بیرونی امداد سے پنجاب کا حصہ لینے کےلئے وفاق سے رابطہ کیا جائے گا : قومی کمشن بنانے میں تاخیر افسوسناک ہے : نواز شریف

لاہور (خبر نگار خصوصی) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نوازشریف نے پنجاب حکومت کو اپنی ترجیحات اور اقدامات کا محور متاثرین سیلاب کی بحالی کو بنانے اور اس کے لئے ممکنہ فنڈز کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ متاثرین سیلاب کی مدد و بحالی کا عمل دراصل حکومتوں کی قومی ذمہ داری ہے جس کے لئے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے۔ وہ ایوان وزیر اعلیٰ میں سیلاب سے پیدا شدہ صورتحال‘ بحالی کے عمل کے لئے اقدامات‘ خوراک و اشیائے ضروریات کی فراہمی کے عمل کے جائزہ اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ اجلاس میں وزیر اعلیٰ شہباز شریف سمیت متعدد پارٹی ذمہ داران‘ ارکان اسمبلی‘ حکام نے شرکت کی۔ مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو حکومتی ذمہ دارانہ اور محکمانہ حکام نے بریفنگ کے ذریعہ متاثرہ علاقوں میں ہونے والے اقدامات اور بحالی کے عمل سے آگاہ کیا جس پر مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے انہیں اس حوالہ سے متعدد تجاویز دیں۔ شہباز شریف نے بتایا کہ امدادی کیمپوں کے ساتھ ساتھ پانی کے باعث گھروں میں محصور متاثرہ افراد کو خوراک کی فراہمی کے عمل میں وہ خود شریک ہیں۔ حکومت اپنے وسائل کے مطابق امداد کر رہی ہے لیکن وفاقی حکومت سے انہیں کوئی مدد نہیں ملی جس پر نوازشریف نے کہا کہ امدادوں کو بنیاد بناتے ہوئے متاثرین کو حالات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑنا چاہئے‘ اپنا پیٹ کاٹیں انتظامی اخراجات کم کریں اور متاثرین کی مدد کریں۔ نجی ٹی وی اور ایجنسیوں کے مطابق نوازشریف نے کہا کہ فلڈ ریلیف کمشن کے حوالے سے مشورہ نیک نیتی پر مبنی تھا اس پر عملدرآمد میں تاخیر افسوسناک ہے‘ آنے والے وقت میں حکومت کو مشکلات کی صورت میں خمیازہ بھگتنا پڑے گا‘ جمہوریت قربانیوں کے بعد ملی‘ مارشل لا لگوانے کی خواہش پوری نہیں ہو گی‘ قوم کے ساتھ مل کر جمہوریت کا تحفظ کریں گے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد نوازشریف‘ وزیر اعلیٰ شہباز شریف اور دیگر ارکان قومی و صوبائی اسمبلی عید سیلاب زدگان کے ساتھ منائیں گے۔ بیرون ملک سے ملنے والی امداد سے پنجاب کے حصے کے حصول کے لئے وفاق سے رابطہ کیا جائے گا۔ رواں سال میں سوا ارب روپے کی ضرورت ہے۔ سیلاب متاثرین کی مدد کے لئے حکومت پنجاب اور فوجی جوانوں کی کارروائیاں قابل تحسین ہیں‘ سیلاب متاثرین کے لئے اکٹھا ہونے والا ایک ایک پیسہ قوم کی امانت ہے اسے سےلاب متاثرین پر خرچ کیا جائے گا۔ امداد کے لئے تمام وسائل استعمال کئے جائیں گے‘ سیلاب متاثرین کی بحالی تک کوئی مسلم لیگی چین سے نہیں بیٹھے گا‘ عالمی برادری کو مشکل کی اس گھڑی میں امدادی کارروائیوں میں ہاتھا بٹانا ہو گا۔ وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے بریفنگ میں بتایا کہ پنجاب کے 12 اضلاع میں 82 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے‘ 5 لاکھ گھروں کو نقصان پہنچا‘ 35 لاکھ ایکڑ اراضی تباہ ہوئی‘ وبائی امراض پر قابو پانے کے لئے تمام اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ انوہں نے کہا کہ ہمارے لئے سب سے بڑا چیلنج لوگوں کو گھروں میں آباد کرنا ہے۔ پنجاب کے وہ عوام جو اپنے گھروں میں محفو ہیں ان کا فرض ہے کہ وہ اپنے سیلاب سے متاثرہ بھائیوں کی آبادکاری اور انہیں اپنے پاوں پر کھڑا کرنے کے لئے آگے بڑھیں اور اپنا تن من دھن ان پر قربان کر دیں۔ انہوں نے پنجاب حکومت کو ہدایت کی کہ وہ ایسے منصوبے بنائے جن کے ذریعے نہ صرف متاثرین سیلاب اپنے گھر دوبارہ تعمیر کر سکیں بلکہ وہ ز ندگی کی طرف سے بھی لوٹ سکیں اور انہیں وہاں کاروبار بھی میسر آ سکے۔ اجلاس فطاری سے 20 منٹ پہلے ختم کر دیا گیا اور شرکا کی افطاری کے لئے اپنے گھروں کو دوڑیں لگ گئیں۔ اطلاعات کے مطابق مشاورتی اجلاس میں حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ (ن) لیگ کے بعض سینئر رہنماوں نے اجلاس میں یہ رائے دی کہ وفاقی حکومت کی ہر سطح پر مخالفت کی جائے اور حکومت کو کسی قسم کا مارجن نہ دیا جائے۔ راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے سینئر رہنما نے اجلاس میں کہا کہ (ن) لیگ کے لچک دار رویے کی وجہ سے پارٹی عوام میں غیر مقبول ہو رہی ہے اس لئے پارٹی کو عوام کے مسائل کے حوالے سے حکومت کو ٹف ٹائم دینا چاہئے۔ سیالکوٹ سے (ن) لیگ کے رہنما نے پارٹی قیادت کو موجودہ پالیسی تبدیل کرنے کے لئے کہا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم گیلانی اور صدر زرداری دونوں اندر سے ایک ہیں۔ گیلانی کمزور وزیراعظم ہیں جن کی باگیں زرداری کے پاس ہیں۔ وزیراعظم گیلانی سے کوئی اچھی توقع نہیں رکھنی چاہئے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں تجویز دی گئی کہ حکومت سے ہٹ کر مسلم لیگ (ن) فلڈ ریلیف‘ قومی کمشن ضرور تشکیل دیا جانا چاہئے‘ نوازشریف کو اس کمشن کے ارکان کے ساتھ پاکستان بھر میں فنڈ ریزنگ مہم کا آغاز جلد از جلد کر دینا چاہئے۔ متاثرین سیلاب کی بحالی کے ضمن میں نوازشریف کی صدارت میں ہونے والے اجلاس کا سلسلہ آج بھی جاری رہے گا۔ نوازشریف کو مختلف محکموں کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں کئے جانے والے اقدامات متاثرین کی امداد کے ضمن میں بریفنگ دی جائے گی۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ شہباز شریف‘ پارٹی رہنما اور سرکاری حکام بھی شریک ہوں گے۔