معیشت کی بحالی کیلئے 7 نکاتی فارمولا پیش‘ کالا باغ ڈیم پر اتفاق رائے پیدا کیا جائے : عمران

معیشت کی بحالی کیلئے 7 نکاتی فارمولا پیش‘ کالا باغ ڈیم پر اتفاق رائے پیدا کیا جائے : عمران

اسلام آباد (این این آئی) تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے مسلم لیگ کی حکومت کو معاشی مسائل سے نمٹنے کیلئے سات نکاتی ایجنڈا پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت سیاسی جماعت کے طور پر کارکردگی دکھانے کی بجائے امراءکے ایک کلب کے طور پر عوام کے سامنے بے نقاب ہو رہی ہے۔ بجلی کی قیمتوں میں حالیہ اضافے اورجنرل سیلز ٹیکس کے نفاذ کے فیصلے فوری طورپر واپس لئے جائیں۔ وقت آگیا ہے کہ عوام پر بوجھ ڈالنے کے بجائے ان لوگوں سے ٹیکس اکٹھا کیا جائے جو دیتے نہیں اوربادشاہوں کی طرح زندگی گزار رہے ہیں۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف تبدیل کیا جائیگا تاکہ حقیقی اپوزیشن لیڈر سامنے آئے، عوام کے ٹیکس پر حکمران اپنے رشتہ داروں کو غیرملکی دوروں پر لے کر جا رہے ہیں۔ ملک میں تباہی مچی ہے، نوازشریف باہرگھوم رہے ہیں۔ چیئرمین نیب پرمک مکا کیاگیا ہے آصف علی زرداری سب کیسز سے بری ہوجائیں گے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے حکومت کی معاشی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور مطالبہ کیا کہ حکومت غریب عوام کیلئے شدید اذیت کا باعث بننے والی بجلی کی قیمتوں میں حالیہ اضافے اور جنرل سیلز ٹیکس کے نفاذ کے فیصلے فوری طورپر واپس لینے کا اعلان کرے۔ انہوں نے کہاکہ سب سے پہلے ایسے افراد یا ادارے جو ٹیکس کی ادائیگی سے مسلسل گریزاں ہیںکو محصولات کے دائرے میں لانے کا انتظام کیا جائے ایف بی آر تیس لاکھ ایسے افراد کی نشاندہی کرچکی ہے جنہیں ٹیکس ادا کرنا چاہئے مگر وہ مسلسل محصولات کی ادائیگی سے گریزاں ہیں۔ ان افراد کو ٹیکس کے دائرے میں لاکر فوری طورپر قومی خزانے میں 300 ارب روپے کی رقم جمع کی جاسکتی ہے۔ اسی طرح ملک میں سیلز ٹیکس میں تقریباً 35 فیصد چھوٹ دی جارہی ہے جس کے خاتمے سے 250 ارب مزید حاصل کرنا ممکن ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ ایسے شعبہ جات جنہیں ٹیکس سے استثنیٰ حاصل ہے جن میںزراعت اورپراپرٹی شامل ہیں، کو محصولات کے دائرہ کار میں لایا جائے۔ ایگریکلچرل ہولڈنگز پرمتوازی شرح کے ٹیکس کی نفاذ کی بجائے زرعی پیداوار پرمناسب ٹیکس لگایاجائے، اسکے ساتھ پراپرٹی اورسٹاک مارکیٹ پرکیپٹل گین ٹیکس نافذ کیاجائے جس کیلئے وفاقی حکومت اقدامات اٹھا سکتی ہے، اس سے محصولات کادائرہ کار بھی بڑھے گا جس میں کمی کی بجائے مسلسل اضافہ بھی متوقع ہوگا۔ ملک میں امراءکو محصولات کے باب میں بہت سے قانونی استثنیٰ حاصل ہیں جبکہ متوسط طبقہ اورغریب عوام بالواسطہ محصولات کاسارا بوجھ برداشت کرنے پرمجبور ہیں چنانچہ اس ظالمانہ روایت کا فوری خاتمہ یقینی بنایاجائے۔ عمران خان نے کہاکہ بجلی اورگیس کی چوری کو بالکل ختم کیا جائے۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما میاں نوازشریف انتخابی مہم کے دوران علی الاعلان اس بات کا پرچار کرتے رہے ہیں کہ ملک میں 300 ارب روپے کی بجلی چوری کی جاتی ہے جبکہ 600 ارب روپے کا ٹیکس نادہندگان کی جیبوں کی نذر ہوتا ہے چنانچہ بجلی کی قیمتوں میں ظالمانہ اضافے سے 150 ارب کی وصولی کی بجائے بجلی اورٹیکس چوری کے تدارک سے 900 ارب کا قومی خزانے کیلئے حصول عوام کو تکالیف میں مبتلا کرنے سے کہیں بہتر ہے۔ انہوں نے کہاکہ بیرون ملک سے قوم کی لوٹی ہوئی دولت واپس لانے کا انتظام کیا جائے۔ انہو ں نے کہاکہ کالے دھن کو سفید کرنے کی تمام سکیمیں فوری طورپر ختم کی جائیں۔ عمران خان نے کہاکہ ایف بی آر کوخود مختاری دینے سمیت اسکے پورے ڈھانچے کی بہتری کیلئے اصلاحات متعارف کروائی جائیں۔ انہوں نے کہا بچت کی حکمت عملی فوری طور پر نافذ کی جائے اور ملک میں موجود تمام گورنرہاﺅسز کو قومی عمارتوں میں تبدیل کرنے اور انکے باغات کو عوامی پارکس میں منتقل کرنے کا بندوبست کیا جائے، چاروں صوبوں میں ضرورت خصوصاً سکیورٹی کے پیش نظر وزیراعلیٰ ہاﺅسز تعمیر کئے جائیں اور انکے اخراجات میں کمی کرکے عوام کو پوری طرح ان سے آگاہ کیا جائے۔ ذاتی رہائشگاہوں کو وزیراعلیٰ ہاﺅس قراردینے کی روایت کابھی فوری خاتمہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پی کے، کے گورنر ہاﺅس کو خواتین کیلئے پارک بنایا جائیگا۔ وزیراعلیٰ پنجاب اپنی انتخابی مہم میں کہاکرتے تھے کہ قیمتیں نہیں بڑھائیں گے، 9 سو ارب کی چوری روکیں گے الیکشن گزر گئے وہ کیوں نہیں روکی گئی اب چوری کی قیمت عوام ادا کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری کے 6 ارب واپس کیوں نہیں لیکرآئے اب توانہیں استثنیٰ بھی حاصل نہیں اسی لئے چیئرمین نیب پر مک مکا ہوا اورآصف علی زرداری سب کیسز سے بری ہوجائیں گے ہم کوشش کریں گے کہ قائد حزب اختلاف کو تبدیل کریں، اگر تبدیل نہ ہوا تو یہ نورا کشتی شروع ہوجائیگی۔ تحریک انصاف اسمبلی میں سادگی کے حوالے سے ایک بل لائیگی۔ انہوں نے کہاکہ حالات جس طرف جارہے ہیں عوام مجبور ہوکرسڑکوں پر آئیگی۔اے این این کے مطابق عمران خان نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف تبدیل کیا جائیگا، اس سلسلے میں آج (ہفتہ کو) اہم اجلاس ہوگا۔ مہنگائی نے عوام کا بھرکس نکال دیا۔ کالا باغ ڈیم کا مسئلہ سیاسی ہوگیا، اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کی جائے سندھ اور خیبر پی کے کے تحفظات دور کئے جائیں، پہلی دفعہ قوم کو پتہ چلا کہ ڈرون حملے ملی بھگت سے ہو رہے اور اس پر (آج) ایک فلم بھی منظرعام پر آرہی ہے۔ عمران خان نے کہا کہ تحریک انصاف یکم نومبر کو ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف احتجاج کا آغاز کریگی۔
عمران خان