ملک کے بیشتر علاقے شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں جس سے چوبیس گھنٹوں کے دوران سات افراد جاں بحق جبکہ درجنوں بے ہوش ہوگئے ۔

ملک کے بیشتر علاقے شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں جس سے چوبیس گھنٹوں کے دوران سات افراد جاں بحق جبکہ درجنوں بے ہوش ہوگئے ۔

لاہور سمیت ملک بھر میں شدید گرمی کی لہرجاری ہے جس سے بجلی کی طلب میں مزید اضافہ ہوگیا ہے اور شارٹ فال بڑھنے سے لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ بھی بڑھا دیا گیا ہے۔ جھلسا دینے والی گرمی اور ُلو کے باوجود مختلف شہروں میں آٹھ سے دس جبکہ دیہی علاقوں میں بارہ سے سولہ گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے۔ پیپکو حکام کے مطابق ملک میں بجلی کی پیداوار بارہ ہزار پانچ سو پچیس جبکہ ڈیمانڈ سولہ ہزار دو سو پانچ میگاواٹ ہے اس وقت ملک میں مجموعی طور پر شارٹ فال تین ہزار چھ سو اسی میگاواٹ تک پہنچ گیا  ہے۔ جس کے باعث لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ بڑھا دیا گیا ہے ۔  سندھ کے علاقوں  سبی ،لاڑکانہ ، نواب شاہ ، جیکب آباد اور گردونواح میں قیامت خیز گرمی کے دوران درجہ حرارت باون ڈگری سنٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جبکہ حیدرآباد ،ٹھٹھہ،لاڑکانہ ،سکھر،بدین اورگھوٹکی سمیت مختلف علاقوں میں بھی لوگوں کو گرم ترین موسم کا سامنا ہے ۔ پنجاب میں فیصل آباد ، ساہیوال ،شیخوپورہ ،سرگودھا ، ہارون آباد ،رحیم یارخان اور ملتان سمیت تمام چھوٹے بڑے شہروں میں گرمی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ساتھ لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ بھی بڑھا دیا گیا ہے جس سے نظام زندگی بری طرح متاثرہورہا ہے ۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں نصیر آباد، جعفرآباد ،سبی،جھل مگسی، بولان، تربت ،چمن اورپشین میں بھی  لوڈ شیڈنگ کے دورانیہ بڑھانے کی اطلاعات ہیں ۔ ادھر خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بھی عوام کو شدید گرمی کے ساتھ ساتھ طویل لوڈ شیڈنگ کا سامنا ہے ۔ لوڈ شیڈنگ اور شدید گرمی کے باعث کارروبار بری طرح متاثر ہورہے ہیں  ۔ واضح رہے کہ  لاہور سمیت اکثر شہروں میں گزشتہ روز جھلسا دینے والی گرمی کے باعث سات افراد جاں بحق اور درجنوں بے ہوش ہو گئے تھے جبکہ آج بھی ان علاقوں میں سورج آگ برسا رہا ہے ۔