سیلاب متاثرین کے لئے ریلیف کیمپوں میں بدانتظامی بڑھ گئی، حق داروں کو امداد کے لئے پولیس کے ڈنڈے کھانے پڑرہے ہیں جبکہ امدادی سامان پر اہلکاروں کے من پسند لوگ قابض ہوگئے۔

سیلاب متاثرین کے لئے ریلیف کیمپوں میں بدانتظامی بڑھ گئی، حق داروں کو امداد کے لئے پولیس کے ڈنڈے کھانے پڑرہے ہیں جبکہ امدادی سامان پر اہلکاروں کے من پسند لوگ قابض ہوگئے۔

چارسدہ میں لگائے گئے ایک ریلیف کیمپ میں پولیس نے سیلاب سے متاثرہ عورتوں اور بچوں پر اس وقت لاٹھی چارج کردیا جب وہ امداد کے حصول کی کوشش کررہے تھے۔ لاٹھی چارج سے لوگ منتشر ہوئے تو ان کے زخم بھی ہرے ہوگئے۔ چاربچوں کی ماں شمشاد بیگم نے برطانوی خبررساں ادارے کو بتایا کہ ریلیف کیمپ میں متاثرین کے کیمپ میں حق داروں کوتو ڈنڈے مارے گئے تاہم جوحق دارنہیں تھے وہ امداد لے کر جارہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے بچے بھوک سے مررہے ہیں اور ہمیں کچھ نہیں مل رہا۔ پاکستان کی تاریخ کے بدترین سیلاب کی وجہ سے لاکھوں افراد متاثر ہوئے ہیں۔ صوبہ خیبر پختونخوا میں تقریباً ایک ماہ سے متاثرین کھلے آسمان تلے کھانے پینے کی اشیاء کو ترس رہے ہیں اور ان میں پیدا ہونے والا احساس محرومی شدت اختیارکررہا ہے۔ ریلیف کیمپوں میں غذائی اشیاء کی تقسیم کے ناقص نظام کی وجہ سے متاثرین کی مایوس میں مزید اضافہ ہوا ہے۔