کشمیر پر بھارتی ڈکٹیشن نہیں لینگے ، خارجہ پالیسی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کی مشاورت سے بنارہے ہیں؛ سرتاج عزیز

خبریں ماخذ  |  ویب ڈیسک
 کشمیر پر بھارتی ڈکٹیشن نہیں لینگے ، خارجہ پالیسی سکیورٹی  اسٹیبلشمنٹ کی مشاورت سے بنارہے ہیں؛ سرتاج عزیز

 وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور نے کہا ہے کہ کلبھوشن یادیو کے خلاف قانونی کارروائی پھر سے شروع ہوگی،کل بھوشن یادیو کا نیٹ ورک مکمل طورپر بے نقاب کرنیکی کوشش میں ہیں، ہم امریکہ کی طرح سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کی مشاورت سے خارجہ پالیسی بنارہے ہیں، کشمیر کے معاملے پر بھارتی ڈکٹیشن نہیں لینگے ، کنٹرول لائن پر ٹینشن نہیں چاہتے،وزیراعظم نے بھارتی این ایس جی میں شمولیت کیخلاف17وزرائے اعظم کو خطوط لکھے جن میں سے کچھ خطوط ریکارڈ کا حصہ ہیں،افغانستان سے 30سے 35 ہزار لوگوں کو ویزے کے بغیر نہیں آنے دیا جائے گاجبکہ بارڈرکے قریب رہنے والے لوگوں کےلئے ویزے کی پابندی نہیں ہوگی، ایران کیساتھ جو غلط فہمی پیدا ہوئی وہ ایرانی حکام کیساتھ ملاقات میں کلیئرہوگئی ہے۔ان خیالات کااظہار مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے وزیراطلاعات و نشریات پرویز رشید کے ہمراہ اینکرز اور ایڈیٹرز سے ملاقات کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ کل بھوشن یادیو کے معاملے پر جلد قانونی کارروائی شروع کریں گے، اس کے خلاف ڈوزیئر تیارکررہے ہیں ثبوت مکمل ہونے پر دوبارہ کارروائی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ خارجہ پالیسی بنانے میں کسی سے کوئی ڈکٹیشن نہیں لیتے، پاکستان امریکہ کی طرح سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے مشورے سے خارجہ پالیسی بناتا ہے، ہم امریکہ کی طرح سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کو ساتھ لیکر چلتے ہیں۔ بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے رہنماﺅں کو دی جانے والی پھانسیوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش میں پھانسیاں دیے جانے کے معاملے پرتحفظات ہیں جبکہ انسانی حقوق کے اداروں نے بھی بنگلادیش میں دی جانے والی پھانسیوں پر تحفظات کا اظہار کیاہے۔پاک ایران تعلقات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے ہمیشہ برادرانہ تعلقات کے خواہشمند ہیں، ایران کے ساتھ تعلقات میں اب کوئی مسئلہ نہیں بلکہ کچھ غلط فہمیاں تھیں جو ایرانی حکام کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں دور ہو گئےں ہیں۔ پاک افغان باڈر مینجمنٹ کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ افغانستان کے ساتھ بارڈرمینجمنٹ کاتنازع طے کرنا ہے، بارڈر مینجمنٹ کے لیے فریم ورک بنایاہے، دونوں ملکوں کے ڈی جی ایم اوز ملیں گے۔ مستقبل میں امن مذاکرات انتہائی کٹھن ہونگے، کچھ افغان طالبان دھڑے امن مذاکرات کے حامی اورکچھ مخالف ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ طارق فاطمی کے ساتھ بہترین پیشہ وارانہ تعلقات ہیں۔