صدر کا خطاب مملکت نہیں ایک سیاسی جماعت کے سربراہ کا تھا: سیاسی و دینی رہنما

لاہور + اسلام آباد (خصوصی رپورٹر + ایجنسیاں) صدر آصف علی زرداری کے خطاب پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے مختلف سیاسی اور مذہبی رہنمائوں نے کہا ہے کہ صدر آصف زرداری کو الزام تراشی کی بجائے اپنے سمیت این آر او زدہ وزیروں کو حکومت سے الگ کر لینا چاہئے تاکہ عدالتیں آزادانہ طریقے سے کرپشن اور قتل و غارت گری کے مقدموں سے خود کو پاک کروانے والوں کے مقدمات کا فیصلہ کر سکیں۔ صدر زرداری کا خطاب سربراہ مملکت کا نہیں خالصتاً ایک سیاسی جماعت کے سربراہ کا تھا جو کہ آئینی حیثیت اور وقار کے منافی ہے۔ ان خیالات کا اظہار امیر جماعت اسلامی سید منور حسن‘ مسلم لیگ (ن) کے مرکزی ترجمان احسن اقبال‘ پاکستان ڈیموکریٹک فرنٹ (پی ڈی ایف) کے سیکرٹری جنرل قاضی عبدالقدیر خاموش‘ تعمیر پاکستان پارٹی کے سیکرٹری جنرل عزیز اعوان اور مرکزی جمعیت اہلحدیث کے مرکزی سینئر نائب صدر زبیر احمد ظہیر نے الگ الگ بیانات میں کیا ہے۔ سید منور حسن نے کہا کہ میڈیا نے بحیثیت مجموعی آزادی کا ثبوت دیتے ہوئے جبری ہتھکنڈوں کا مقابلہ کیا ہے۔ پہلے آئی ایس پی آر میڈیا پر بوجھ ڈالنے میں کوشاں تھا اور اب صدر زرداری نے میڈیا پر بذات خود حملہ کر دیا ہے جس کی مذمت کی جانی ضروری ہے۔ قاضی عبدالقدیر خاموش نے کہا کہ صدر آصف زرداری کو میڈیا سمیت دیگر پر الزام تراشی کی بجائے اپنے سمیت این آر او زدہ وزیروں کو حکومت سے مستعفی ہو کر عدلیہ کو انصاف فراہم کرنے کا موقع مہیا کیا جائے۔ عزیز اعوان نے کہا ہے کہ صدر زرداری اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کریں۔ انہیں میڈیا اور سیاستدانوں پر خفا ہونے کی بجائے این آر او زدگان کا فیصلہ عدلیہ سے کرانا چاہئے۔ علامہ زبیر احمد ظہیر نے کہا کہ صدر زرداری کو خوفزدگی سے باہر نکلنا چاہئے۔ 28 نومبر کے بعد ملک میں کوئی سیاسی طوفان نہیں آئیگا۔ احسن اقبال نے کہا ہے کہ صدر زرداری ملک کو بلاول بھٹو کے لیے پاک صاف کرنے اور سنوارنے کی بجائے 17 کروڑ عوام کیلئے حقیقی جمہوریت ،قانون کی حکمرانی‘ غربت اور بے روزگاری سے نجات بہترین نظام حکمرانی اور فلاحی مملکت بنانے کی جانب توجہ دینے کی بات کریں تو یہ زیادہ بہتر ہوگا۔ کیا ہی بہتر ہوتا کہ صدر مملکت اپنے عید سے دو روز قبل کے خطاب میں غربت‘ مہنگائی‘ بیروزگاری اور دہشت گردی میں پسے عوام کو درپیش چیلنجز اور مسائل سے نبرد آزما ہونے کیلئے نیا عزم اور ولولہ دینے کے ساتھ ساتھ حکومت کی حکمت عملی اور عوام کی خوشحالی کیلئے اقدامات اور بہترین عزائم کا اعادہ کرتے مگر انہوںنے نہ تو ملک کو درپیش چیلنجز اور عوامی مسائل کا تذکرہ کیا اور نہ ہی اپنی پارٹی اور کارکنان کیلئے کوئی واضح پیغام پہنچایا۔ صدر کی جانب سے میڈیا پر کھلم کھلا تنقید بے موقع اور بلا جواز تھی۔