شکیل آفریدی کے کیس کا فیصلہ عدالت کرے گی‘ طالبان سے مذاکرات کیلئے کسی سے اجازت کی ضرورت نہیں : پاکستان

شکیل آفریدی کے کیس کا فیصلہ عدالت کرے گی‘ طالبان سے مذاکرات کیلئے کسی سے اجازت کی ضرورت نہیں : پاکستان

اسلام آباد (ایجنسیاں) پاکستان نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ شکیل آفریدی نے پاکستانی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے، فیصلہ عدالت ہی کرےگی، حکومت اس میں مداخلت نہیں کریگی۔ شکیل آفریدی اور ڈاکٹر عافیہ کے معاملے کو ایک دوسرے سے نہیں جوڑا جاسکتا، وزیر اعظم نوازشریف کا دورہ کامیاب رہا، بھارت کیساتھ اچھے تعلقات کے حوالے سے پاکستان کی پوزیشن واضح ہے۔ ممبئی حملوں کے حوالے سے بھارت سے مزید ثبوت چاہئیں، پاکستان ایران گیس پائپ لائن معاہدے پر نوازشریف اور امریکی صدر کے درمیان بات ہوئی، پاکستان منصوبے پر عمل پیرا ہے اور رہے گا، دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پاکستان اور بھارت کو مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔ ہفتہ وار بریفنگ میں دفتر خارجہ کے ترجمان اعزاز احمد چودھری نے کہاکہ وزیراعظم کے دورہ امریکہ کے دوران تمام اہم ایشوز پر بات کی گئی۔ انہوں نے ڈرون حملوں کا معاملہ موثر انداز سے اٹھایا۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات کے حوالے سے پاکستان کی پوزیشن واضح ہے اور وزیر اعظم نے بھی اپنے دورے سے بھارت کو مثبت جواب بھیجا ہے۔ ممبئی حملوں کے حوالے سے بھارت سے مزید ثبوت چاہئیں۔ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پاکستان اور بھارت کو مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی، پاکستان، بھارت کے ساتھ تمام مسائل کا حل بات چیت اور مذاکرات سے چاہتا ہے۔ پاکستان ایران گیس پائپ لائن معاہدے پر نوازشریف اور امریکی صدر کے درمیان بات ہوئی، پاکستان منصوبے پر عمل پیرا ہے اور رہے گا۔ واضح رہے ایک انٹرویو میں انہوںنے کہا نوازشریف حکومت کا ڈرون حملوں پر موقف بہت واضح ہے، ماضی کا کوئی معاہدہ اب قابلِ عمل نہیں رہا۔ پریس بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ اعزاز احمد چودھری نے کہا وزیراعظم کے ڈرون حملوں سمیت تجارت، توانائی اور دیگر سوشل سیکٹرز کی ڈیویلپمنٹ کے حوالے سے مذاکرات کامیاب رہے، ڈرون حملوں کے حوالے سے امریکہ پر دبا¶ مزید بڑھ گیا ہے، شکیل آفریدی کا معاملہ عدالت میں ہے، حکومت کسی صورت مداخلت نہیں کریگی، پاکستان نے بھارت کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کیلئے ہمیشہ پہلے قدم بڑھایا ہے، وزیر اعظم کے دورہ امریکہ کے دوران بھارت نے 27 مختلف مقامات پر سرحدی خلاف ورزیاں کیں جو دونوں ممالک کے درمیان معاہدے کی خلاف ورزی ہے، طالبان کے ساتھ مذاکرات کا فیصلہ پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے، کسی ملک سے اجازت کی ضرورت نہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں اتار چڑھا¶ آتا رہتا ہے۔ صدر باراک اوباما کے ساتھ ملاقات میں ڈرون حملوں، دہشت گردی اور پاکستان امریکہ تعلقات کے حوالے سے کھل کر بات چیت کی گئی۔ سابق دور حکومتوں میں اگر کوئی ڈرون حملوں کے حوالے سے سمجھوتہ ہوا تھا تو موجودہ حکومت کا ڈرون حملوں کے حوالے سے موقف واضح ہے۔ ڈرون حملوں کے حوالے سے امریکہ پر بین الاقوامی ہیومن رائٹس کی تنظیموں کا بھی شدید دبا¶ ہے۔ وزیراعظم نے بھی ڈرون حملے روکنے پر بات چیت کی ہے۔ ترجمان وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم نے دورہ امریکہ میں پاکستان اور امریکہ کے دوران تجارت، توانائی سمیت سوشل سیکٹرز کی ڈویلپمنٹ کے حوالے سے بات چیت کی گئی ہے۔ تجارت کو بڑھانے کیلئے دونوں ممالک کے سرمایہ کاروں کے درمیان رابطوں کو بہتر بنانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ پاکستان توانائی کے بحران کا شکار ہے۔ وزیر اعظم نے امریکی توانائی کے شعبوں کے سربراہاں کے ساتھ توانائی کے بحران پر قابو پانے پر بھی بات چیت کی ہے۔ آئندہ ماہ امریکی توانائی کے شعبوں کے اہلکار پاکستان کا دورہ کریں گے۔ امریکہ پاکستان کے سوشل سیکٹر میں ڈیویلپمنٹ کا خواہشمند ہے، جلد ہی دونوں ممالک کے درمیان باضابطہ مذاکرات کا آغاز کردیا جائیگا۔ وزیراعظم کے دورہ امریکہ کے دوران شکیل آفریدی کی رہائی پر بھی بات چیت ہوئی مگر وزیر اعظم نے واضح طور پر کہا ہے کہ شکیل آفریدی پاکستان کا قومی مجرم ہے اور عدالتوں میں کیس چل رہا ہے۔ حکومت کسی صورت اس میں مداخلت نہیں کریگی۔ ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان باضابطہ معاہدہ نہیں لیکن مجرموں کے تبادلے کے حوالے سے جلد بات چیت ہوگی۔ پاکستان نے ہمیشہ بھارت کیساتھ بہتر تعلقات کیلئے کوششیں کی ہیں اور تعلقات کی بہتری کیلئے پہلے قدم بڑھایا ہے، لیکن بھارت نے اسکا مثبت جواب نہیں دیا۔ پاکستان نے ہمیشہ پاکستان، بھارت بارڈر کے حوالے سے معاہدے کی پابندی کی ہے۔ بھارتی خلاف ورزیوں کے باوجود وزیراعظم نوازشریف بھارت کے ساتھ مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے خواہشمند ہیں اور پاکستان کی خواہش ہے کہ پاکستان اور بھارت کے ڈی جی ایم او جلد ملاقات کریں۔ انہو ںنے کہا کہ دہشت گردی کے حوالے سے بھی امریکی حکام کیساتھ بات چیت کی گئی ہے۔ خطے میں دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پاکستان اور بھارت کو ملکر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ طالبان کے ساتھ مذاکرات پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے کسی ملک کی مداخلت برداشت نہیں کی جائیگی۔ پاکستان، افغانستان کے استحکام کیلئے اپنا کر دار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ دورہ امریکہ کے دوران پاک ایران گیس پائپ لائن کا مسئلہ بھی زیربحث آیا۔ پاکستان توانائی کے بحران کا شکار ہے اور توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے کسی بھی ملک سے معاہدہ کر نے میں آزاد ہے، جلد ہی پاکستان اور ایران کے درمیان گیس پائپ لائن کے حوالے سے بات چیت شروع کی جائیگی۔
ترجمان دفتر خارجہ