دہشتگردی سے متعلق کوئی سیاست نہ کی جائے: چودھری نثار

خبریں ماخذ  |  ویب ڈیسک
دہشتگردی سے متعلق کوئی سیاست نہ کی جائے: چودھری نثار

 وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے کہا ہے کہ امجد صابری کے قتل اور چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کے بیٹے کے اغوا پر پورا ملک سوگوار ہے‘ دہشتگرد آسان اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ دہشتگردی کیخلاف جنگ جیت رہے ہیں مگر منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے نفسیاتی جنگ بھی جیتنا ہوگی۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان اختلافات اور اختیارات کی تقسیم دہشت گردی کیخلاف جنگ کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ انہوں نے قوم سے اپیل کی کہ وہ دہشتگردی کیخلاف جنگ میں ثابت قدم رہیں اور اسے نفسیاتی طور پر اپنے ذہنوں پر حاوی نہ ہونے دیں، کیونکہ دشمنوں کا مقصد ہی ہمارے اندر مایوسی پھیلانا ہے۔ ہم حالت جنگ میں ہیں۔ اس جنگ کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے ہمیں نفسیاتی جنگ جیتنا ہوگی‘ دہشتگردوں کیلئے زمین تنگ کر دی گئی ہے لیکن جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان اختلافات بھی سکیورٹی فورسز کے راستے کی رکاوٹ ہیں۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالات مکمل طور پر نارمل نہیں لیکن افواج پاکستان کی قربانیوں سے بہت بہتری آئی ہے۔ سکیورٹی کی صورتحال بہتر بنانے کیلئے فورسز نے جانوں کا نذرانہ دیا۔ پاک فوج اور ایجنسیوں نے خون کا نذرانہ پیش کرکے امن قائم کیا۔ آپریشن ضرب عضب میں 490 سے زائد شہادتیں ہوئیں۔ 2015ء میں دہشتگردی کے واقعات 45 فیصد کم ہوئے۔ 2013ء میں ہر روز پانچ سے 6 بم دھماکے معمول تھے لیکن اب مہنیوں بعد کوئی واقعہ ہوتا ہے۔ دہشتگردی کیخلاف تمام مشکلات کے باوجود جیت رہے ہیں۔ کراچی کے حالات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ دہشتگرد قوم میں مایوسی پھیلانے کیلئے سافٹ ٹارگٹس کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں کراچی میں امجد صابری کی شہادت اور چیف جسٹس کے صاحبزادے کے اغوا کے واقعات نے سب کو غمزدہ کر دیا۔ ایسے بزدلانہ واقعات سے قوم مایوس نہیں ہوگی۔ کراچی میں بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ اور اغوا کی وارداتیں کم ہوئیں۔ تاہم ایسے واقعات کے بعد کراچی آپریشن پر تنقید شروع ہو جاتی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ امجد صابری کے قاتلوں تک پہنچا جائے گا۔ اویس شاہ کو بھی بازیاب کروایا جائے گا۔ کراچی کے واقعات فورسز‘ سکیورٹی ایجنسیوں کیلئے چیلنج ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کی تربیت کے بغیر کراچی آپریشن کے ثمرات نہیں مل سکتے۔ اس لئے فیصلہ کیا گیا ہے کہ سکیورٹی صورتحال بہتر بنانے کیلئے کراچی کو مختلف ایریاز میں تقسیم کیا جائے گا۔ سندھ پولیس کی تربیت میں اب فوج مدد کرے گی۔ سندھ پولیس میں 20 ہزار کی ریکروٹمنٹ ہو گی دو ہزار سابق فوجی بھرتی کئے جائیں گے۔ کراچی میں حالیہ واقعات بہت افسوسناک ہیں‘ دہشتگرد سب کچھ پلاننگ سے کر رہے ہیں۔ بہت سے دہشتگرد تعلیم یافتہ ہیں جن کی نشاندہی آسان نہیں ہے۔ سوشل میڈیا پر کون افواہیں پھیلا رہے ہیں، کسی کو پتہ نہیں ہوتا۔ زیادہ تر سوشل میڈیا منفی کردار ادا کر رہا ہے۔ کوئی ایک واقعہ بھی ہو جائے تو گزشتہ کارکردگی کو ختم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ سوشل میڈیا کو دہشتگردی کیخلاف جنگ میں استعمال کریں۔ کوئی ایسا ہے جو بلا جواز افواہوں سے مایوسی پھیلا رہا ہے۔ آسان اہداف کو نشانہ بنانے کا مقصد قوم کو مایوس کرنا ہے۔ ہم نے میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے پیغام دینا ہے کہ دہشتگردی کیخلاف عزم کو کمزور نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان پولیس کا اقوام متحدہ کی امن فورس میں کردار رہا ہے۔ اتوار کو پورے دن کراچی میں رات گئے میٹنگز ہوتی رہیں‘ جن میں مختلف امور پر مشاورت ہوئی‘ صوبوں اور وفاق میں پولیس میںکئی بھرتیاں کی گئی ہیں‘ دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پولیس کا کردار کلیدی تھا۔ پولیس میں افرادی قوت کی کمی تھی۔ اقوام متحدہ کی امن فورس میں دوبارہ شمولیت کر رہے ہیں۔ اللہ کے کرم‘ سکیورٹی ایجنسیوں کی قربانیوں‘ جدوجہد سے پاکستان کی سکیورٹی صورتحال میں بہتری آئی ہے لیکن جدوجہد اور جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔ 2015ءمیں دہشت گردی کے واقعات میں 45فیصد کمی آئی‘ دہشت گردی سے اموات میں 39فیصد کمی ہوئی‘ کراچی میں بھتہ خوری‘ دہشتگردی‘ ٹارگٹ کلنگ اور اغوا کی وارداتیں کم ہوئیں۔ ہمیں امن و امان کی صورتحال میں بہتری لانی ہے۔ 2013ءمیں 5 سے 6دھماکے روزانہ ہوتے تھے۔ آج دہشت گردوں کیخلاف زمین تنگ ہوئی ہے‘ آپریشن سے دہشتگردوں پر قدغن لگی ہے‘ اب فری سپیس‘ دہشتگردوں کے پاس نہیں۔ سکیورٹی فورسز کا خون شامل ہے۔دہشتگرد ایسے واقعات کرتے ہیں تا کہ قوم میں مایوسی پھیلے ، پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جس کی دہشتگردی کیخلاف جنگ کو کامیاب قرار دیا جا رہا ہے۔ دہشتگردوں پر زمین تنگ ہوئی تو آسان اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ وفاق اور صوبائی حکومت میں اختیارات کی تقسیم بھی رکاوٹ بنتی ہے۔ دشمن سامنے نہیں جس کا مقابلہ کیا جائے۔ ہماری گلیوں محلوں میں چہل پہل ہے، دشمن ہماری آبادیوں میں چھپے ہوئے ہیں۔ ہر طرف دیکھ لیا جائے قوم کی دعاﺅں سے دہشتگردی کے خلاف یہ جنگ ہم جیت رہے ہیں۔ بہت سے دہشتگرد تعلیم یافتہ ہیں، قوم مایوس نہ ہو، دہشتگرد مایوس ہیں۔ سکیورٹی دینے کا مقصد یہ نہیں ہر ایک کے ساتھ ایک، دو پولیس والے لگا دیئے جائیں۔ دہشتگردوں کا مقصد ہے قوم کو تقسیم کریں، ایک دوسرے کے ساتھ لڑایا جائے۔ چیف جسٹس کے بیٹے کا اغواءاور صابری کے واقعات دہشتگردوں کی مایوسی کے عکاس ہیں۔ ہمیں دہشتگردوں کے گیم پلان کا حصہ نہیں بننا چاہئے، ہمیں بد دل نہیں ہونا چاہئے، جنگ جیتنے کیلئے دہشتگردوں کیخلاف ہمیں نفسیاتی جنگ بھی جیتنا ہو گی۔ بہت افسوس ہے کہ سوشل میڈیا بہت منفی کردار ادا کر رہا ہے۔ ہم نے قوم کو نفسیاتی جنگ جیتنے کیلئے متحرک کرنا ہے۔ پیغام یہ جانا چاہئے کہ آخری دم تک لڑیں گے ،بزدلانہ واروں سے قوم بد دل خوفزدہ نہیں ہو گی۔کراچی میں دوبزدلانہ واقعات سے قوم خوف میں مبتلا نہیں ہو گی۔ قوم کو سب سے پہلے متحد ہونا چاہئے۔ جنگ کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے نفسیاتی جنگ جیتنا ہو گی ہمیں یکجا ہو کر دہشتگردوں کو پیغام دینا ہے کہ ہمارے عزم کو کمزور نہیں کیا جا سکتا۔ ہمیں افواہوں پر دھیان نہیں دینا چاہئے۔ یہ دو واقعات ہماری سکیورٹی اور انٹیلی جنس ایجنسیز کیلئے چیلنج ہیں۔ ہماری ایجنسیز امجد صابری کے قاتلوں تک پہنچیں گی۔ ایجنسیز چیف جسٹس کے بیٹے کو بھی بازیاب کرائیں گی۔ ہم نے یہ چیلنج قبول کرنا اور اس کا مقابلہ کرنا ہے۔ دہشتگردی سے متعلق کوئی سیاست نہ کرے یہ ملک سے دوستی نہیں ہو گی۔ اس وقت کوئی سیاست نہیں یہ گناہ عظیم ہو گا جو دہشتگردی کے حوالے سے سیاست کرے گا۔ اس وقت تو پورے ملک کو ہماری سکیورٹی ایجنسیوں کا حوصلہ بڑھنا ہے۔ ہمیں پیغام دینا چاہئے کہ ہم زیادہ عزم کے ساتھ دہشتگردی کا مقابلہ کریں گے، یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ جب تک پولیس کی صلاحیتیں نہیں بڑھیں گی کراچی آپریشن کے ثمرات مستقل نہیں ہوں گے۔ ایسے واقعات پر کراچی آپریشن ، ضرب عضب پر سوال اٹھنا شروع ہو جاتے ہیں امریکہ میں کسی نے نہیں کہا کہ ایف بی آئی پر پابندی لگا دیں۔ امریکہ میں49افراد کے قاتل کو2بار سوال کر کے چھوڑ دیا گیا۔ کراچی میں پولیس میں20ہزار ایکس سروس مین بھرتی کئے جائیں۔ بھرتی کیلئے جی ایچ کیو سندھ حکومت کی مدد کرے گا۔پولیس میں بھرتی اور ٹریننگ کیلئے فوج معاونت کرے گی۔ الزام تراشیوں سے فورسز کا مورال ڈاﺅن ہوتا ہے۔کراچی کے واقعات پر جس طرح کا پوسٹ مارٹم ہو اس سے کیا مورال بلند ہو گا؟ اتوار کے اجلاس میں، میں نے تجویز دی تھی کہ کراچی میں گھر گھر کا ڈیٹا تیار کیا جائے۔اس کیلئے نادر اسے مدد لی جائے گی یہ تجربہ ہم اسلام آباد میں کر چکے ہیں وہاں کا ڈیٹا قریباً مکمل ہونے والا ہے۔ اگرچہ یہ کام آسان نہیں لیکن نشاندہی کرنا ضروری ہے کہ کون لوگ ہیں، کہاں سے آئے ہیں کراچی کو مختلف ایریاز میں تقسیم کیا جائے گا۔قتل کے واقعات میں53فیصد کمی ہوئی ہے۔ جے آئی ٹی کو قانون بنانے کی تجویز ہے، وزارت داخلہ جے آئی ٹی کو قانونی حیثیت دینے کی ذمہ داری لی ہے، ملک بھر میں گاڑیوں کی نمبر پلیٹوں کیلئے نیشنل رجسٹریشن اتھارٹی قائم کی جائے گی۔ پورے ملک میں مو¿ثر سائیکل اور گاڑیوں کی ایک جیسی نمبر پلیٹس ہوں گی۔ کراچی میں پولیس کی استعداد کار بڑھانا ہو گی ۔بھتہ خوری کیلئے زیادہ تر انٹرنیشنل کالز آتی ہیں، عید کے بعد امن و امان سے متعلق واضح پالیسی آئے گی۔ جرائم کیخلاف کم سے کم وقت میں وفاق اور صوبوں کو ایک صفحے پر آنا ہو گا بھتہ کی کالز دو اسلامی ملکوں سے آنا شروع ہو گئی ہیں۔ کرائم کے لحاظ سے 2013ءمیں کراچی کا نمبرچھٹا اور اب 32واں ہے۔ واضح کر دوں کہ انٹیلی جنس ایجنسیاں وفاق کے دائرہ کار میں ہیں، وفاق دہشتگردی کیخلاف تمام صوبوں سے مکمل تعاون کر رہا ہے دہشتگردی کیخلاف کسی صوبے کے ساتھ سیاست نہیں ہو گی۔ چاہتا ہوں کہ آزاد کشمیر الیکشن شفاف بنانے کیلئے فوج کی نگرانی میں ہوں آزاد کشمیر الیکشن میں فوج کی مدد کیلئے آرمی چیف سے بات کی ہے، آزاد کشمیر کے الیکشن کو شفاف بنائیں گے۔جنگ کیلئے دشمن سامنے نہیں چھپ کر وار کر رہا ہے۔ ایان علی کے معاملے پر شواہد کچھ اور ظاہر کرتے ہیں۔ فنکار برادری کی جانب سے سکیورٹی کے مطالبے پر توہین آمیز رویہ نہیں اپنا چاہتے۔ فنکار ہو یا عام شہری ، سب کو سکیورٹی کے مطالبے کا حق ہے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے معاملے پر سیاست اور پوائنٹ سکورنگ نہیں ہونی چاہئے ، ملک سے دوستی نہیں ہو گی۔ دہشت گردی کیخلاف نفسیاتی جنگ جیتنے کے لئے علمائے کرام کو متحرک کرینگے انہیں بھی ایک پیج پر لائینگے ۔آزاد کشمیر الیکشن کی شفافیت کیلئے فوج اور رینجرز تعیناتی کی درخواست آئی تھی یہ حکومت وقت کی ذمہ داری ہے کہ ہر شہری کو سکیورٹی فراہم کرے۔ عید کے فوری بعد وزیر اعظم نواز شریف وطن واپس پہنچیں گے۔علماءکو متحرک کریں گے اور ایک بیانیہ سامنے لائیں گے، علماءنفسیاتی جنگ میں عوام کی سپورٹ کریں گے چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات ون پوائنٹ ایجنڈا پر ہو ئی ہے۔ وفاق دہشتگردی کیخلاف خیبر پی کے ، سندھ ، پنجاب ، بلوچستان کی مدد کر رہا ہے ہماری نشاندہی کے باوجود واقعات ہو جاتے ہیں لیکن ہم انگلیاں نہیں اٹھاتے۔ فوج دہشتگردی کیخلاف جنگ اور ریسکیو سروس میں مصروف ہے۔تفتیش کا رخ کسی سیاسی جماعت کی طرف ہونے کی اطلاعات غلط ہیں کئی بار انٹیلی جنس شیئرنگ کے باوجود دہشتگردی ہوئی، وفاق نے کبھی پوائنٹ سکورنگ نہیں کی۔