بھارت کی جامع مذاکرات سے دوری انتہاپسند قوتوں کو مضبوط کریگی : زرداری

اسلام آباد (آن لائن+اے پی پی) صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ حکومت کی کشمیر پالیسی واضح ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ مسئلہ کشمیر سمیت تمام تنازعات کے حل کیلئے بھارت کا جامع مذاکرات کی میز پر نہ آنا انتہاپسند قوتوں کو مضبوط کریگا۔ ایوان صدر میں پیپلزپارٹی آزاد کشمیر کے اراکین اسمبلی سے گفتگو کرتے ہوئے زرداری نے کہا کہ حکومت مسئلہ کشمیر کا پائیدار اور پرامن حل چاہتی ہے جو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہو ۔ اس موقع پر صدر نے آزادکشمیر میں پیپلزپارٹی کو مضبوط جماعت بنانے کی ہدایت کی اور کہا کہ آزادکشمیر میں زلزلہ سے متاثرہ علاقوں کی تعمیرنو، منگلا ڈیم کی توسیع، منگلا ڈیم کے متاثرین کی بحالی اور نیو میرپور شہر کی ترقی کے تمام منصوبوں کو جلد مکمل کیا جائیگا۔ زرداری نے کہا کہ غیر ملکی سرمایہ کار حکومت پاکستان کی سرمایہ کار دوستانہ پالیسیوں سے فائدہ اٹھائیں۔ یورپی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کی اضافی رسائی کیلئے کوششیں تیز کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین اور پاکستان دہشت گردی کیخلاف عالمی مہم میں پارٹنرز ہیں۔ صدر نے یورپی یونین کے نئے صدر ہرمین وین روم پوئی کیلئے نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا جو بیلجیئم کے وزیراعظم بھی ہیں۔