نخلا کے بعد امریکہ سے تعلقات پر نظرثانی کرینگے: سرتاج عزیز‘ یہ افغانستان میں موجودگی تک محدود نہیں: دفتر خارجہ

نخلا کے بعد امریکہ سے تعلقات پر نظرثانی کرینگے: سرتاج عزیز‘ یہ افغانستان میں موجودگی تک محدود نہیں: دفتر خارجہ

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر + ایجنسیاں) خارجہ امور  و سلامتی کیلئے  وزیراعظم کے مشیر سرتاج عزیز  نے کہا ہے افغانستان  سے امریکی انخلاء  کے بعد اس کیساتھ تعلقات کا ازسرنو جائزہ لیں گے جبکہ  دفتر خارجہ  کی ترجمان تسنیم  اسلم نے ہفتہ وار  بریفنگ  کے دوران  کہا پاکستان امریکہ تعلقات  ہمہ جہتی  ہیں اور یہ تعلقات  افغانستان  میں امریکہ  کی موجودگی  تک محدود نہیں۔  وزارت  خارجہ  کے ذیلی  تھنک  ٹینک انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز اسلام آباد  میں  ایک سیمینار  سے خطاب کرتے ہوئے سرتاج عزیز نے کہا  افغانستان  کے آئندہ صدارتی  انتخابات  میں کوئی امیدوار  پاکستان کا پسندیدہ نہیں۔ افغانستان میں غیر یقینی صورتحال اور عدم استحکام بڑا چیلنج ہے۔ بھارت کے ساتھ تعلقات بہتربنانا  موجودہ حکومت کی اولین  ترجیح ہے۔  بی بی سی  کے مطابق انہوں  نے کہا ہم تجارت اور اقتصادی  تعلقات  کی بنیاد پر  خارجہ پالیسی  تشکیل  دینا چاہتے ہیں۔ نوائے وقت نیوز/ اے این این کے مطابق   سرتاج عزیز نے کہا افغانستان  کیساتھ بارڈر  مینجمنٹ  کریں گے۔  افغان  سرحد پر باڑ نہیں لگائیں گے۔ نئے حالات میں نظریات بھی تبدیل ہو رہے ہیں، قومی سلامتی کا معاملہ داخلی اور خارجی سطح پر بڑا پیچیدہ ہے، بھارت کے ساتھ تعلقات کا بحران بھی ایک بڑا چیلنج ہے، بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات نواز شریف حکومت کی ترجیح ہے،  افغان عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق ملنا چاہئے،  ثناء نیوز کے مطابق انہوں نے کہا  ایران گیس پائپ لائن منصوبے میں فنڈز کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔  داخلی اور خارجی سطح پر قومی سلامتی کا معاملہ بڑا پیچیدہ ہے۔  انہوں  نے کہا  امریکہ کے ساتھ نائن الیون کے بعد تعلقات اب 2014ء کے تعلقات میں تبدیل ہو رہے ہیں۔ گزشتہ دس پندرہ برسوں میں عالمی سطح پر بہت تیزی سے تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔  داخلی سلامتی حکومت کیلئے بڑا چیلنج ہے، قومی سلامتی کی پالیسی سول حکومت بنا رہی ہے۔  انہوں نے کہا  ملک کے وزیر خارجہ وہ ہیں، شہباز شریف یا کوئی دوسرا وزیر خارجہ پالیسی نہیں چلا رہا، دیگر وزراء   کے بیرونی دورے ملکی مفاد میں ہیں۔ انہوں  نے کہا  خارجہ پالیسی پر دفتر خارجہ کسی کنفیوژن کا شکار نہیں، عبدالقادر ملا کی پھانسی بنگلہ دیش کا اندرونی معاملہ ہے اس بارے میں دفتر خارجہ کا موقف سفارتی آداب کے عین مطابق ہے۔ آن لائن کے مطابق  سرتاج عزیز نے کہا  جنوبی ایشیا میں پائی جانے والی نفرت انگیز دشمنی پر پاکستان بھارت تعلقات کو بہتر بنا کر قابو پایا جا سکتا ہے۔ افغانستان کے ساتھ بارڈر پر باڑ نہیں بلکہ بارڈر کے بہتر انتظامات کے ذریعے مسائل کو کم کیا جا سکتا ہے۔پاکستان افغانستان میں عدم مداخلت کی پالیسی پر گامزن ہے، ایران پر پابندیوں کے خاتمے کے بعد گیس منصوبے میں پیشرفت متوقع ہے۔ فاٹا کو صوبے کا درجہ دیئے جانے سمیت مختلف تجاویز گزشتہ 20 سال سے زیر غور ہیں تاہم اس بارے میں پیش رفت نہیں ہوئی۔ پاکستان بنگلہ دیش کے ساتھ مستحکم تعلقات چاہتا ہے اور بنگلہ دیش کے حالات ان کا اندرونی معاملہ ہے، پاکستان شام کے بحران کا اقوام متحدہ کے اصولوں کے مطابق حل چاہتا ہے۔ نیشنل سکیورٹی پالیسی مستقبل قریب میں پیش کر دی جائے گی ۔کابینہ کی کمیٹی برائے قومی سلامتی اس سلسلے میں غوروخوض کررہی ہے۔ سٹاف رپوریر  کے مطابق ترجمان دفتر خارجہ  نے کہا ہے ڈرون حملوں کے خلاف اقوام متحدہ  کی انسانی  حقوق کونسل  جینوا میں جلد قرارداد پیش کی جا رہی ہے۔  ترجمان نے  کہا ڈرون  حملوں کے خلاف  عالمی سطح  پر اتفاق رائے  کی کوششیں کامیابی سے ہمکنار ہو رہی ہیں۔  انہوں  نے کہا  پاکستان، امریکہ کے درمیان پہلے ہی دفاع، معیشت،  بجلی، تعلیم اور انسداد دہشت گردی کے شعبوں میں تعاون چل رہا ہے۔  ایک سوال  کے جواب میں انہوں  نے کہا 2014ء کے بعد  افغانستان  میں امریکہ کی موجودگی کی صورت کے بارے میں ہمیں علم نہیں  بہرحال  پاکستان و امریکہ  کے تعلقات کی نوعیت  کا آئندہ  صورتحال  پر خاصی حد تک انحصار ہو گا۔  ایک سوال  کے جواب میں  ترجمان  نے کہا پاکستان اور چین کے درمیان  ایٹمی توانائی کے شعبہ میں تعاون  پرامن مقاصد  کے لئے  اور عالمی  ایٹمی توانائی ایجنسی کے تحت ہے۔  نیوکلیئر  سپلائرز  گروپ میں شمولیت  کیلئے پاکستان اس گروپ  کے ارکان سے مکالمہ  کر رہا ہے۔  انہوں  نے کہا پاکستان کے خلاف وہ مہم چلا رہے ہیں جوعالمی ایٹمی  توانائی ایجنسی اور این پی ٹی  کے مینڈیٹ  سے تجاوز کرکے خود ایٹمی   ٹیکنالوجی کے پھیلائو میں  ملوث ہیں۔ پاکستان بھارت آبی تنازعات  کے بارے میں ایک سوال  کا جواب دیتے ہوئے  ترجمان نے کہا  کشن  گنگا  تنازع  میں عالمی ثالثی  عدالت  کے فیصلے  پر پورے  خلوص  کے ساتھ عملدرآمد  کی ضرورت ہے ان کا کہنا تھا عدالت نے اپنا پہلا  فیصلہ  برقرار رکھا۔  اس فیصلہ کو پاکستان یا بھارت  کی فتح نہیں  قراردیا جانا چاہئے۔  ترجمان نے بھارتی وزیر خارجہ سلمان خورشید   کے اس بیان کا خیرمقدم کیا کہ پاکستان اوربھارت  کے درمیان مذاکرات  ہی واحد راستہ ہے۔  ایک سوال پر ترجمان نے کہا بڑی  تعداد میں پاکستانی قیدی  بھارتی جیلوں میں موجود ہیں  ایک مقدمہ سزا مکمل ہونے کے بعد انہیں دوسرے مقدمے میں پھنسا دیا جاتا ہے۔  وزیر مملکت  برائے تجارت  خرم دستگیر  کی آئندہ ماہ  سارک کانفرنس کے موقع پر اپنے بھارتی  ہم منصب  سے ملاقات ہو گی۔  دونوں ہم منصب   اس روڈ میپ  کا جائزہ لیں گے جس پر دونوں ممالک کے تجارت کے سیکرٹریوں  نے ستمبر 2012ء میں اتفاق کیا تھا۔  علاوہ ازیں  پاکستان نے شمالی وزیرستان  ایجنسی میں امریکہ کے تازہ ڈرون حملہ کی شدید مذمت کی ہے۔   دفتر خارجہ  کے بیان میں کہا گیا ہے  ڈرون حملے  پاکستان کی خودمختاری  اور جغرافیائی  سالمیت  کے خلاف ہیں اور پاکستان بھر میں  یہ اتفاق رائے  پایا جاتا ہے ڈرون حملے بند ہونے چاہئیں۔  اے پی اے  کے مطابق ترجمان  دفتر خارجہ  تسنیم  اسلم  نے ہفتہ وار  بریفنگ  کے دوران کہا ڈرون   حملے دہشت گردی کے خاتمے  کے لئے غیر قانونی  طریقہ کار ہیں ان حملوں  میں دہشت گرد مارے جائیں تو  بھی  یہ طریقہ درست نہیں۔  اے پی پی کے مطابق پاکستان  نے کہا ہے ڈرون حملے  ممالک  کے درمیان باہمی تعلقات  کے فروغ میں خطرناک ثابت ہو رہے ہیں۔  ملک  اور خطہ  میں  امن و استحکام کے لئے حکومتی  کوششوں  پرمنفی  اثرات مرتب کر رہے ہیں۔  افغانستان سے غیر ملکی  افواج کی واپسی کے بعد امریکہ کے ساتھ تعلقات  پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں  نے کہا دونوں ممالک  کے درمیان تعلقات  متنوع  ہیں اور یہ صرف  ایک ایشو  تک  محدود نہیں۔  انہوں  نے کہا پاکستان  اور امریکہ  پہلے ہی دفاع،  معیشت، بجلی،  تعلیمی  شعبوں میں تعاون  میں  شامل ہیں۔  یہ تعاون  آئندہ بھی جاری رہے گا۔ انہوں  نے  کہا ہم  نہیں جانتے  افغانستان میں امریکہ  کی موجودگی کی کیا  شکل ہ گی   اوروہاں  کس  قسم کا تعاون ہو گا  اس کا انحصار  افغانستان  کے واقعات  اور  وہاں امریکہ کی ایسی کسی موجودگی پرہو گا۔