لاپتہ افراد کیس: آئی جی ایف سی بلوچستان سپریم کورٹ میں پیش‘ توہین عدالت کا نوٹس خارج

لاپتہ افراد کیس: آئی جی ایف سی بلوچستان سپریم کورٹ میں پیش‘ توہین عدالت کا نوٹس خارج

اسلام آباد (نوائے وقت نیوز + نیٹ نیوز + ایجنسیاں) لاپتہ افراد کیس میں آئی جی ایف سی میجر جنرل اعجاز شاہد عدالت میں پیش ہو گئے جس کے بعد سپریم کورٹ نے ان کے خلاف توہین عدالت کا نوٹس خارج کر دیا ہے۔ انہیں یہ نوٹس سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے پانچ دسمبر کو عدالت میں پیش نہ ہونے پر دیا تھا۔ میجر جنرل اعجاز شاہد ملکی تاریخ میں پہلے ٹوسٹار جنرل ہیں جنہیں سپریم کورٹ نے توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا تھا۔ فرنٹیئر کور کے سربراہ نے عدالت کو بتایا کہ بلوچستان سے ایسے شخص کو بازیاب کرایا گیا ہے جس کے بارے میں ایف سی پر الزام عائد کیا جا رہا تھا کہ اس کے اہلکار کوہ خان کے اغوا میں ملوث ہیں۔ جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے بلوچستان میں بدامنی اور صوبے سے جبری طور پر لاپتہ ہونے والے افراد سے متعلق مقدمات کی سماعت کی۔ میجر جنرل اعجاز شاہد کے وکیل عرفان قادر نے عدالت کو بتایا کہ ان کے مؤکل عدالت میں پیش ہو گئے ہیں جس پر بنچ کے سربراہ نے کہا کہ اس سے پہلے بھی عدالت نے آئی جی ایف سی کو متعدد بار پیش ہونے کو کہا تھا لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ عرفان قادر کا کہنا تھا کہ ان کے مؤکل بیمار تھے اس لئے وہ عدالت میں پیش نہیں ہو سکے لیکن اب صحت یاب ہونے کے بعد وہ عدالت میں پیش ہو گئے ہیں اس لئے اب انہیں دیا جانے والا توہین عدالت کا نوٹس واپس لیا جائے۔ عدالت نے اس سے اتفاق کرتے ہوئے میجر جنرل اعجاز شاہد کو دیا جانے والا توہین عدالت کا نوٹس خارج کر دیا۔ جسٹس ناصر الملک نے آئی جی ایف سی سے استفسار کیا کہ ان کے ادارے کے اہلکار لوگوں کو جبری طور پر لاپتہ کرنے کے واقعات میں ملوث ہیں ان کے سدباب کے لئے انہوں نے کیا کیا ہے؟ میجر جنرل اعجاز شاہد نے کہا کہ وہ اس داغ کو دھونے کی کوشش کر رہے ہیں، عدالتی حکم پر عملدرآمد یقینی بنائیں گے۔ پولیس نے ایک شخص کوہ خان کو بازیاب کیا ہے جس سے متعلق ایف سی پر الزام عائد کیا جا رہا تھا کہ اس کے اہلکار مذکورہ شخص کے اغوا میں ملوث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس شخص کی بازیابی کے بعد یہ ثابت ہو گیا ہے کہ ایف سی کے اہلکار لوگوں کو جبری طور پر گمشدہ کرنے کے واقعات میں ملوث نہیں۔ اس سے پہلے قائم مقام آئی جی ایف سی نے عدالت کو بتایا تھا کہ لوگوں کو جبری طور پر گمشدہ کرنے کے واقعات میں ایف سی کے چار اہلکاروں سے متعلق شبہ ہے کہ وہ ان واقعات میں ملوث ہیں، ان میں سے ایک اہل کار کی شناخت ہوئی ہے، تین افراد کو شناحت کے مراحل سے گزارا جا رہا ہے۔ قائم مقام آئی جی ایف سی کے مطابق باقی ماندہ افراد فوج میں واپس چلے گئے ہیں جن کی شناخت کے لئے وزارت دفاع کو لکھا گیا ہے تاہم ابھی تک وہاں سے جواب موصول نہیں ہوا۔ سپریم کورٹ نے میجر جنرل اعجاز شاہد سے کہا کہ دو ہفتوں میں لاپتہ افراد سے متعلق تحریری جواب عدالت میں جمع کرائیں۔ عدالت کا کہنا تھا کہ آئی جی ایف سی عدالت میں پیش ہو گئے ہیں لہٰذا اب توہین کا کیس نہیں بنتا۔ آئی جی ایف سی نے عدالت کو بتایا کہ ایف سی پر لوگوں کو اغوا کرنے کے الزامات ہیں، کوہ خان کا نام لاپتہ افراد میں شامل تھا جو پولیس نے کوئٹہ سے برآمد کر لیا ہے۔ ایف سی کے 6 اہلکاروں پر اسے اغوا کرنے کا الزام تھا، پولیس کے ہاتھوں بازیاب ہونے کے بعد یہ تاثر غلط ثابت ہو گیا کہ ایف سی بندوں کو اٹھاتی ہے۔ عدالت نے حکم دیا کہ جو بھی بتانا ہے وہ رپورٹ کی صورت میں عدالت کو پیش کیا جائے۔ میجر جنرل اعجاز  کا کہنا تھا کہ عدالتی عزت اور وقار کو ہمیشہ ملحوظ خاطر رکھا، کبھی توہین عدالت کا سوچا بھی نہیں۔ جس پر عدالت عظمیٰ نے توہین عدالت کا نوٹس خارج کر دیا۔ بلوچستان حکومت نے امن و امان اور ڈاکٹروں کو تحفظ دینے کی رپورٹ عدالت میں پیش کی۔ جسٹس ناصر الملک نے کہا کہ بلوچستان میں لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے صوبائی حکومت، ایف سی اور تمام متعلقہ اداروں کو مشترکہ کوشش کرنی چاہئے جس کے بعد کیس کی سماعت 15 جنوری تک ملتوی کر دی گئی۔