوٹ مار کرنے والوں کے ساتھ الائنس بنانے کا کوئی شوق نہیں۔ حکومت کی پیدا کردہ خرابیوں اور لوٹ مار میں اس کے اتحادی بھی برابر کے ذمہ دار ہیں اور ووٹر ان سے یہ سوال ضرور پوچھیں گے۔ کراچی کی صورتحال کے حوالے سے ساری قوم کو تشویش ہے۔ وہاں کے تاجر اور صنعتکار بھی بھتہ خوری‘ اغوا برائے تاوان جیسے معاملات پر چیخ اٹھے ہیں۔ 1998ءمیں حکیم سعید کے قتل پر ہم نے سندھ میں ایم کیو ایم کے ساتھ اپنی مخلوط حکومت کے خاتمے سے بھی گریز نہیں کیا تھا۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا بنچ واضح طور پر یہ قرار دے چکا ہے کہ کراچی میں کن کن سیاسی جماعتوں کے عسکری شعبے کام کر رہے ہیں۔ ایسے لوگوں کے نام بھی سامنے آئے جنہوں نے سو سو قتل کئے ہوئے ہیں۔ رحمن ملک کراچی کے معاملات میں بیرونی ہاتھ اور خفیہ قوتوں کی بات کرنے کے علاوہ یہ بھی بتائیں کہ سپریم کورٹ نے جو سفارشات کی تھیں ان پر کس حد تک عملدرآمد ہوا ہے؟ اگر ریٹائرڈ لوگوں کو وردیاں پہنا کر ڈیوٹیوں پر مامور کیا جائے گا‘ میرٹ کے بغیر بھرتیاں ہوں گی‘ سفارش پر تقرریاں اور تعیناتیاں کی جائیں گی تو پھر وہی کچھ ہو گا جو کراچی میں ہو رہا ہے۔ مفاہمت اور الائنس محض اپنی لوٹ مار اور اقتدار کے لئے نہیں بلکہ عوام کے مسائل کے حل اور قوم کے مفاد کے لئے ہونا چاہیے۔ وفاق اور تین صوبوں میں حکومتی اتحاد نے کرپشن‘ عدلیہ کی تضحیک‘ لوڈشیڈنگ‘ مہنگائی‘ بیروزگاری‘ بلوچستان کی تباہی اور کراچی کی بدامنی کے سوا کچھ نہیں دیا۔ کراچی اور ملک بھر میں صورتحال کی سنگینی کا تقاضا ہے کہ صدر‘ وزیراعظم ‘ وزرائے اعلی‘ گورنر‘ سکیورٹی اداروں کے ذمہ داران‘ سول سوسائٹی‘ وکلاءاور تمام ارباب سیاست سرجوڑ کر بیٹھیں اور ملک کو بحران سے نکالنے کے لئے لائحہ عمل مرتب کریں۔ کراچی میں اصلاح احوال کے لئے ایک طرف پولیس اور انتظامیہ میں موجود اچھے لوگوں کو آگے لایا جائے اس کے ساتھ ایسی نیوٹرل فورس بھی قائم کی جائے جو ایمانداری کے ساتھ کام کرے۔ اصل ضرورت اصلاح احوال کے لئے سیاسی عزم کی ہے۔ انہوں نے پنجاب میں دہشت گردوںکے نیٹ ورک کی موجودگی کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ کیا ولی خان بابر کے ایک قاتل کو بھی پنجاب میں پکڑا گیا؟ اجمل قصاب کیس میں بھی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے واضح طور پر کہا کہ پنجاب میں طالبان ہیں پنجاب پرامن صوبہ ہے جو رحمن ملک کو پسند نہیں۔ انہوں نے کہا کہ دفاع پاکستان کونسل کا اپنا نظریہ ہے اور ہماری اپنی سوچ ہے۔ جماعت اسلامی کے ساتھ انتخابی اتحاد کے حوالے سے انہوں نے کہا ابھی اس حوالے سے کوئی باقاعدہ بات نہیں ہوئی۔ چودھری بردران کے ساتھ اتحاد کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ میں ان پر تنقید کرنے نہیں بیٹھا لیکن کوئی نظریہ تو ہونا چاہیے‘ یہ کیا بات ہوئی کہ آپ ضیاءکے ساتھ بھی تھے‘ جونیجو کے ساتھ بھی‘ نوازشریف کے ساتھ بھی‘ پرویزمشرف کے ساتھ بھی اور اب زرداری کے ساتھ بھی۔ عمران خان کے سونامی کے بارے میں ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اللہ کسی جگہ سونامی نہ لائے۔ آپ جانتے ہیں کہ سونامی کیا ہوتا ہے؟ عمران خان تو زرداری کے قصور بھی ہمارے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں‘ وہ حکومت کی نہیں اپوزیشن کی اپوزیشن کر رہے ہیں۔ عوام کی خدمت کرنی چاہیے اور حکمرانی کا بہتر نمونہ پیش کرنا چاہیے اور الحمدللہ پنجاب میں گورننس‘ وفاق اور باقی صوبوں کی نسبت کہیں بہتر ہے۔ پرویزمشرف کے ٹرائل کے متعلق ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ میرا کسی سے ذاتی عناد نہیں‘ میں گالیوں کا جواب نہیں دیتا۔ کسی کے خلاف غلیظ زبان استعمال نہیں کرتا۔ کسی کی کردار کشی نہیں کرتا۔ یہ اپنے اپنے ظرف کی بات ہے۔ مجھے کسی جرنیل سے ذاتی عداوت نہیں لیکن اگر آئین کو توڑا گیا‘ ججوں کو نکالا گیا تو کیا ہم آنکھیں بند کرکے دوسری طرف دیکھتے رہیں؟ جس نظام میں احتساب نہ ہو وہ نہیں چل سکتا۔ نئے صوبوں کے متعلق ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اس کے لئے ایک وسیع تر قومی کمیشن قائم کیا جائے، یہی کمیشن اس بات کا فیصلہ کرے کہ ملک میں کتنے صوبوں کی ضرورت ہے؟ تاکہ ہم آنے والی نسلوں کو بہتر پاکستان دے کر جائیں۔ توانائی کے بحران کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کے حل کے لئے لانگ ٹرم اور شارٹ ٹرم دونوں طرح کے اقدامات کی ضرورت ہے۔ ڈیڑھ ہزار سے دو ہزار میگاواٹ تک شوگرملوں سے بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔ موجودہ حکومت نے یہ سب کچھ کرنے کی بجائے رینٹل پر کام شروع کر دیا جس سے الٹا لینے کے دینے پڑ گئے۔ ہمیں بجلی کی بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنے کے لئے ہائیڈل پاور کے بارے میں سوچنا ہو گا۔ اس حوالے سے گزشتہ دنوں ترک وزیراعظم رجب طیب اردگان سے بات ہوئی ہے۔