امریکہ اعلان کے بغیر ڈرون حملے بند کریگا‘ سال کے آخر تک کم ہو جائیں گے : سرتاج عزیز

امریکہ اعلان کے بغیر ڈرون حملے بند کریگا‘ سال کے آخر تک کم ہو جائیں گے : سرتاج عزیز

واشنگٹن + اسلام آباد (نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ امریکہ ڈرون حملے بند بھی کردے تو باضابطہ اعلان نہیں کریگا‘ ابھی ڈرون کی بندش کی کوئی حتمی تاریخ نہیں دی گئی‘ امید ہے رواں برس کے آخر تک حملے نمایاں طور پر کم ہوجائیں گے۔ افغانستان سے فوجی انخلاءامریکہ اور افغان حکومت کا باہمی معاملہ ہے‘ ہم اس پر رائے نہیں دے سکتے۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ امریکہ ڈرون حملوں پر پاکستان کا موقف سمجھ چکا ہے، امید ہے اس سال کے آخر تک ان حملوں میں واضح کمی آئیگی لیکن امریکہ کی جانب سے باضابطہ اعلان متوقع نہیں ہے۔ ڈرون حملوں کے معاملے پر وزیراعظم کے دورے سے پاکستان کا موقف اجاگر ہوا ہے اور اس معاملے پر اب بین الاقوامی سطح پر بات ہورہی ہے۔ ہم نے دوبارہ اپنے موقف کا اعادہ کیا ہے کہ یہ حملے نہ صرف پاکستان کی داخلی سلامتی‘ خودمختاری اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہیں بلکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فائدے کے بجائے نقصان د ہ ثابت ہورہے ہیں۔ امریکہ کو دنیا میں جہاں بھی ڈرون حملوں کی ضرورت پڑے وہ استعمال کریگا اسلئے کبھی بھی ڈرونز سے دستبردار نہیں ہوگا۔ حافظ سعید کیخلاف کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں، پاکستان انکے خلاف کوئی کارروائی نہیں کریگا۔ انہوں نے کہا پاکستان کو کچھ مسائل ورثے میں ملے ہیں۔ جن لوگوں کو آج دہشت گرد کہا جا رہا ہے وہ کل مغرب کے ہیرو اور مجاہدین تھے، اب سارا ملبہ پاکستان پر گرایا جا رہا ہے۔ حکومت آل پارٹیز کانفرنس کے فیصلوں کے مطابق طالبان کے ساتھ مذاکرات کی حامی ہے۔ امریکہ کو بھی پتہ ہے کہ طالبان کیساتھ مذاکرات کوئی سیدھا سادہ معاملہ نہیں ہے۔ ہم مذاکرات کو موقع دینا چاہتے ہیں۔ طاقت کا استعمال آخری آپشن ہوگا۔ طالبان کے ساتھ جلد مذاکرات شروع کئے جائینگے۔ پاکستان بھارت تعلقات پر انہوں نے کہا کہ امریکہ چاہتا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں بہتری آئے لیکن جب تک دونوں ممالک کے درمیان کشمیر جیسے بنیادی مسائل حل نہیں ہوجاتے تعلقات میں بہتری نہیں آ سکے گی۔ امریکہ کو اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے دہشت گردوں کو افغانستان سے پاکستان میں دھکیلا۔
سرتاج عزیز