ہلیری کلنٹن کی آمد پر سکیورٹی انتظامات بلیک واٹر نے کئے: منور حسن

لاہور (سلمان غنی) جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سید منور حسن نے کہا ہے کہ بلوچستان میں امن کیلئے پیش رفت کسی پیکج کے اعلان سے نہیں بلکہ اکبر بگٹی کے قتل کی ایف آئی آر جنرل مشرف کے خلاف کاٹنے اور تربت کے تین مقتولین کے قاتلوں کے خلاف اقدامات اور گمشدہ افراد کی فہرست پر پیشرفت ہو سکتی تھی۔ بلوچستان میں اگر قومی پرچم نہیں لہرانے دیا جاتا یا قومی ترانہ پڑھنے کی اجازت نہیں تو اس کی ذمہ دار حکومت ہے۔ ہلیری کلنٹن کی آمد پر سکیورٹی انتظامات بلیک واٹر نے کئے تھے۔ دنیا میں ریاستی دہشت گردی کا منبع امریکہ اور بھارت ہیں بھارت کی آبی جارحیت اور جھوٹ کی بنیاد پر عراق پر فوج کشی امریکہ کا بھیانک چہرہ بے نقاب کرنے کیلئے کافی ہے۔ این آر او کے ذریعہ برسراقتدار آنے والوں سے اچھائی، قومی مفادات کے تحفظ اور عوامی فلاح کے اقدامات کیلئے توقعات فضول ہیں۔ این آر او زدہ وزراء اور حکام میں اگر غیرت ہو تو میرے خیال میں وہ ازخود استعفے دے دیں ورنہ اگر کسی ایک شخص کا استعفیٰ لازم ہے تو وہ رحمن ملک کا استعفیٰ ہے ورنہ این آر او کے مقدمات کا ریکارڈ نہیں ملے گا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ فوری طور پر چیف جسٹس کو این آر او زدہ افراد کے مقدمات کا نوٹس لے کر سپیڈی ٹرائل شروع کر دینا چاہئے پوری قوم کی تائید انہیں حاصل ہوگی وہ گذشتہ روز وقت نیوز کے پروگرام اگلا قدم میں سوالات کے جوابات دے رہے تھے۔ پروگرام کے پروڈیوسر میاں شاہد ندیم اسسٹنٹ پروڈیوسر وقار قریشی تھے۔ منور حسن نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ حساس اور فوری توجہ طلبی کا مستحق ہے کیونکہ امریکہ بھارت ایران اور چین کی نظریں اسکی اہمیت اور حیثیت پر ہیں۔ بدقسمتی سے ہماری حکومت اس سے غافل ہے۔ انہوں نے ملک میں اپوزیشن کے کردار کے حوالہ سے کہا کہ اصل اپوزیشن ہم ہیں۔ مسلم لیگ صرف فرینڈلی ہے وہ بند کمرے کی سیاست کر رہی ہے۔ سید منور حسن نے ملک کے اندر مڈٹرم انتخابات کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ مڈٹرم انتخابات مسائل کا حل نہیں۔ انہوں نے قائداعظمؒ کے بعد ڈاکٹر قدیر خان کو قومی ہیرو قرار دیا اور کہا کہ انہوں نے جماعت میں شمولیت کی بات اس پیرائے میں کی تھی کہ یہ منظم جماعت ہے اور ڈلیور کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہلیری کلنٹن کی آمد پر سارے سکیورٹی انتظامات بلیک واٹر کے تھے ورنہ ہماری سکیورٹی ایجنسیاں تو اپنا دفاع نہیں کر سکتیں کسی کو کیا تحفظ مہیا کریں گی۔ سید منور حسن نے پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان پیداشدہ صورتحال پر کہا کہ یہ ایک ہی جگہ سے روشنی حاصل کرتے ہیں یہ ایسے ہی کریں گے اور چلتے بھی جائیں گے یہ صورتحال پہلے بھی پیدا ہوئی اور اب بھی پیدا ہوگی‘ لیکن چلیں گے اکٹھے۔