شکیل آفریدی کیس : القاعدہ کی موجودگی پاکستان سے تمام معاملات مکمل طور پر سیدھے نہیں : امریکہ

شکیل آفریدی کیس : القاعدہ کی موجودگی پاکستان سے تمام معاملات مکمل طور پر سیدھے نہیں : امریکہ

واشنگٹن (نمائندہ خصوصی + اے پی اے + آئی این پی) امریکہ نے کہا ہے کہ صدر اوباما اور وزیر اعظم نوازشریف کے درمیان ملاقات کامیاب رہی، دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مثبت انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں، پاکستان کی دہشت گردی کےخلاف قربانیاں قابل تحسین ہیں، امریکہ افغانستان کے بہتر مستقبل کیلئے پاکستان کی کوششوں کو سراہتا ہے، شکیل آفریدی بے گناہ ہیں انہیں فوری رہا کیا جانا چاہئے، اسامہ بن لادن کےخلاف کیا جانیوالا آپریشن پاکستان اور امریکہ دونوں کے مفاد میں تھا۔ امریکی محکمہ خارجہ کی نائب ترجمان میریف وہارف نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات میں بہتری آرہی ہے، وزیراعظم کے حالیہ دورہ امریکہ سے دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت کو توانائی، تجارت، اقتصادی ترقی، خطے کے استحکام اور دہشت گردی جیسے مسائل پر قابو پانے کیلئے ایک دوسرے کے نقطہ نظر کو قریب سے جاننے کا موقع ملا۔ پاکستان اور امریکہ کے درمیان قریبی تعلقات موجود ہیں، ہمیں خوشی ہے کہ یہ تعلقات مثبت انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں، امریکہ دہشت گردی سمیت دوسرے تمام مسائل پر پاکستان کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔ پاکستان اور امریکہ کے درمیان موجود تمام معاملات مکمل طور پر سیدھے نہیں جیسے کہ پاکستان ڈاکٹر شکیل آفریدی کو سزا دینا چاہتا ہے جبکہ امریکہ شکیل آفریدی کی رہائی کا خواہاں ہے یہاں تک کہ صدر اوباما نے وزیراعظم نوازشریف سے اس معاملے پر گفتگو بھی کی اور واضح کیا کہ شکپل آفریدی بے گاہ ہے اسے فوری رہا کرنا چاہئے۔ دوسرا مسئلہ القاعدہ کی پاکستان میں موجودگی کے بارے میں ہے یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے لڑکیوں کی تعلیم کیلئے آواز بلند کرنیوالی ملالہ یوسف زئی پر حملہ کیا۔ کیا پاکستان القاعدہ سے مکمل طور پر پاک ہے؟ ایسا بالکل نہیں اکثر لوگ یہاں تک کہتے ہیں کہ طالبان کا وجود ریاست کے اندر ایک اور ریاست کی موجودگی کے مترادف ہے۔ پاکستان کی دہشت گردی کےخلاف قربانیاں قابل تحسین ہیں۔گذشتہ دس سال کے دوران پاکستان کے 40 ہزار شہری دہشت گردوں کے ہاتھوں مارے گئے ۔ مستقبل میں افغانستان کے معاملات میں بھارت کے کردار کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ افغانستان کے ہمسایہ ممالک کو امن و امان کے قیام اور مستحکم افغانستان کے قیام کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ امریکہ افغانستان کے بہتر مستقبل کے لئے پاکستان کی کوششوں کو سراہتا ہے۔ امید ہے پاکستان آئندہ بھی اس معاملے میں کلیدی کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات مثبت انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں، امریکہ افغانستان کے بہتر مستقبل کے لئے پاکستان کی کوششوں کو سراہتا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات میں بہتری آرہی ہے، وزیراعظم کے حالیہ دورہ امریکہ سے دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت کو توانائی، تجارت، اکنامک ڈویلپمنٹ، خطے کے استحکام اور دہشت گردی جیسے مسائل پر قابو پانے کے لئے ایک دوسرے کے نقطہ نظر کو قریب سے جاننے کا موقع ملا۔ پاکستان اور امریکہ کے درمیان قریبی تعلقات موجود ہیں۔ امریکہ دہشت گردی سمیت دوسرے تمام مسائل پر پاکستان کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔ دوسری جانب وائٹ ہا¶س کے ترجمان جے کارنی نے نوازشریف اور صدر اوباما کے درمیان ملاقات کو نتیجہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا بعض معاملات پر اختلافات کے باوجود پاکستان امریکہ تعلقات میں مثبت پیشرفت جاری ہے۔ یہ ملاقات نتیجہ خیز ثابت ہوئی، پاکستان کے ساتھ ہمارے تعلقات میں مثبت پیشرفت ہورہی ہے۔ ملاقات نے دونوں ملکوں کے رہنماﺅں کو توانائی، تجارت، اقتصادی ترقی سمیت علاقائی استحکام اور دہشت گردی کے خاتمے کیلئے ٹھوس تعاون پر بات چیت کا موقع فراہم کیا۔ ہم مستحکم، پائیدار، محفوظ اور خوشحال پاکستان کے خواہاں ہیں۔ بعض معاملات پر دونوں ملکوں کے درمیان اختلافات بھی ہیں لیکن اسکے باوجود پاکستان امریکہ تعلقات میں مثبت پیشرفت جاری ہے۔ ترجمان نے کہا کہ یقیناً ہم ہر بات پر پاکستان کیساتھ اتفاق نہیں کرتے لیکن اختلافات کے باوجود جہاں ضروری ہو ہم ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان سکیورٹی اور انسداد دہشت گردی اور دیگر معاملات میں تعاون جاری ہے۔ نوازشریف اور صدر اوباما میں یہی اور دیگر امور زیر بحث آئے۔ واشنگٹن پوسٹ میں ڈرون آپریشن کے بارے میں چھپنے والی رپورٹ کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ سپیشل آپریشنل معاملات پر میں بات نہیں کرسکتا، میں آپ کو دوطرفہ تعاون اور انسداد دہشت گردی کے معاملات پر بتا سکتا ہوں، پاکستان کے ساتھ ہماری معمول کے مطابق بات چیت ہوتی رہتی ہے۔ انہوں نے اخبار نویسوں کو یاددہانی کراتے ہوئے کہا کہ پاکستان خود دہشت گردی کا شکار ہے اور جنوبی ایشین ملک کیلئے امریکی امداد کی اہمیت پر زور دیا۔ یہ بات انتہائی اہمیت کی حامل ہے کہ ہم پاکستان سمیت اپنے پارٹنرز کیلئے قریبی کام اور تعاون کریں۔
امریکہ