ذوالفقار مرزا کے الزامات سیاست کا حصہ ہیں: ترجمان ایوان صدر

اسلام آباد (جاوید صدیق) صدر کے ترجمان سینیٹر (ر) فرحت اﷲ بابر نے سندھ کے وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا کی طرف سے ایم کیو ایم پر الزامات کو سیاست کا حصہ قرار دیا ہے۔ نوائے وقت کے استفسار پر کہ کیا پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم میں کھلی جنگ شروع ہونے والی ہے‘ فرحت اﷲ بابر نے کہا کہ آپ سندھ کے وزیر داخلہ کے بیان میں بہت زیادہ پڑنے کی کوشش نہ کریں۔ فرحت اﷲ بابر سے پوچھا گیا کہ صدر نے بھی پارٹی کے یوم تاسیس پر خطاب میں بڑا تلخ لہجہ اپنایا اور حریفوں کو للکارا کیا پیپلز پارٹی چومکھی لڑائی لڑنے کی تیاریاں کر رہی ہے تو انہوں نے کہا کہ ایسی کوئی بات نہیں سب ٹھیک ہے۔ صدر کے خطاب ذوالفقار مرزا کی پریس کانفرنس کے بعد دارالحکومت میں یہ تاثر عام ہے کہ پیپلز پارٹی نے جارحانہ انداز میں اپنا دفاع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر زرداری نے اس بات سے اتفاق کیا کہ اگلے ماہ وفاقی کابینہ میں تبدیلیاں کی جائیں۔ وہ تمام وزرا جن پر بدعنوانی کے الزامات ہیں‘ انہیں فارغ کر دیا جائے ان کی جگہ تجربہ کار اچھی شہرت رکھنے والے پارٹی کے ارکان کو کابینہ میں شامل کیا جائے خود وزیراعظم نے گزشتہ روز اعلان کیا کہ عید کے بعد وفاقی کابینہ میں تبدیلیاں کی جائیں گی۔ ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کی نئی حکمت عملی کے تحت صدر کے اختیارات جلد وزیراعظم اور کابینہ کو منتقل کر دیئے جائیں گے تاکہ ایوان صدر پر دباؤ کم ہو سکے اور اسٹیبلشمنٹ اور ایوان صدر کے درمیان تلخی ختم ہو سکے تاہم بعض باخبر حلقوں کا دعویٰ ہے کہ ان تبدیلیوں کے باوجود این آر او سے فائدہ اٹھانے والے حکومتی ارکان کو عدالتوں کا سامنا کرنا پڑے گا اور اپنے لئے عدالتوں سے بے گناہی کا ثبوت لینا پڑے گا۔ کابینہ میں شامل وہ ارکان جنہوں نے این آر او سے فائدہ اٹھایا ہے انہیں کابینہ سے لازماً الگ کر دیا جائیگا۔ پیپلز پارٹی کے سیاسی حریف این آر او کے معاملے کو ٹھنڈا نہیں پڑنے دیں گے وہ اسے سیاسی ایشو بنائے رکھیں گے ان کی کوشش ہوگی کہ صدر کو این آر او کے ذریعے سیاسی حوالے سے زچ کرایا جائے۔