محمود علی نے زندگی بنگلہ دیش کے دوبارہ پاکستان سے الحاق کی جدوجہد میں گزار دی : ایس ایم ظفر

لاہور (خبر نگار) سینیٹر ایس ایم ظفر نے کہا ہے کہ محمود علی مرحوم درویش سیاستدان تھے۔ وہ ساری زندگی پاکستان کی خدمت میں مصروف رہے۔ بنگالی ہونے کے باوجود وہ بنگلہ دیش بننے کے بعد وطن واپس نہیں گئے۔ انہوں نے اپنی زندگی بنگلہ دیش کی دوبارہ پاکستان سے الحاق کی جدوجہد میں بسر کی۔ وہ تحریک پاکستان کے سرگرم کارکن‘ آسام مسلم لیگ کے جنرل سیکرٹری‘ تحریک تکمیل پاکستان کے صدر اور تاحیات سابق وفاقی وزیر محمود علی مرحوم کی تیسری برسی کے سلسلے میں ایوان کارکنان تحریک پاکستان میں خصوصی نشست سے خطاب کر رہے تھے جس کا اہتمام نظریہ پاکستان ٹرسٹ نے تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے اشتراک سے کیا تھا۔ پروگرام کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن مجید‘ نعت رسول مقبولﷺ اور قومی ترانے سے ہوا۔ تلاوت کی سعادت ڈاکٹر قاری سراج احمد نے حاصل کی۔ معروف نعت خواں الحاج اختر حسین قریشی نے بارگاہ نبویﷺ میں ہدیہ نعت پیش کیا۔ میزبانی کے فرائض نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے سیکرٹری شاہد رشید نے انجام دئیے۔ سینیٹر ایس ایم ظفر نے کہا کہ 1965ء کے بعد ان کی محمود علی سے ملاقات ہوئی۔ 1969ء میں جب آل پارٹیز کانفرنس بلائی گئی تو محمود علی اپوزیشن کی جانب سے بحیثیت سیکرٹری اور ترجمان آئے میں حکومت کی جانب سے اس کانفرنس میں شریک تھا۔ اس کانفرنس کے دوران جو آواز سب سے ممتاز اور منفرد تھی وہ محمود علی کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ وہ باتیں کی جائیں جس سے پاکستان قائم رہ سکے اس کے بعد میرے ان سے تعلقات قائم ہوئے۔ محمود علی کی ایک صفت ایسی ہے جس کو موجودہ حالات کے تناظر میں دیکھیں تو بہت روشنی ملتی ہے وہ صفت ان کی درویشی تھی وہ ایک درویش سیاستدان تھے۔ قائد ملت لیاقت علی خان کی اپنے علاقے میں کئی پرگنہ زمین تھی لیکن وہ مہاجر ہو کر پاکستان آئے تو انہوں نے قائداعظمؒ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے کہا کہ میں چھوڑی ہوئی زمین کے بدلے کوئی زمین الاٹ نہیں کرائوں گا۔ انہوں نے محض تنخواہ میں ہی گذارہ کیا۔ قائداعظمؒ کے اور ایک ساتھی اور ان کے تربیت یافتہ سردار عبدالرب نشتر گورنر پنجاب تھے لیکن اس حیثیت میں بھی وہ پیدل یا سائیکل پر سفر کرتے تھے۔ محمود علی کی یاد میں منعقدہ تقریبات میں شرکت کرنا بہت بڑا اعزاز سمجھتا ہوں۔ بدقسمتی سے اب ایسے عظیم لوگوں کی جگہ دولت پرست سیاستدان آرہے ہیں جو کہہ رہے ہیںکہ ایسے قانون بنائے جائیں جو ہماری کرپشن کی حفاظت کر سکیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اگرمحمود علی نہ ہوتے تو سلہٹ کا ریفرنڈم کبھی پاکستان کے حق میں کامیاب نہ ہوتا۔ بنگلہ دیش ہم سے زیادہ ترقی کر رہا ہے۔ پاکستان کی ساری دولت باہر چلی گئی ہے۔ بنگلہ دیش کے نوبل انعام یافتہ محمد یونس پاکستان آئے تو میں نے کہا تھا کہ انہیں نوبل انعام ملنا چاہئے اور اتفاق سے چند ماہ بعد انہیں نوبل انعام مل گیا۔ یہ نوبل انعام بنگلہ دیش ہی کا نہیں بلکہ پاکستان کا ہے۔ پاکستان تمام تر نامساعد حالات کے باوجود شاہراہ ترقی پر تیزی سے گامزن ہے اور خوش قسمتی سے ہمارے نوجوان اپنے مستقبل سے مایوس نہیںبلکہ وہ ستاروں پر کمندیں ڈال رہے ہیں۔ محمود علی یوتھ ونگ کے صدر بھی رہے۔ ایک بار یوتھ لیگ نے نوجوانوں سے پاکستان کے حوالے سے مختلف نوعیت کے سوالات کئے۔ انہوں نے کہا کہ تمام تر بدحالی اور بحرانوں کے باوجود ہمارے نوجوان صرف پاکستان ہی کو اپنی شناخت قرار دیتے ہیں۔ محمود علی کہا کرتے تھے کہ اگر چہ بنگلہ دیش کے قیام سے اب دو حکومتیں بن گئیں لیکن درحقیقت ایک قوم ہیں اور جب ہم ایک قوم ہیں تو جلد ہی ہم انشاء اللہ ایک حکومت کے ماتحت بھی آجائیں گے۔ مجید نظامی نے کہا کہ آج ہم اس شخصیت کو یاد کر رہے ہیں جنہوںنے پاکستان کی خاطر وطن کو چھوڑا۔ میں سلہٹ بھی جا چکا ہوں۔ وہ ایک خوبصورت خطہ تھا۔ محمود علی کے تمام آبا و اجداد اپنے نام کے ساتھ مولوی لکھتے تھے جس کا مطلب یہ ہے کہ ان کا اسلام کے ساتھ بے حد تعلق تھا۔ گزشتہ روز اسلام آباد جانا ہوا تو میں محمود علی کی بیٹی کے گھر گیا اور وہاں فاتحہ خوانی کی۔ وہ وہاںرہ رہی ہیں مجھے افسوس ہے کہ ان کی بیٹی تنہا رہ رہی ہے۔ بنگلہ دیش کے قیام کو جن لوگوں نے تسلیم نہیں کیا ان میں محمود علی، نور الامین، خواجہ خیر الدین اور راجہ تری دیو رائے شامل ہیں۔ ان لوگوں نے پاکستان کیلئے اپنا وطن چھوڑ کر عظیم قربانی دی۔ درحقیقت بنگالیوں کی اکثریت نے پاکستان سے علیحدگی کو تسلیم نہیں کیا۔ اگر قائداعظمؒ کے فرمان کے مطابق مشرقی پاکستان میں اردو رائج ہو جاتی تو ہم جلد ایک قوم بن جاتے لیکن ہندوئوں نے انہیں بری طرح گمراہ کیا جس کے باعث وہ اردو پڑھنے کیلئے بالکل تیار نہیں تھے۔ میرا خیال ہے کہ پا کستان کو اب بھی یہ سبق حاصل کرنا چاہئے کہ مشرقی پاکستان ہم سے کیوں الگ ہوا۔ محمود علی کی قربانی رائیگاں نہیں جانی چاہئے۔ میں ان کا بہت پرانادوست ہوں۔ وہ جب لاہور آتے تو ان سے ملاقات ہوتی۔ وہ انتہائی محب وطن پاکستانی تھے اور آخر دم تک پاکستانی رہے اور ان کے بچے پاکستان میں اپنی زندگی کے ایام گزاررہے ہیں۔ ہم انہیں جتنا بھی خراج عقیدت پیش کریں‘ کم ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد نے کہا کہ محمود علی نے تحریک پاکستان کے دوران انتہائی اہم کردار ادا کیا۔ وہ شروع سے آخر تک نوجوانوں کی بہتری اور فلاح و بہبود کیلئے کام کرتے رہے اور انکا ہمیشہ نوجوانوں سے ہی رابطہ رہا۔ انہوں نے جب دیکھا کہ قیام پاکستان کے بعد مسلم لیگ غلط راستے پر جارہی ہے تو وہ مسلم لیگ اور اسمبلی سے مستعفی ہو گئے۔ محمود علی نے قیام بنگلہ دیش کو کبھی تسلیم نہیں کیا اور وہ اسے دوبارہ پاکستان کا حصہ بنانا چاہتے تھے چنانچہ اس کے لئے انہوں نے تحریک تکمیل پاکستان شروع کی، وہ پاکستان کے بارے میں وہی تصور رکھتے تھے جو تصور قائداعظمؒ کا تھا۔ وہ پاکستان کو ایک جدید اسلامی جمہوری و فلاحی ریاست بنانا چاہتے تھے۔ وہ کشمیر کی پاکستان میں شمولیت کے شدت سے متمنی تھے۔ اگر بنگلہ دیش دوبارہ پاکستان میں شامل نہیں ہونا چاہتا تو ہمیں اس سے بہتر تعلقات قائم کرنا چاہئیں۔ کیبل پر بنگلہ دیش کے ٹی وی چینلز دکھائے جانے چاہئیں۔ اکنامک کو آپریشن آرگنائزیشن میں بنگلہ دیش کو بھی شامل کرلینا چاہئے۔ چورہ شریف کے سجادہ نشین حضرت پیر سیدمحمدکبیر علی شاہ نے کہا کہ دین یادنیا میں وفا بہت بڑا کام ہے۔ میں نے طویل عرصہ محمود علی کے ہمراہ گذارا۔ ہمارے ساتھ شاہد رشید بھی تھے۔ جوان ہونے کے باوجود محمود علی ان پر بے حد اعتماد کیا کرتے تھے۔ وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے۔ محمود علی نے اپنی زندگی نہایت آن بان سے گزاری اور اسی آن بان سے انتقال فرمایا۔ محمود علی جس مقصد کیلئے ساری زندگی کوشاں رہے وفات کے وقت بھی آپ کی زبان پر یہی الفاظ تھے کہ کشمیر کو پاکستان میں شامل ہونا ہے۔ ایسا درویش منش انسان سیاست میں پھر کوئی نہیں آیا۔ ایک بارمحمود علی لاہور آئے اور مجھے یاد کرتے ہوئے فرمایا میرا دل چاہتا ہے کہ مینار پاکستان پر ایک جلسہ کروں اور اس میں نوجوانوں کو بتائوں کہ قائد اعظمؒ نوجوانوں پر کس قدر اعتماد کرتے تھے اور اب وہ استحکام پاکستان اور تعمیر پاکستان کے لئے کس قدر کام کرسکتے ہیں۔ ہم نے ان کے ساتھ مل کر مینار پاکستان تلے تحریک تکمیل پاکستان کا قومی کنونشن کیا جس میں سابق مشرقی پاکستان اور پورے پاکستان اور آزادکشمیر سے دس ہزار سے زائد افراد نے شرکت کی اور تحریک تکمیل پاکستان کا قیام عمل میں آیا۔ وہی قومیں زندہ رہتی ہیں جواپنے اکابرین کے نقش قدم پر چلتی ہیں۔ محمود علی مرحوم عظیم انسان تھے اور نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ ان کے نقش قدم پر چلیں۔ پروفیسر محمد رفیق عالم نے کہا کہ محمود علی سے تعلق 1960ء میں قائم ہوا اور تادم مرگ ان سے تعلق رہا۔ میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا۔ وہ اول و آخر پاکستانی تھے۔ قائداعظمؒ کے شیدائی اور سپاہی تھے۔ جب بنگلہ دیش بنا تو وہ کہتے تھے کہ اس بارے میں تحقیق ہونی چاہئے کہ اس واقعے میں بھارت کتنا ملوث ہے؟ محمود علی نے 1958ء میں بنگلہ دیش میں جاگیر دارانہ نظام ختم کروانے کابل منظور کرایا تھا۔ وہ پاکستان میں بھی ایسا بل منظور کرانا چاہتے تھے۔ محمود علی نے عظمت کے چراغ روشن کئے۔ ادیب جاودانی نے کہا کہ 17نومبر2006ء کو محمود علی نے میرے سکول میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جان جانِ آفریں کے سپرد کی۔ تقریب سے قبل انہوں نے کہا کہ چونکہ بچوں کی تقریب ہے اس لئے پروگرام جلدی شروع کروائیں کیونکہ مجھے بہت لمبے سفر پر جانا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ بہت بڑا دہشت گرد ہے جب تک یہ افغانستان میں رہے گا تو پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتیں ہوتی رہیں گی اور جب کشمیر پاکستان میں شامل ہوگا تب ہی پاکستان کی تکمیل ہوگی۔ اس کے بعد وہ روسٹرم پر نیچے بیٹھ گئے اور اسی دوران ان کا انتقال ہو گیا۔ نظریۂ پاکستان ٹرسٹ شعبہ خواتین کی کنوینئر بیگم مہناز رفیع نے کہا کہ محمود علی کی یہ جدوجہد تھی کہ نوجوان نسلوں تک تحریک پاکستان کے مقاصد اور مشاہیر تحریک آزادی کی خدمات پہنچائی جائیں۔ چنانچہ اس کیلئے انہوں نے اپنا وطن اپنی سرزمین چھوڑی دی۔ پاکستان قائم نہ ہوتا تو آج مسلمانوں کا وہی حال ہوتا جس کا شکار بھارت میں مسلمان ہیں۔ لہٰذا ہمیں آزادی کی قدر کرتے ہوئے اس کی حفاظت کرنی چاہئے۔ کے ایچ خورشید مرحوم کی اہلیہ بیگم ثریا خورشید نے کہا کہ بنگلہ دیش بن جانے کے بعد محمود علی کبھی اپنے وطن واپس نہیں گئے۔ یہ ان کی پاکستان سے محبت کا ایک جذبہ اور ایثار تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان محمود علی جیسے لوگوں کی کاوشوں کی بدولت ہی بنا۔ سینیٹر نعیم حسین چٹھہ نے کہا کہ محمود علی انتہائی شفیق اور انتہائی محب وطن انسان تھے۔ ان کی تنظیم تحریک تکمیل پاکستان نہایت برحق اور بروقت تھی۔ قائداعظمؒ نے جس تگ و دو سے پاکستان کیلئے جدوجہد کی اس کو جتنا خراج عقیدت پیش کیا جائے کم ہے۔ میرے والد چوہدری محمدحسین چٹھہ کہا کرتے تھے کہ پاکستان صرف اور صرف قائداعظمؒ کی کاوشوں کی بدولت معرض وجود میں آیا ۔ انہوں نے کبھی حوصلہ نہیں ہارا اور نہ کبھی پاکستان کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ کیا۔ پروفیسر ڈاکٹر ایم اے صوفی نے کہا کہ میرا محمود علی سے قریبی تعلق رہا۔ ایک بار ڈاکٹروں کے پروگرام میں ڈھاکہ جانا ہوا اور یہاں مختلف ممالک کے وفود کا تعارف کر وایاگیا تو جب بنگلہ دیش کے وفد کا تعارف کروایاگیا تو میں بھی کھڑا ہوگیا اور کہا کہ میں بھی اسی وطن کاہوں میری اس بات پر بنگلہ دیش کے صدر ضیاء کی آنکھوں میں آنسو آگئے ۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بنگالی طلبہ کو پاکستانی یونیورسٹیوں میں داخلہ دیا جائے۔ شرکاء نے حکومت سے پر زور مطالبہ کیا کہ بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان ویزا ختم کیا جائے ۔ باہمی تجارت کو فروغ دیا جائے۔ وفود کا باہمی تبادلہ کیا جائے۔ پاکستانی تعلیمی اداروں میں بنگالی طلبہ کو کم فیس پر داخلہ دیا جائے۔ اخبارات کا تبادلہ کیا جائے۔ آڈیو اور ویڈیو پروگراموں کاتبادلہ کیا جائے۔ شرکاء نے حکومت پر زوردیا کہ محمود علی مرحوم کو اسلام آباد میں امانتاً دفن کیا گیا ہے لہٰذا ان کے جسد خاکی کو مزار قائداعظمؒ کے احاطے میں نور الامین کی قبر کے ساتھ دفن کیا جائے چونکہ محمودعلی مرحوم نے اپنی زندگی پاکستان کی خدمت کیلئے وقف کر رکھی تھی اس لئے ان کی بے پایاں خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں نشان پاکستان دیا جائے۔ حضرت پیر سید محمد کبیر علی شاہ نے محمود علی مرحوم کی بلندی درجات کیلئے دعا کرائی۔ ٹرسٹ کے سیکرٹری شاہد رشید نے معزز مہمانوں کی آمد پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ مرزا ابراہیم طاہر نے منظوم خراج عقیدت پیش کیا۔