عطاءآباد جھیل : مزید کئی علاقے خالی کرا لئے گئے‘ ہزاروں متاثرین حکومتی امداد کے منتظر

بشام/ گلگت/ ہنزہ/ عطا آباد (نامہ نگاران+ ایجنسیاں) عطاءآباد ہنزہ جھیل اور سپل وے میں 6فٹ کا فاصلہ برقرار ہے جبکہ جھیل ٹوٹنے کے ممکنہ خطرے کے پیش نظر ضلع کوہستان کے علاقے جیجال کے کئی علاقوں کو خالی کرا لیا گیا ہے جبکہ ہنزہ سے موصولہ اطلاعات کے مطابق علاقے بھر میں حفاظتی انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں اور سول انتظامیہ کی مدد کیلئے فوجی دستے بھی تعینات کر دئیے گئے ہیں۔ ادھر گلگت میں بھی حفاظتی انتظامات کو حتمی شکل دیتے ہوئے آغا خان ہسپتال بھی خالی کرا لیا گیا اور گورنمنٹ ہسپتال کژوٹ کی عمارت سے بھی اہم مشینیں ہٹاکر محفوظ مقامات پر منتقل کر دی گئی ہیں۔ بشام سے نامہ نگار کے مطابق جیجال سے نقل مکانی کرنے والے ہزاروں متاثرین بے سروسامانی کی حالت میں کھلے آسمان تلے پڑے حکومتی امداد کے منتظر ہیں۔ متاثرین نے کہا ہے کہ جھیل ٹوٹنے کی صورت میں یہاں کی ساری آبادی تباہ ہو سکتی ہے مگر حکومت صورتحال کی آگاہی کے باوجود خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ جی این آئی کے مطابق گرمی کی شدت سے گلیشیئر پگھلنے کے باعث عطاءآباد جھیل میں پانی کی سطح تیزی سے بڑھنے کا امکان ہے اور ہیلی کاپٹر سروس کے ذریعے سامان کی ترسیل اور متاثرین کی نقل مکانی جاری ہے جبکہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے کہا ہے کہ جھیل سے پانی کا اخراج آج سے شروع ہو سکتا ہے اور لینڈ سلائیڈنگ کا بھی خدشہ ہے۔ ماہرین کے مطابق پانی کل تک سپل وے تک پہنچ جائیگا۔ اے پی پی کے مطابق جھیل کے اردگرد کے علاقوں کو ریڈ زون قرار دیدیا گیا ہے۔ ادھر وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق نے متاثرین کیلئے 50لاکھ روپے امداد کا اعلان کیا ہے جبکہ خیبر پی کے وزیراعلیٰ امیر حیدر نے متاثرین عطا آباد جھیل کیلئے مزید خوراک اور امدادی سامان بھجوانے کی ہدایت کی ہے۔