وزیراعظم کو پاکستان میں رکھنا ہے تو لندن کا شاپنگ مال یہاں لے آئیں:عمران

وزیراعظم کو پاکستان میں رکھنا ہے تو لندن کا شاپنگ مال یہاں لے آئیں:عمران

پشاور(بیورو رپورٹ+ نوائے وقت رپورٹ) تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ واپڈا کے سابق چیئرمین شکیل درانی کی جانب سے پیڈو اور خیبر پی کے حکومت پر لگائے جانے والے الزامات کا سن کر افسوس ہوا ہے کیونکہ ہم نے انہیں ایک اچھا دوست اور صوبہ کے عوام کا خیرخواہ سمجھ کر ٹیم کا حصہ بنایا تھا مگر انہوں نے خیبر پی کے حکومت کی مدد کرنے کی بجائے بجلی منصوبوں کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنا شروع کردیں۔ دینی مدارس کے طلبہ کو مین سٹریم میں لا رہے ہیں جو نیشنل ایکشن پلان کا حصہ ہے، رہی بات دینی مدرسہ حقانیہ کیلئے فنڈز کی فراہمی اور مولانا فضل الرحمن کے مدرسوں کے نظر انداز کرنے کی تو یہ بات واضح کرتا چلوں کہ مولانا فضل الرحمن نے اپنے 5سالہ دور میں اپنے مدرسوں کو خوب فنڈز دیئے ہونگے اب مدرسہ حقانیہ کی باری آئی ہے تو کسی کو تکلیف نہیں ہونی چاہئے، وزیراعظم کو ملک میں ٹھہرانے کا ایک ہی حل ہے کہ لندن کے شاپنگ مال کو پاکستان لایا جائے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب پولیس میں سیاسی مداخلتوں کی اس سے بڑی اور کیا مثال مل سکتی ہے کہ پنجاب پولیس چھوٹو گینگ کے گرد گھیرا تنگ کرنے میں کامیاب نہ ہوسکی خیبرپی کے پولیس ریفارمز کے سامنے پنجاب پولیس کچھ بھی نہیں ہے انہوں نے اس تاثر کو مسترد کردیا کہ پاکستان تحریک انصاف کا پیپلز پارٹی کی جانب کوئی جھکائو ہے ہم درباریوں سے کسی قسم کا رابطہ رکھنے کے خواہش مند نہیں ہیں۔ رہی بات میاں نواز شریف کی تو ان کیلئے لندن کے طرز کا ایک شاپنگ مال اسلام آباد میں بنا دینگے تاکہ انہیں ہر روز شاپنگ کیلئے لندن نہ جانا پڑے، عمران خان کاکہنا تھا کہ سرکاری ہسپتالوں کی صورتحال خراب ہوتی جارہی ہے، سرکاری ہسپتالوں کو شوکت خانم کے طرز پر چلانا چاہتے ہیں انکا کہنا تھا کہ وزیراعلی پرویزخٹک نے میاں برادران کی طرح اشتہارات میں خودنمائی نہیں کی، ہم عوام کی خدمت پر یقین رکھتے ہیں، عمران خان نے مزید کہا کہ مرکز سے کم رقم ملنے کے باوجود صحت کا بجٹ بڑھایا ہے۔ صحت کابجٹ آٹھ ارب سے 25ارب تک پہنچا دیا ہے۔ صحت کا انصاف کارڈ سے 18لاکھ خاندانوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔ دریں اثناء ایک انٹرویو میں عمران نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف وطن واپس آئیں گے تو پانامہ لیکس کے معاملے میں مزید پھنس جائیں گے۔ حکومت میں اگر کرپشن روک لی جاتی تو آئی ایم ایف سے قرضہ نہ لینا پڑتا۔ ملک کو ایک بہتر وزیر خارجہ اور مضبوط دفتر خارجہ کی ضرورت ہے۔ نجی ٹی وی کو انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ اگر نواز شریف بے قصور ہیں تو ٹی او آرز سے کیوں ڈرتے ہیں۔ نیب کے پاس وزیر اعظم کے احتساب کا اختیار نہیں تو پھر اسے بند کر دیا جائے اگر نواز شریف کا احتسا ب نہیں کرتے تو پھر کسی کا بھی احتساب نہیں کرنا ہے احتساب سب کا کرنا ہوگا کوئی بھی شخص احتساب سے بالا تر نہیں ہوگا۔ مسلم لیگ ن کا طریقہ کار ہے کہ معاملے کو لٹکاتے رہو۔ ہماری کوشش ہوگی کہ پانامہ لیکس کے معاملے پر تمام اپوزیشن جماعتوں کو اکٹھے لے کر چلیں۔ احتساب کے لئے اکیلا لڑنا پڑا تو لڑوں گا۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن اپنی سیاسی موت پر دستخط کر چکے ہیں۔ مدرسہ حقانیہ کو فنڈ دینے کے معاملے پر مجھ سے مشاورت نہیں کی گئی دوسری جانب مدرسہ حقانیہ نے پولیو مہم میں کے پی کے حکومت کی بہت معاونت کی تھی اگر جامعہ حقانیہ کا تعاون حاصل نہ ہوتا تو ہم پولیو مہم نہیں جیت سکتے تھے۔