متحدہ خود الطاف کے بیان کی تردید کرے گی‘ ہمیں عوام نے منتخب کیا‘ اعتراض کرنے والے رویہ بدلیں : وزیراعظم گیلانی

اسلام آباد (آئی این پی) وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ مارشل لاءسے متعلق ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے متنازعہ بیان پر ایم کیو ایم جلد وضاحت یا تردید کردےگی۔ پیپلز پارٹی اور حکومت کی دشمنی میں بعض عناصر اتنا آگے نہ نکل جائیں کہ عوام کو سزا ملے۔ عالمی برادری میرے لئے نہیں سیلاب متاثرین کیلئے امداد دے رہی ہے۔ 18ویں ترمیم کے تحت کابینہ کا سائز آئندہ سال کم کر دیا جائےگا۔ فلڈ کمشن سے متعلق میاں نوازشریف کی تجویز کو تسلیم کرنے سے اتحادی اور صوبے ناراض ہو جاتے۔ عدلیہ سے اچھے تعلقات ہیں۔ جمہوریت اور اداروں کو مضبوط بنایا جا رہا ہے۔ آئی این پی سے خصوصی انٹرویو کی مزید تفصیلات کے مطابق الطاف حسین کے متنازعہ بیان سے متعلق سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ ان کا یہ بیان مناسب نہیں تھا‘ ڈاکٹر فاروق ستار سے رابطہ ہوا ہے اور مجھے یقین دلایا گیا ہے کہ ایم کیو ایم الطاف حسین کے اس بیان کی وضاحت یا تردید خود جاری کرے گی۔ الطاف حسین کے بیان سے پاکستان کو نقصان ہوا اور فوج کے وقار کو بھی نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔ ایسے بیانات سے ملک کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ اب تک 774 ملین ڈالر امداد کے وعدے کئے گئے ہیں‘ حکومت پر اعتماد نہ کیا جاتا تو اتنی امداد نہ ملتی۔ غیر ملکی امداد جہاں خرچ ہوگی اس کا ریکارڈ حکومت کی ویب سائٹ پر جاری کیا جائے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ غیر ملکی این جی اوز امداد کا پچاس فیصد اپنی انتظامیہ پر خرچ کرتی ہیں اور باقی وہ متاثرین پر خرچ کرتی ہیں حکومت پر تنقید کرنے والے ان اداروں اور تنظیموں سے کیوں نہیں پوچھتے جو از خود چندہ جمع کر رہے ہیں کہ کس چندے کو کس طریقے سے خرچ کیا جارہا ہے۔ میاں نواز شریف کی تجویز کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا گیا۔ تجویز پر عمل درآمد کا ایک طریقہ کار ہے صوبوں نے اس تجویز کی تائید نہیں کی اور نہ ہی اتحادی جماعتوں نے حمایت کی۔ میرے لئے دو ہی آپشن تھے کہ اتحادیوں کو ناراض کرتا یا اپوزیشن کو۔ صوبوں کی طرف سے ناموں کا انتظار ہے جونہی یہ نام مل جائیں گے کونسل کی تشکیل کا اعلان کردیا جائےگا۔ وزیراعظم نے کہا کہ صوبہ خیبر پی کے نے بھی نوازشریف کی تجویز کی مخالفت کی ہے جس سے ہمارا موقف درست ثابت ہو گیا ہے۔ عالمی برادری کو پاکستان پر اعتماد ہے اور سعودی عرب سمیت تمام ممالک کھل کر امداد دے رہے ہیں حالانکہ بعض لوگوں کی یہ خواہش اور کوشش تھی کہ پاکستان کو بیرون ممالک سے امداد کم ملے تاکہ وہ سیاست کر سکیں اور یہ تاثر دیں کہ ان کی وجہ سے بیرونی دنیا نے امداد دینا شروع کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے تحت آئندہ سال کابینہ کا سائز کم کر دیا جائے گا۔ پہلے کہا جاتا تھا کہ معزول ججز بحال نہیں ہونگے میں نے انہیں بحال کیا پھر کہا گیا کہ 18ویں ترمیم کا پاس ہونا ناممکن ہے لیکن اﷲ کے فضل و کرم اور اپوزیشن جماعتوں کے تعاون سے 18ویں ترمیم متفقہ طور پر پارلیمنٹ سے پاس کی گئی جس کے ملکی سیاست اور جمہوریت پر مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ ایک مرحلے پر یہ بھی کہا گیا کہ این ایف سی ایوارڈ پر اتفاق نہیں ہو گا لیکن پیپلز پارٹی کی مفاہمت کی پالیسی کے نتیجے میں این ایف سی ایوارڈ کا نفاذ ہوا اگر حکومت کی ساکھ نہ ہوتی تو آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک پاکستان کو امداد نہ دیتے۔ سابق صدر پرویز مشرف کے دور حکومت میں یہ الزامات عائد کئے گئے تھے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لئے ملنے والی غیر ملکی امداد شفاف طریقے سے خرچ نہیں ہوئی‘ اربوں ڈالر کا کوئی حساب نہیں مل رہا لیکن موجودہ حکومت کے دور میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ سے ملنے والی امداد کے خرچ ہونے پر کوئی اعتراض سامنے آیا اور نہ ہی کرپشن کا الزام عائد ہوا ہے۔ مشرف کے جانے کے بعد پاک فوج کا وقار اور امیج بہتر ہوا اور پاک فوج نے جس انداز میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کامیابی سے لڑی‘ اب دیگر حکومتی اداروں کی طرح فوج سیلاب متاثرین کی بحالی اور انہیں محفوظ مقامات پر پہنچانے کیلئے بھرپور کردار ادا کر رہی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ میرا اسلام آباد میں کوئی گھر نہیں ہے میں جب وزیر اور سپیکر رہا تو سرکاری گھر میں قیام کرتا تھا یا پھر اڈیالہ جیل میں وقت گزرا ہے۔ میں ایک سیاستدان ہوں اور عوام کی خدمت پر یقین رکھتا ہوں۔ وفاق میں گڈ گورننس قائم کی گئی ہے کوئی سکینڈل نہیں بنا جبکہ پنجاب میں سیالکوٹ کا افسوسناک واقعہ گڈ گورننس کے دعوے کے حوالے سے ایک کھلی مثال موجود ہے۔ مہنگائی کی صورتحال کے حوالے سے سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ یوٹیلٹی سٹورز کی انتظامیہ نے رمضان پیکیج کے بعد جب قیمتوں میں اضافہ کیا تو میں نے فوری طور پر اس اضافے کو واپس کرایا لیکن میڈیا نے اس خبر کو زیادہ ہائی لائٹ نہیں کیا جب مہنگائی ہوتی ہے اس خبر کو زیادہ نمایاں طور پر شائع کیا جاتا ہے‘ حکومت مہنگائی کو کم کرنے کیلئے اقدامات کرتی ہے تو خبر کا نمایاں طور پر شائع نہ ہونا صحیح بات نہیں۔ یوٹیلیٹی سٹورز پر اربوں روپے کی سبسڈی دی گئی ہے‘ غریبوں کیلئے فائدہ کیا گیا ہے۔ ایک اور سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو عوام نے منتخب کیا ہے ہم پر اعتراض کرنے والے رویہ تبدیل کریں۔ پیپلز پارٹی اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر فیصلے کرتی ہے اور ہم افہام و تفہیم پر یقین رکھتے ہیں۔ حکومت میڈیا کی آزادی پر یقین رکھتی ہے اور میڈیا کی آزادی کیلئے میں نے خود جلوسوں میں شرکت کی ہے صحافیوں کے مسائل کے حل کیلئے حکومت عملی اقدامات کرےگی۔ گریڈ 21 سے 22 میں ترقی دینے کیلئے نئے رولز تیار کر لئے گئے ہیں اور اس سلسلے میں جلد حتمی فیصلے کئے جائیں گے۔