اویس شاہ کا فون 72 گھنٹے بعد لنڈی کوتل میں کھولا گیا، اغوا پولیس کیلئے معمہ بن گیا

خبریں ماخذ  |  ویب ڈیسک
اویس شاہ کا فون 72 گھنٹے بعد لنڈی کوتل میں کھولا گیا، اغوا پولیس کیلئے معمہ بن گیا

 اویس علی شاہ کے اغوا کیس میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ ذرائع کے مطابق مغوی کا فون 72 گھنٹے بعد آن کیا گیا۔ اویس شاہ کا فون خیبر ایجنسی کے علاقے لنڈی کوتل میں کھولا گیا۔ مغوی کا فون صرف 6 منٹ بعد دوبارہ بند کردیاگیا۔ حکام کا خدشہ ہے کہ لنڈی کوتل میں فون کی موجودگی گمراہ کرنے کی کوشش ہوسکتی ہے۔ علاوہ ازں چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ سجاد علی شاہ کے بیٹے اویس علی شاہ کا اغواءپولیس کیلئے معمہ بن گیا اغوا کاروں کی جانب سے تاوان کا مطالبہ کیا گیا اور نہ ہی کسی اورقسم کی سودے بازی کی کوشش کی گئی۔ایک ہفتہ گزرجانے کے باوجود پولیس اس سفید ٹویوٹا کرولا کا سراغ بھی نہیں لگا سکی جس پر پولیس کی جعلی نمبر پلیٹ لگی ہوئی تھی اور جس میں سوار افراد نے کلفٹن میں واقع شاپنگ سینٹر کے پارکنگ ایریا سے اویس علی شاہ کو اغوا کیا تھا پولیس نے ابتداءمیں دعویٰ کیا کہ مذکورہ کار کو بلوچ کالونی کی طرف جاتے دیکھا گیا اگلے روز یہ کہا گیا کہ کار کی آخری لوکیشن منگھو پیر کی تھی جبکہ اس کے بعد اس کار کو شہید ملت روڈ اور حسن اسکوائر کے راستے عیسیٰ نگری کے قریب لیاری ایکسپریس وے کی طرف جاتے دیکھنے کی بات کی گئی۔ علاوہ ازیں اویس شاہ کے اغواءکے حوالے سے بنائی گئی جے آئی ٹی کے پہلے اجلاس میں اب تک کی تحقیقات کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ جے آئی ٹی کا پہلا اجلاس کراچی میں منعقد ہوا جس میں ڈی آئی جی سلطان خواجہ، ڈی آئی جی منیر شیخ اور جے آئی ٹی میں شامل دیگر افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں مختلف اداروں کی جانب سے اب تک ہونے والی تحقیقات پر بات چیت کی گئی اور جمع کی جانے والی معلومات کا تبادلہ بھی کیا گیا۔ اجلاس میں کراچی کے داخلی اور خارجی راستوں بالخصوص دہشت گردوں کے ممکنہ فرار کے راستوں کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔علاوہ ازیں کاونٹر ٹیرر ازم ڈیپارٹمنٹ نے سائٹ ایریا میں کارروائی کرتے ہوئے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے دو غیر ملکی کارندوں کو گرفتار کر لیا۔ سی ٹی ڈی حکام کے مطابق سائٹ ایریا میں ولیکا ہسپتال کے قریب کارروائی کے بعد دو افغان باشندوں میرا جان اور اختر خان کو گرفتار کیا گیا۔ دوران تفتیش ملزموں نے انکشاف کیا کہ ان کا تعلق کالعدم ٹی ٹی پی سے ہے، گرفتار ملزموں سے جعلی قومی شناختی کارڈ بھی برآمد ہوئے۔ ادھر رنچھوڑ لائن سے قانون نافذ کرنے والے ادارے نے سیاسی جماعت کے منتخب یو سی وائس چیئرمین وسیم قادری کو حراست میں لے لیا۔ یو سی وائس چیئرمین کو حراست میں لیے جانے کی وجہ نہیں بتائی گئی۔ دوسری جانب رینجرز نے لیاری سے گرفتار بزرگ کمیٹی کے رکن رشید ماما اور امین قلندری کو 90 روزہ ریمانڈ مکمل ہونے پر پولیس کے حوالے کر دیا۔ ملزمان سے بھتہ خوری سے متعلق تفتیش کی گئی۔ دریں اثناءپولیس نے یوم علی پر سکےورٹی کیلئے صدر کے مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن کیا۔ اور اس دوران 16 ملزمان گرفتار کرلیے گئے۔کھوکھرا پار سے بھی 3 ملزم گرفتار کر لیے گئے۔ رینجرز نے لیاقت آباد میں جھنڈا چوک کے قریب سرچ آپریشن میں 3 مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا۔ علاوہ ازیں کراچی کے علاقے کورنگی میں 2 نوجوانوں نے معروف قوال امجد فرید صابری کی پورٹریٹ ایک دیوارمیں بناکر انہیں خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ مداحوں کی جانب سے امجد صابری کوخراجِ عقیدت پیش کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ شہرقائد کے علاقے کورنگی میں 2 نوجوانوں رضا اورعاقب نے ایک دیوار کو امجد صابری کی تصویر سے پینٹ کیا، عالمی قوال کی تصویربنانے میں نوجوانوں کو3 گھنٹے لگے۔واضح رہے کہ 22 جون کوعالمی شہرت یافتہ قوال امجد فرید صابری کودن دہاڑے ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنا کر قتل کردیا گیا تھا۔