دھاندلی ہوئی ....مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے الزامات

لاہور (خبر نگار) مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما و رکن قومی اسمبلی حمزہ شہبازشریف نے کہا ہے کہ مرکزی حکومت نے آزاد کشمیر الیکشن میں دھاندلی کرکے کشمیر کاز کو نقصان پہنچایا اورلاہور میں واضح شکست دیکھتے ہوئے پولنگ ملتوی کرائی۔ یہ بات انہوں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر خواجہ سعدرفیق ، زعیم حسین قادری، حلقہ این اے7 3 سے ن لیگی امیدوار عباس میر اور ماجد ظہور بھی موجود تھے۔ حمزہ شہباز شریف نے کہاکہ صدر زرداری سے کسی بھی حرکت کی توقع کی جاسکتی ہے۔ ایوان صدر اور وزیراعظم ہا¶س نے آزاد کشمیر انتخابات میں اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنے کے لئے اثر و رسوخ اور دبا¶ استعمال کیا، الیکشن کے نتائج ہائی جیک کئے گئے‘ یہ تحریک آزادی کشمیر کے لئے بھی خطرناک ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ مرکزی حکومت کی مداخلت، احکامات اور دبا¶ پر الیکشن کمشن نے 36 گھنٹے قبل ایل اے 30،36 اور 41 میں الیکشن منسوخ کردیئے ۔ انہوں نے کہاکہ راجہ ریاض ، ثمینہ خالد گھرکی اور گورنر پنجاب نے ایوان صدر کو قائل کیاکہ لاہور کی سیٹ ہاتھ سے نکل رہی ہے جس پر الیکشن کمشن نے بغیر کسی وجہ کے لاہور میں پولنگ ملتوی کرا دی۔ اس معاملے میں ریٹرنگ آفیسر نے جیالے کا کردار ادا کیا۔ عوامی مینڈیٹ کی چوری اور جمہورکے فیصلے کو نہ ماننا پیپلز پارٹی کی شرمناک تاریخی روایت ہے۔ پیپلز پارٹی نے 71 میں عوامی فیصلہ ماننے سے انکار کرتے ہوئے ملک کا ایک بازو کٹوا دیا جبکہ 1977ءمیں اس پارٹی نے شرمناک دھاندلی کے بعد بدقسمت قوم کو 11 سالہ طویل مارشل لاءکے حوالے کردیا ۔
لاہور + سیالکوٹ (سٹاف رپورٹر + نامہ نگار) لاہور میں آزاد کشمیر الیکشن کے دوران ہنگامہ آرائی کے خلاف پیپلز پارٹی نے پریس کلب کے سامنے دھرنا دیا۔ پیپلز پارٹی نے الزام لگایا کہ پنجاب حکومت نے پی پی پی کے رہنماﺅں، امیدواروں ووٹرز، کارکنوں پر منظم انداز میں حملے کئے۔ یہ بات پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل جہانگیر بدر‘ اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض‘ وفاقی وزیر ثمینہ گھرکی‘ سمیع اللہ خان‘ دیوان محی الدین نے لاہور میں مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہی۔ جہانگیر بدر نے کہا کہ انتخابی عمل رکوانے کے لئے پولیس اور غنڈوں کے ذریعے حملے کروائے گئے۔ پیپلز پارٹی تصادم کا راستہ اختیار نہیں کرنا چاہتی۔ پنجاب میں ایک پولنگ سٹیشن بھی برداشت نہیں کیا جا رہا۔ یہ جمہوریت کیخلاف سوچی سمجھی سازش ہے۔ پنجاب حکومت نے مخالفین کے لئے پولنگ سٹیشنز کو نوگو ایریا بنا دیا۔ جہانگیر بدر نے کہاکہ ہمیں مسلم لیگ (ن) سے ایسے غیر سیاسی روئیے کی امید نہیں تھی‘ سمجھ نہیں آتی کہ انہوں نے وفاق گریز رویہ کیوں اختیار کر رکھا ہے۔ مسلم لیگ ن کے جن ارکان اسمبلی نے پریذائیڈنگ آفیسر کو اغوا کیا ہے پنجاب حکومت انکے خلاف خود مقدمہ درج کرائے یا چیف جسٹس اس دھاندلی اور غنڈہ گردی کا ازخود نوٹس لیں۔ ثمینہ خالد گھرکی نے کہاکہ قلعہ لچھمن سنگھ اور چشتی سکول کے پولنگ سٹشنوں پر پیپلز پارٹی کے ووٹروں اور پولنگ ایجنٹوں پر مسلم لیگ (ن) کے غنڈوں نے پولیس اور ارکان اسمبلی کی موجودگی میں بد تمیزی کی انتہا کر دی۔ ہمارے امیدوار دیوان محی الدین‘ راجہ ریاض اور سمیع اللہ خان سے بدتمیزی کی گئی۔ چشتیہ سکول میں پی پی پنجاب کے سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر فخر الدین سمیت دس سے زائد کارکنوں کے کپڑے پھاڑ کر شدید تشدد کیا گیا جبکہ ایک کی پسلی توڑ دی گئی۔ دیوان محی الدین نے کہاکہ میں جب صبح پونے9بجے قلعہ لچھمن سنگھ پولنگ سٹشن پر پہنچا تو وہاں سارے بیلٹ بکس بھرے جا چکے تھے‘ مجھے بڑی مشکل سے اندر جانے دیا گیا تو وہاں کھڑے مسلم لیگی کارکنوں نے کہا کہ جاﺅ تم یہاں سے ہار چکے ہو‘ جس پر میں نے پارٹی قیادت اور چیف الیکشن کمشنر کو صورتحال سے آگاہ کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسلم لیگ (ن) کے ایم این اے ملک پرویز اور انکے ایم پی ایز نے ریٹرننگ آفیسر کو محبوس کر رکھا ہے۔ سمیع اللہ خان نے کہاکہ میاں برادران آزاد کشمیر میں جس جمہوریت کا راگ الاپ رہے ہیں اسکا اصل چہرہ لاہور کے پولنگ سٹیشنوں پر سب کو نظر آ گیا ہے۔ راجہ ریاض نے کہاکہ لاہور کے سیاسی بھگوڑوں نے غنڈہ گردی کی انتہا کر دی ہے، ہمارے پولنگ ایجنٹ اور بیلٹ باکس اٹھا لئے جس سے میاں برادران کا دوغلا پن سامنے آ گیا ہے۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے الزام لگایا کہ سیالکوٹ کے حلقہ ایل اے 32 میں پولیس کی موجودگی میں مسلم لیگ ن کے کارکنوں کے سرعام پیپلزپارٹی کے پولنگ ایجنٹوں کو تشدد کرکے پولنگ اسٹےشنوں سے باہر نکال کر مہریں لگا کر جعلی ووٹ کاسٹ کئے۔ نتائج روک دینے کی درخواست دیدی ہے اور رینجرز کی موجودگی میں شفاف ومنصفانہ انتخابات کے انعقاد کا مطالبہ کیا ہے۔ منظور وٹو نے کہا ہے کہ لاہور اور مقبوضہ کشمیر کے انتخابات میں کوئی فرق نہیں لاہور میں مسلم لیگ ن کے کارکنوں کو پولیس کی مدد حاصل رہی۔ پنجاب کی 9 نشستوں پر پنجاب حکومت انتظامی مشینری استعمال کرکے بڑے پیمانے پر دھاندلی کی مرتکب ہوئی۔ امتیاز صفدر وڑائچ نے کہا کہ پی پی پی کے کارکنوں پر گولیاں چلائی گئیں۔ گوجرانوالہ کوٹ لدھا میں مسلم لیگ (ن) کے سابق ایم پی اے کے خلاف جعلی ووٹ ڈالنے پر مقدمہ بھی درج کیا گیا۔ گوجرانوالہ میں تصدق مسعود ایم این اے پر فائرنگ کی گئی۔ مسلم کانفرنس کے ترجمان نے کہا ہے کہ حکومت پنجاب نے اپنی سرپرستی میں پنجاب میں آباد مہاجرین جموں و کشمیر کو ووٹ کے حق سے محروم کرکے پاکستان دشمنی کا ثبوت دیا ہے۔ مسلم لیگ ن کی پنجاب بھر میں منظم غنڈہ گردی سب کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔
ہنگامہ آرائی