قانون کے مطابق ملزم اور شریک ملزم کو برابر کی سزا ملنی چاہیئے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری

قانون کے مطابق ملزم اور شریک ملزم کو برابر کی سزا ملنی چاہیئے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری

چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری کی سربراہی میں گیارہ رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ تاریخ میں بہت سے افراد کو پارلیمنٹ نے بری قراردیا،ہم نے پارلیمنٹ کو مضبوط کرنا ہے۔ بابراعوان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اعانت جرم میں کسی ملزم کو پھانسی نہیں دی جا سکتی ،پارلیمنٹ کے ساتھ عدلیہ کو بھی مضبوط بنانا چاہتے ہیں،انہوں نے مزید کہا کہ بھٹو کیس میں سابق چیف جسٹس نسیم حسن شاہ نے اعتراف کیا کہ فیصلہ غلط تھا اسے کیسے نظر انداز کیا جا سکتا ہے،جس پرچیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ریمارکس دئیے کہ پارلیمنٹ مقدمے میں رائے دینے کے لیے قانون بنا سکتی ہے۔ سپریم کورٹ میں چیف جسٹس اوربابراعوان کے درمیان مکالمہ بھی ہوا جس میں بابر اعوان کا کہنا تھا کہ بھٹو کو سزا دینے والے ججز انتقام لینے والا مزاج رکھتے تھے اور وہ بھٹو سے ڈرتے تھے،سانپ اپنےڈر سے ڈنگ مارتا ہے جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا سانپ بھی ڈرتا ہے جس پر بابر اعوان نے کہا کہ جی، سانپ ڈرتا ہے تبھی تو ڈنگ مارتا ہے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت کل تک ملتوی کردی، بابراعوان کل بھی دلائل جاری رکھیں گے۔