اکبر بگٹی کی چوتھی برسی، بلوچستان میں پہیہ جام ہڑتال، بم دھماکوں میں بچہ جاں بحق

کوئٹہ + لاہور (ایجنسیاں + خصوصی رپورٹر) نواب اکبر بگٹی کی چوتھی برسی منائی گئی، کوئٹہ سمیت بلوچ کے اکثر شہروں مےں پہیہ جام ہڑتال کی گئی۔ پنجگور، خضدار، کوہلو، کوئٹہ اور ورثک مےں بم دھماکوں اور راکٹ حملوں مےں بچہ جاں بحق 3خواتین سمیت 7 افراد زخمی ہوگئے۔ طلال بگٹی، جمیل بگٹی نے کہا کہ خفیہ قوتیں پاکستان توڑنا چاہتی ہےں جان دے کر ملک کی حفاظت کرینگے۔ اکبر بگٹی کے قتل کی ایف آئی آر مےں نامزد ملزموں کو گرفتار کرائے گی۔ انہوں نے کہا کہ مشرف سمیت دیگر ملزموں کو گرفتار کیا جائے۔ تفصیلات کے مطابق کوئٹہ میں اہم کاروباری مراکز بند رہے، ٹریفک بھی معمول سے کم رہی۔ وکلاءنے یوم سیاہ منایا اور عدالتوں کا بائیکاٹ کیا۔ اس موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ نواب اکبر بگٹی کی چوتھی برسی کے موقع پر قلات، نوشکی، آواران، مستونگ، خضدار، خاران، بولان، حب، تربت، پنجگور اور گوادر میں بھی شٹرڈاون اور پہیہ جام کی ہڑتال کی گئی ہے۔ لاہور میں برسی کی تقریب کا اہتمام جمہوری وطن پارٹی لاہور کے صدر زاہد چودھری نے کیا۔ چودھری ارشد سلیم، مدنی بلوچ، ثمن باجوہ اور زاہد چودھری نے اکبر بگٹی نے کہا کہ مشرف کو بگٹی کی موت کے مقدمے میں گرفتار کیا جائے۔ متحدہ کے قائد الطاف حسین نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ نواب اکبر خان بگٹی کے قاتلوں کو گرفتار کیا جائے۔