حکومتی اقدامات جمہوریت کیلئے خطرہ ہیں‘ عدالتی فیصلوں کو روندنے کی بجائے تسلیم کیا جائے : نوازشریف

مری (ریڈیو نیوز + مانیٹرنگ ڈیسک + وقت نیوز + ایجنسیاں) مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نوازشریف نے کہا ہے کہ حکومت عدلیہ کے فیصلوں کو پیروں تلے روندنے کی بجائے تسلیم کرے اور ان پر عملدرآمد یقینی بنائے‘ لٹیروں سے نجات دلائی جائے۔ قوم مزید انتظار کی متحمل نہیں ہو سکتی‘ حکومت ملکی مسائل حل کرنے میں تاخیر نہ کرے‘ حکمرانوں کی توانائیاں ملکی مسائل حل کرنے کی بجائے خود کو بچانے کے لئے استعمال ہو رہی ہیں۔ عوام کو این آر او زدہ وزیروں سے چھٹکارا دلایا جائے۔ مری میں مسلم لیگ (ن) کے مشاورتی اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے نوازشریف نے کہا قوم مایوسی کے اندھیرے میں ڈوب رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کفایت شعاری اپنا کر عوام کو ٹیکسوں سے چھٹکارا دلایا جائے اور آئندہ بجٹ میں کفایت شعاری اپنائی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئندہ بجٹ کو عوام دوست بنایا جائے اور توانائی کا بحران حل کیا جائے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ قانون کو نااہلی کے لئے استعمال کیا گیا۔ انہوں نے حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ عدلیہ کے فیصلوں کا احترام کرے اور عدلیہ کے فیصلوں کو پیروں تلے روندنے کے بجائے تسلیم کرے‘ اس موقع پر انہوں نے مطالبہ کیا کہ اکبر بگٹی قتل‘ 12 مئی کے واقعات میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی جائے اور کراچی‘ بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ کے ملزمان کو بے نقاب کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پی آئی اے‘ واپڈا‘ ریلوے‘ پاکستان سٹیل کو لٹیروں سے نجات دلائی جائے۔ مشاورتی اجلاس میں سردار مہتاب عباسی نے قومی اسمبلی کی رکنیت سے دیا گیا استعفیٰ واپس لینے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے موقف اختیار کیا کہ ہزارہ کی سیاست سے خود کو الگ نہیں رکھ سکتا استعفیٰ واپس نہیں لوں گا۔ این این آئی کے مطابق نوازشری نے کہا حکومت کے اقدامات جمہوریت کے لئے خطرہ ہیں‘ عدلیہ کے فیصلوں کو پیروں تلے روندنے کے بجائے ان پر عمل کیا جائے۔ این آر او زدہ وزرا سے چھٹکارا حاصل کیا جائے‘ ہم حکومت کے نہیں بلکہ جمہوریت کے ساتھ ہیں‘ قانون کی حکمرانی کو مقدم سمجھیں گے‘ عوامی مسائل پر توجہ دی جائے‘ بگٹی کے قاتلوں‘ سانحہ 12 مئی اور 3 نومبر 2007ءکے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے‘ آئندہ بجٹ عوام دوست بنایا جائے۔ جی این آئی کے مطابق نوازشریف نے کہا حکومت سوئس بنک میں ڈالروں کو تحفظ دینے میں مصروف ہے۔ آئی این پی کے مطابق نوازشریف نے کہا حکمرانوں کی توانائیاں ملکی مسائل حل کرنے کی بجائے اپنی بدعنوانیوں کے دفاع اور سوئس بنکوں میں رکھے ڈالروں کے تحفظ پر لگی ہوئی ہیں۔ موجودہ حکومت کے اقدامات یقیناً جمہوریت کے لئے خطرہ ہیں‘ موجودہ حکومت نے ماضی کی غلطیوں سے سبق نہیں سیکھا‘ ہم جمہوریت کے ساتھ ہیں نہ کہ حکومت کی بدعنوانیوں کے ساتھ۔ جمہوریت کے لئے بہت خواب دیکھے تھے لیکن سب چکنا چور ہو گئے‘ موجودہ حکومت نے بہت مایوس کیا‘ حکومت ملکی مسائل حل کرنے میں تاخیر نہ کرے‘ قوم مزید انتظار کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ اے پی پی کے مطابق نوازشریف نے کہا جب تک قانون پر اس کی روح کے مطابق عمل نہیں ہو گا ملک کو بحرانوں سے نجات نہیں دلائی جا سکتی، حکومت عدلیہ کے فیصلوں کا احترام کرے، بلوچستان اور سانحہ 12 مئی کے مجرموں کو گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جانی چاہئے، بدعنوانی کے خاتمے کیلئے غیر جانبدارانہ نظام قائم کرنا ہو گا، میثاق جمہوریت پر عمل کیا جائے، لاپتہ افراد کو بازیاب کرا کے ان کے خاندانوں کو اذیت سے نجات دلائی جائے، حکومت گڈ گورننس، آئین اور قانون کی حکمرانی، پارلیمنٹ اور عدلیہ کی بالادستی یقینی بنائے اور عوام کے حقیقی مسائل کے حل کی طرف سنجیدہ کوششیں کرے، بجٹ عوام دوست ہونا چاہئے۔