کنٹونمنٹ بورڈز الیکشن کیس : سیکرٹری دفاع پر توہین عدالت کی فرد جرم 4 نومبر کو عائد ہو گی : سپریم کورٹ

کنٹونمنٹ بورڈز الیکشن کیس : سیکرٹری دفاع پر توہین عدالت کی فرد جرم 4 نومبر کو عائد ہو گی : سپریم کورٹ

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت+ نوائے وقت رپورٹ+ اے پی پی) کنٹونمنٹ بورڈز میں انتخابات نہ کرانے پر سپریم کورٹ نے توہین عدالت کیس میں سیکرٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل (ر) آصف یاسین پر 4 نومبر کو فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کیا، چیف جسٹس نے جواب کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ چیف جسٹس نے کہاکہ کیا وزیراعظم کو بلا کر کہیں کہ وہ چھاو¿نیوں میں انتخابات کرائیں، کیوں نہ کنٹونمنٹ بورڈ کے بجٹ کے استعمال پر پابندی لگادی جائے۔ عدالت کے احکامات مذاق نہیں کسی کو عدالتی احکامات ہوا میں اڑانے کی اجازت نہیں دیں گے۔چیف جسٹس نے انتخابی شیڈول جمع نہ کرانے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وکیل صفائی کی معافی کی استدعا بھی مسترد کردی۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت سیکرٹری دفاع کے وکیل افتخار گیلانی نے جواب پیش کیا۔ چیف جسٹس نے انتخابی شیڈول جمع نہ کرانے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے جواب ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہاکہ انتخابات کرانا عدالتی حکم ہے، مذاق نہیں، 14 سال سے کنٹونمنٹ بورڈز میں انتخابات نہیں کرائے گئے، کیوں نہ کنٹونمنٹ بورڈ کے بجٹ کے استعمال پر حکم امتناع جاری کر دیں۔ اٹارنی جنرل منیر اے ملک نے کہا کہ انتخابی قوانین میں ترامیم ہو رہی ہیں، مزید وقت دیا جائے، افتخار گیلانی نے کہا کہ ان کے مو¿کل انتخابات کرانے کیلئے 2 سے 3 مرتبہ حکومت کو لکھ چکے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا یہ بات چھپا کر سیکرٹری دفاع نے عدالت کو گمراہ کیا، افتخار گیلانی نے کہا کہ اس معاملے کو یہیں رہنے دیں وہ انتخابات کرا لیں گے۔ افتخار گیلانی نے کہا کہ عدالت نے عمران خان کے معاملے میں درگزر کیا اس معاملے میں بھی معافی دیدیں، چیف جسٹس نے کہا کہ حکم نہ ماننا اور عدالت تضحیک کرنا الگ الگ معاملات ہیں۔ عمران خان کو صرف وضاحت کا کہا گیا تھا،آپ کو توہین عدالت کا نوٹس ملا ہوا ہے۔سیکرٹری دفاع کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ان کے خلاف توہین عدالت لگا دی گئی تو یہ ناخوشگوار ہو گا۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا ملک میں آئین اور قانون کی بالادستی خوشگوار ہو گی۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا یہ عدلیہ کی تضحیک نہیں عدالتی حکم کی خلاف ورزی کا معاملہ ہے۔ اے پی پی کے مطابق سیکرٹری دفاع کے وکیل افتخار گیلانی نے موقف اپنایا کنٹونمنٹ بورڈز میں انتخابات نہ کرانے کے بارے میں ہزاروں وضاحتیں ہیں مگر ہم وضاحتیں دینا نہیں چاہتے، انتخابات کا فیصلہ حکومت کوکرنا ہوتا ہے لیکن کچھ ایسے کئی معاملات ہیں جن کی وجہ سے انتخابات نہیں کرائے گئے۔ چیف جسٹس نے کہا آپ کی وضاحت قبول نہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھاکہ سماعت شروع ہونے سے پہلے سیکرٹری دفاع الیکشن کرانے کا اعلان کرتے لیکن بات وہیں پر ہے جہاں 14 سال پہلے تھی۔ سیکرٹری دفاع نے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی ہے اس لئے ان کو اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔ افتخار گیلانی نے کہا کہ ان کے موکل انتخابات کرانے کیلئے باربار حکومت کو لکھ چکے ہیں اس لیے وہ کہتے ہیں کہ الیکشن کے معاملے میں کئی مسائل درپیش ہیں اور کئی وضاحتیں ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ بات چھپا کر سیکرٹری دفاع نے عدالت کو گمراہ کیا ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ وزیراعظم نے اس معاملے پرکمیٹی بنائی ہے جو جلد رپورٹ پیش کرے گی، اس وقت تک سماعت ملتوی کی جائے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر مزید وقت دیا بھی جائے تب بھی انتخابات نہیں ہوں گے۔ عدالت4 نومبر کو سیکرٹری دفاع کیخلاف فرد جرم عائد کرے گی۔ بعدازاں سماعت ملتوی کردی گئی۔ دریں اثناءنجی ٹی وی کے مطابق سپریم کورٹ نے بلدیاتی الیکشن کے حوالے سے سیکرٹری دفاع کیخلاف توہین عدالت کیس کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سیکرٹری دفاع کیخلاف 4 نومبر کو فرد جرم عائد کی جائے گی۔بی بی سی کے مطابق آصف یاسین ملک کے وکیل افتخار گیلانی نے عدالت کو بتایا کہ وزیرِ دفاع کا عہدہ وزیر اعظم نے اپنے پاس رکھا ہوا ہے جب کہ ا±ن کے موکل نے وزیر اعظم کو متعدد بار کنٹونمنٹ بورڈ میں انتخابات کروانے سے متعلق سمری بھجوائی ہے۔ اس پر چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا اب عدالت وزیر اعظم کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرے؟ ا±نہوں نے سیکریٹری دفاع کے وکیل سے کہا کہ کارروائی چلنے دیں پھر دیکھتے ہیں کہ انتخابات کرانے میں کون رکاوٹ ڈال رہا ہے۔