یہ ”سلوموشن سونامی“ ہے‘ عالمی برادری متاثرین کی مدد کے وعدوں کو جلد عملی شکل دے: صدر کا غیر ملکی سفیروں‘ ڈونرز سے خطاب

اسلام آباد (ایجنسیاں) صدر آصف علی زرداری نے عالمی برادری اور امدادی اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ سیلاب سے متاثرہ پاکستانی عوام کی مدد کیلئے کئے گئے وعدوں کو جلد عملی شکل دیں تاکہ ان لوگوں کی بحالی کی حکمت عملی بنائی جا سکے اور متاثرین اپنے گھروں کو جلد واپس جا سکیں۔ ملکی تاریخ کا بدترین سیلاب ایک سلو موشن سونامی ہے اور اس چیلنج سے نمٹنے کیلئے ہم عالمی برادری کے تعاون کو سراہتے ہیں۔ وہ ایوان صدر میں عالمی امدادی تنظیموں اور مختلف ممالک کے سفیروں سے خطاب کررہے تھے۔ اجلاس میں امریکہ ، برطانیہ ، جرمنی ، بیلجئم ، ترکی ، چین، ایران ، سعودی عرب ، کینیڈا ، یو اے ای کے سفارتکاروں کے علاوہ عالمی امدادی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی صدارتی ترجمان کے مطابق وفاقی وزراءشاہ محمود قریشی ، قمر الزمان کائرہ ، راجہ پرویز اشرف ،رحمان ملک ، بابر اعوان اور دیگر اعلیٰ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔ صدر نے کہا کہ ہمیں جامع حکمت عملی اور اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ جو بھاری نقصان ہوا ہے اس کا ازالہ ہوسکے اس کیلئے ضروری ہے کہ پاکستانی مصنوعات کو دنیا اپنی منڈیوں تک رسائی دے ترجیحی تجارت کی سہولیات دی جائیں ملک میں مزید سرمایہ کاری کی جائے معاشی ترقی کے زونز قائم کئے جائیں۔ ہمیں دہشتگردی کیخلاف جنگ کی وجہ سے بہت زیادہ نقصانات ہوئے سیلاب نے صورتحال کو اور زیادہ تباہ کن بنا دیا ہے صدر نے انکشاف کیا کہ بدترین سیلاب کے نقصانات اس سے کئی زیادہ ہیں جو رپورٹ ہورہے ہیںکوئی حکومت اکیلی متاثرین کی بحالی اور مدد کے بھاری ٹاسک کو پورا نہیں کرسکتی اس کیلئے ہمیں عالمی برادری کی حمایت اور کوششوں کی ضرورت ہے حکومت سختی سے کفایت شعاری کی پالیسی پر گامزن ہے ہم اپنے ترقیاتی اخراجات اور جاری اخراجات کو کم کررہے ہیں صدر نے ڈونرز کو یقین دلایا کہ وہ حکومت پر اعتماد اور یقین رکھیں کہ ان کے فنڈز شفاف طورپر استعمال ہونگے اور اس کا احتساب بھی ہوگا وہ امید کرتے ہیں کہ اس بار بھی قوم چیلنج پر قابو پالے گی جیسا کہ 2005ءکا زلزلہ کے دوران قابو پایا سفیروں اور ڈونرز تنظیموں کے نمائندوں نے ریلیف اور بحالی کی کوششوں کے حوالے سے اپنی تجاویز اور رائے بھی دیں اور اس بات پر زور دیا کہ وہ پاکستان کی مدد کو تیار ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت مستقبل میں ایسے چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے جامع منصوبہ بندی کرے اور اس حوالے سے اداروں کو بحال اور متحرک بنایا جائے۔ صدر زرداری سے بینظیر انکم سپورٹ کی چیئرپرسن فرزانہ راجہ نے صدر سے ملاقات کی چیئرمین نادرا ارشد حکیم بھی موجود تھے۔ صدر نے ان سے کہا کہ ملک بھر میں متاثرین سیلاب کی ہنگامی امداد کیلئے بے نظیر انکم سپورٹس پروگرام (بی آئی ایس پی) کی طرف سے کی جانے والی وفاقی وزیر و بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کی طرف سے کی جانے والی کاوشیں لائق تحسین ہیں۔ صدر نے توقع ظاہر کی کہ بی آئی ایس پی آئندہ بھی ملک کے غریب اور محروم طبقات کی مدد کیلئے اسی انتھک جذبے سے کوششیں جاری رکھے گا۔ صدر نے امدادی اقدامات سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ 60 لاکھ افراد بی آئی ایس پی سے رجسٹرڈ ہیں انہوں نے کہا کہ ہر رجسٹرڈ متاثرہ خاندان کو فی کس 12 ہزار روپے کی امداد فوری ضروریات کی تکمیل کیلئے مہیا کی جا رہی ہے اور یہ امداد تین ماہ کے عرصے میں چار ہزار روپے پر مشتمل تین مساوی اقساط میں دی جائے گی۔