نریندر مودی مسلمانوں کے مقدمہ قتل سے بری درخواست گذار رو پڑیں

نریندر مودی مسلمانوں  کے مقدمہ قتل سے بری  درخواست گذار رو پڑیں

احمد آباد (اے پی اے+ رائٹرز) بھارتی عدالت نے وزارت عظمیٰ کیلئے بی جے پی کے نامزد امیدوار نریندر مودی کو احمد آباد میں مسلم کش فسادات کے مقدمے سے بری قرار دے دیا ہے۔ ان پر الزامات عائد کیے گئے تھے کہ انہوں نے 2002ء میں ریاست گجرات میں مسلمانوں کا قتل عام کرانے میں ہندو انتہا پسندوں کی مدد کی اور مسلمانوں کو تحفظ فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے۔ فیصلے میں عدالت کا کہنا ہے کہ فسادات میں مودی کے ملوث ہونے کے ثبوت نہیں ملے جس کی بنا پر اب ان کا نام مقدمے سے خارج کردیا گیا  ہے۔ مسلم کش فسادات کے دوران احمد آباد میں جنونی ہندوؤں کے ہاتھوں بھارتی پارلیمینٹ کے رکن احسان جعفری کو زخمی کرنے کے بعد زندہ جلا دیا گیا تھا۔ اپنے شوہر کی موت پر زکیہ جعفری نے مودی کیخلاف احمد آباد کی عدالت میں درخواست دائر کی تھی کہ نریندر مودی ہزاروں مسلمانوں کے قاتل ہیں اور گودھرا فسادات کے بعد احمد آباد میں دہشتگردوں نے نریندر مودی کے کہنے پر مسلمانوں کو قتل کیا، املاک جلائیں اور متعدد مسلمانوں کو گھروں میں زندہ جلا دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے شوہر احسان جعفری نے موت سے پہلے نریندر مودی کو فون کرکے ان سے مدد مانگی تھی تاہم گجرات سرکار نے ان کو بچانے سے صاف انکار کر دیا تھا۔ رائٹرز کے مطابق عدالت نے یہ کہتے ہوئے زکیہ جعفری کی درخواست مسترد کر دی کہ مودی کے فسادات میں ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ وزیراعلیٰ نریندر مودی نے اس فیصلے پر اپنے ٹویٹر پیغام میں اسے سچائی کی فتح قرار دیا ہے۔ ادھر زکیہ جعفری کے وکلاء اور حامیوں کا کہنا ہے کہ وہ اس فیصلے کیخلاف ایک ماہ کے اندر اعلیٰ عدالتوں میں اپیل دائر کرینگے۔ وکیل میہر ڈیسائی نے کہا کہ نریندر مودی صرف 20 دن سکون سے گزار سکتے ہیں، اس سے زیادہ انہیں وقت نہیں ملے گا۔عدالت نے انتخابات سے قبل نریندر مودی کو کلین چٹ دے دی۔ آن لائن کے مطابق درخواست گذار ذکیہ جعفری جو عدالت میں موجود تھیں 7 سال کی جدوجہد کے بعد عدالتی فیصلے پر شدید مایوس ہوئیں اور اپنا ضبط کھو بیٹھیں اور ان کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو نکلنا شروع ہو گئے۔ بعدازاں اپنے وکیل اور بیٹے کے ہمراہ میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا انہیں فیصلے پر شدید مایوسی ہوئی اور وہ اس سے بالکل بھی مطمئن نہیں، ہم میٹروپولیٹن عدالت کے فیصلے خلاف ہائی کورٹ میں جائیں گے۔