شدید گرمی کی لہر جاری‘ مزید 7 جاں بحق‘ بدترین لوڈشیڈنگ سے شہری بے حال‘ پانی کی بھی قلت

لاہور/ شیخوپورہ/ پنڈی بھٹیاں (کامرس رپورٹر+ نمائندگان+ نامہ نگاران) ملک بھر میں شدید گرمی کی لہر جاری ہے۔ شیخوپورہ، ساہیوال، سرگودھا، بوریوالا ، ہارون آباد اوررحیم یار خان میں طالبہ سمیت 7افراد جاں بحق اور درجنوں بیہوش ہو گئے۔ سبی ،لاڑکانہ، نوابشاہ کا درجہ حرارت 52ڈگری سینٹی گریڈ ہو گیا۔ برف کی قیمت دگنی ہو گئی جبکہ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بھی 20گھنٹے تک پہنچ گیا جس سے شہری بے حال ہو گئے۔ کمالیہ میں شہریوں نے لوڈشیڈنگ کیخلاف مظاہرہ کیا۔ امتحانات میں مصروف طلبا کی تیاری متاثر ہونے لگی۔ صنعتی اور کاروباری سرگرمیاں ٹھپ ہو کر رہ گئیں۔ شہری پانی کیلئے بھی مارے مارے پھرتے رہے۔ لاہور سے کامرس رپورٹر کے مطابق ملک میں شدید گرمی میں بجلی کی قلت میں مزید 109 میگاواٹ کا اضافہ ہو گیا ہے اور اسکا حجم 3590 میگاواٹ سے بڑھ کر 3699 میگاواٹ تک پہنچ گیا ہے۔ صوبائی دارالحکومت کے بیشتر علاقوں کے رہائشیوں نے رابطہ کر کے بتایا کہ اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کے علاوہ تعمیر و مرمت کی آڑ میں 5 گھنٹے طویل بجلی کی بندش کی جا رہی ہے۔ جس سے ہمارا برا حال ہو گیا ہے۔ پیپکو ذرائع کے مطابق ملک میں بجلی کی پیداوار 12319 میگاواٹ رہی جبکہ طلب 16018 میگاواٹ تک پہنچ گئی ہے۔ پنڈی بھٹیاں، علی پور چٹھہ، بچیانہ سمیت دیگر شہروں میں قیامت خیز گرمی کے دوران بدترین لوڈشیڈنگ نے شہریوں کو زچ کرکے رکھ دیا۔ شدید گرمی کے باعث درجنوں شہری بیہوش ہو گئے جبکہ گیسٹرو کا مرض بھی بڑھنے لگا، مچھروں نے شہریوں کی نیندیں حرام کر دیں۔شیخوپورہ میں ہر گھنٹے یا آدھے گھنٹے کے بعد گھنٹہ لوڈشیڈنگ ہو رہی اور اوپر سے شدید گرمی نے شہریوں کو ہکلان کر کے رکھ دیا ہے۔ شدید گرمی اور چلچلاتی دھوپ کے باعث متعدد شہری بے ہوش ہو گئے۔