مسخ نعشیں ‘ کٹے اعضا مل رہے ہیں‘ بلوچستان کیس: وفاقی حکومت نے ذمہ داریاں پوری نہیں کیں: چیف جسٹس

مسخ نعشیں ‘ کٹے اعضا مل رہے ہیں‘ بلوچستان کیس: وفاقی حکومت نے ذمہ داریاں پوری نہیں کیں: چیف جسٹس

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت +نوائے وقت نیوز) سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں ریکوڈک کیس کی سماعت ہوئی۔ کمپنی کے وکیل خالد انور نے م¶قف اختیار کیا کہ میرا کیس ہے کہ ٹیتھیان کو کانکنی کا لائسنس دیا جائے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا کہ مائننگ کمیٹی نے آپکو کانکنی کی لیز نہیں دی تھی۔ خالد انور نے کہا کہ مائننگ کمپنی کے چھوٹے افسر آئین کے تابع نہیں۔ عالمی ثالثی عدالت میں مائننگ کمیٹی کا فیصلہ کالعدم کرانا چاہتا ہوں۔ عالمی ثالثوں کے فیصلوں کو تسلیم کرنا پاکستان کے آئین کے مطابق ہے۔ چیف جسٹس نے جواب دیا کہ پاکستان خودمختار ملک ہے، عالمی ثالثی عدالت آپکو کیسے لیز دے سکتی ہے؟ خالد انور نے کہا کہ آئین کا نفاذ سپریم کورٹ کا فرض ہے۔ چیف جسٹس نے جواب دیا کہ آپ نے ہمارے سامنے مائننگ کمیٹی کے فیصلے کو چیلنج نہیں کیا۔ جسٹس عظمت نے کہا کہ بلوچستان حکومت نے مائننگ کمیٹی کی فزیبلٹی رپورٹ نہ لگانے پر درخواست منظور نہیں کی۔ خالد انور نے دلیل دی کہ درخواست کے ساتھ فزیبلٹی لگائی گئی تھی۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا کہ بین الاقوامی ثالثی عدالت میں سماعت کے باعث مسئلے کے حل میں پیچیدگی پیدا ہوئی ہے۔ پاکستانی عدالتوں میں اپیل کرنے کی بجائے آپ بین الاقوامی ثالثی کیوں مانگتے ہیں؟ خالد انور نے کہا کہ پاکستان کا قانون اور آئین بین الاقوامی ثالثی کی اجازت ہے۔ بین الاقوامی ثالثی کے فیصلے پر عملدرآمد کیلئے سپریم کورٹ میں آﺅنگا۔ جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ سپریم کورٹ سے انصاف چاہتے ہیں تو بین الاقوامی ثالثی عدالت سے کیس واپس لے لیں۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا کہ بین الاقوامی ثالثی عدالت میں سماعت پاکستان کی خودمختاری پر اثرانداز ہو سکتی ہے۔ سپریم کورٹ میں ریکوڈک کیس کی سماعت آج منگل تک ملتوی کر دی گئی۔ سپریم کورٹ نے خالد انور کو دلائل مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ خالد انور نے کہا کہ دلائل مکمل کرنے میں مزید دو دن لگ جائینگے۔ آئی این پی کے مطابق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ بلوچستان بدامنی کیس کے فیصلے پر صوبائی حکومت نے کوئی عمل نہیں کیا، ہم نے دن رات 72 سماعتوں کے بعد فیصلہ دیا اور سپریم کورٹ پر ہی الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ بلوچستان میں مسخ شدہ نعشیں اورکٹے ہوئے اعضا مل رہے ہیں لیکن کوئی حرکت میں نہیں آیا۔ توجہ دلانے کے باوجود وفاقی حکومت نے آرٹیکل 148 کے تحت ذمہ داریاں پوری نہیں کیں اور کہا جا رہا ہے کہ سپریم کورٹ نے غلط کام کیا۔ بلوچستان میں اس سے بڑھ کر کیا ہو گا کہ 70 ڈاکٹروں کو معطل کر دیا گیا ہے ہسپتالوں کو تالے لگا دئیے گئے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا کہ حکومت کو چاہئے تھا کہ کریک ڈاو¿ن کی بجائے ڈاکٹر سعید کی بازیابی یقینی بناتی۔ پرائیویٹ کلینک بھی بند کر دئیے گئے ہیں، صرف سی ایم ایچ کھلا ہے۔ خالد انورکا کہنا تھا کہ بلوچستان میں مریضوں کی حالت دیکھ کر رونا آتا ہے۔ ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان امان اللہ کنرانی نے کہا کہ بلوچستان حکومت کو اب تو کریڈٹ دے دیں کہ عاشورہ کے موقع پرامن رہا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ کریڈٹ لینے والی بات نہیں، تحفظ عوام کا حق ہے۔ ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان نے کہا کہ پہلے سینکڑوں لوگ مرتے تھے، اب چند لوگ مر رہے ہیں۔